16 دسمبر آتا ہے تو میں سوچتا ہوں : یہ کیسے کیسے اوہام ہیں جو ہم نے پال رکھے ہیں؟ خوش گمانیوں اور تاریخی عمل سے لا علمی کا یہ کیسا حصار ہے جس نے ہمیں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے؟

مثال کے طور پر یہ واہمہ (myth) کہ پاکستان کا قیام ایک خدائی فیصلہ ہے۔ اس کی حفاظت بھی خدا کے ذمہ ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جو یہ کوشش کریں گے، عبرت کا نشان بنا دیے جائیں گے۔ حیرت یہ ہے کہ 16 دسمبر 1971 کے دن کو گزرے اڑتالیس سال ہو گئے، لیکن ہم اس واہمے سے باہر نہیں آئے۔ اپنے قائم شدہ مفروضے پر نظر ثانی کے بجائے، ہم بدستور دلائل تراشے جا رہے ہیں، وہ بھی تارِ عنکبوت جیسے۔ خود کو تسلی دیتے ہیں کہ بنگلہ دیش ہے تو مسلمانوں کا ملک۔ ہم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ مسلمانوں کا ملک ہونے کے باوجود، وہ پاکستان نہیں ہے۔

نہ صرف یہ کہ بنگلہ دیش پاکستان نہیں ہے بلکہ یہ نظریۂ پاکستان کی نفی پر قائم ہوا ہے۔ یہ بنگالی عصبیت کی اساس پر کھڑا ہے۔ اس کا قیام بھارت کی تائید و نصرت سے ممکن ہوا۔ خدا نے اگر پاکستان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہوتا تو اس کے 93 ہزار فوجی بھارت کی قید میں جاتے؟ خدا جب کسی کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے تو دنیا جہان کی قوتیں مل کر بھی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتیں۔ خدا نے اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اب دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے، اس کا ایک شوشہ تک تبدیل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے اپنے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تو انہیں تلواروں کے سایے سے نکالا اور پورے جزیرہ نمائے عرب کے اقتدار کو ان کے قدموں میں ڈال دیا۔

اگر ہم نے قیامِ پاکستان کی کوئی مذہبی تعبیر اختیار کرنی ہے تو اس کے لیے بھی قیاس کے گھوڑے دوڑانے اور مفروضے قائم کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ پاکستان کو ہم ایک نعمت قرار دے سکتے ہیں اور نعمت کے باب میں اللہ نے اپنی سنت دو اور دو کی طرح بتا دی ہے۔ یہ دنیا قانونِ آزمائش کے تحت بنائی گئی ہے اور ہر نعمت ایک آزمائش کے طور پر دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جب کچھ عطا کرتا ہے تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ اس نعمت کے قدردان بن کر، اس کے شکر گزار بندے بنتے ہیں یا اس کا انکار کرتے ہوئے، کفرانِ نعمت کرتے ہیں۔

خدا نے ایک ملک دیا اور اس کی حفاظت ہمیں سونپ دی۔ اس نعمت کا شکر اسی طرح ادا ہو سکتا تھا کہ ہم اس کی حفاظت کرتے۔ ہم نے اس نعمت کا انکار کیا۔ ہم نے اس کی حفاظت نہیں کی۔ ہم اس آزمائش میں ناکام ہوئے۔ ہم نے خدا اور بندوں کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس نے اس کا آدھا حصہ ہم سے چھین لیا۔  

بنی اسرائیل کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کے باب میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت دو اور دو چار کی طرح بیان کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی امامت عطا کی۔ جب انہوں نے اس کی قدر دانی نہ کی تو ان سے اس نعمت کو چھین لیا گیا۔ آج بھی بنی اسرائیل سے خدا کی کتاب یہی کہتی ہے کہ اگر وہ اللہ کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کریں گے، تو اللہ بھی ان کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ گویا ہر نعمت مشروط طور پر عطا ہوتی ہے۔ یہی معاملہ بنی اسماعیل کے ساتھ بھی ہے۔ جب تک انہوں نے وعدہ نبھایا، دنیا پر ان کا اقتدار قائم رہا۔ جب انحراف کیا تو یہ اقتدار ان سے چھن گیا۔ وہ مغلوبیت کے عذاب سے دوچار ہوئے اور انہیں دوسری اقوام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ جب بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے لیے یہ نعمت مشروط ہے، جن سے اللہ نے براہ راست وعدہ کر رکھا ہے، تو ہمارا معاملہ ان سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے، جن سے اس طرح کا کوئی براہ راست وعدہ بھی نہیں کیا گیا۔

اسی طرح کی ایک بڑی غلط فہمی، ہمیں تاریخ اور ریاست کے معاملے میں بھی لاحق ہے۔ ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ عسکری قوت ہی ہے جو کسی مملکت یا قوم کو متحد رکھتی ہے۔ 16 دسمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ مفروضہ بھی غلط ہے۔ یہ ایک قوم یا ملک کی سیاسی و سماجی وحدت ہے جو ریاستی وحدت کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اگر لوگوں کے درمیان فاصلے پیدا ہو جائیں اور ملک میں کوئی ایسی عوامی قوت موجود نہ ہو جو ان کے دلوں کو قریب لا سکے تو بڑی سے بڑی فوج بھی ممالک کو متحد نہیں رکھ سکتی۔  

1970-71ء میں ہمارے پاس ایک بڑی فوج تو موجود تھی لیکن کوئی ایسی عوامی قوت موجود نہیں تھی جو پورے ملک کو جمع رکھ سکتی۔ سیاسی وحدت کا ظہور جمہوریت میں ہوتا ہے۔ جب ملک میں جمہوریت نہ ہو اور سیاسی جماعتوں جیسے جمہوری اداروں کو کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو قومی وحدت سیاسی و ریاستی سطح پر متشکل نہیں ہو سکتی۔ جب طویل مارشل لا نے قومی، سیاسی جماعتوں کو پنپنیکا موقع نہ دیا اور ریاستی اکائیوں میں محرومی کا احساس بڑھنے لگا تو اکائیوں کی سطح پر سیاسی عصبیتیں منظم ہونے لگیں۔ یوں پاکستان میں کوئی ملک گیر سیاسی جماعت موجود نہیں تھی، جو سب کو ایک چھتری تلے متحد رکھ سکتی۔

1970ء کے انتخابات کا اعلان ہوا تو ملک واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکا تھا۔ مولانا مودودی نے اس وقت متنبہ کیا تھا کہ اگر انتخابات میں علاقائی جماعتیں کامیاب ہوئیں تو ملک قائم نہیں رہ سکے گا۔ یہی ہوا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کامیاب ہوئی اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی۔ مشرقی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی کوئی نمائندگی تھی اور نہ مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی۔ اس کا انجام وہی ہوا جس کی پیش گوئی مولانا مودودی نے کی تھی۔

اُس وقت فوج موجود تھی لیکن سیاسی وحدت موجود نہیں تھی۔ یوں ملک دو لخت ہو گیا۔ جس طرح تائیدِ خداوندی کے باب میں اللہ کی کتاب واضح ہے، اسی طرح سیاسی وحدت کے باب میں سیاسیات کا علم اور تاریخ دوٹوک اور واضح ہیں۔ 1989ء میں سوویت یونین بھی ایک بڑی فوج اور عسکری قوت رکھنے والی ریاست تھی۔ جب یونین میں سیاسی وحدت باقی نہیں رہی تو اس کے اجزا دنیا کے نقشے پر بکھر گئے۔ اللہ کی سنت اسلامی جمہوریہ پاکستان، یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلک اور باقی ساری اقوام کے لیے ایک ہی ہے۔ آج بھارت بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہے۔ وہ عوامی حمایت کے بجائے عسکری و فوجی قوت کے سہارے کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ پچاس سال کی اس کوشش کا انجام ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔

16 دسمبر 1971ء کے ٹھیک تینتالیس سال بعد، اسی تاریخ کو قدرت نے ہمیں ایک اور حادثے سے دوچار کیا۔ یہ دن بھی ہم سے کچھ واہموں اور مذہب و تاریخ کی غلط تعبیروں پر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ دن بھی پکار پکار کر اعلان کر رہا ہے کہ ہم نے جن مذہبی تعبیرات کو اختیار کیا اور تاریخی عمل کو جس طرح سمجھا، وہ سوئے فہم کے سوا کچھ نہیں۔

ہم نے پہلے اپنی کچھ خواہشوں کو ایک مقدمے کی صورت دی اور پھر اس کے لیے دینی دلائل تراشے اور تاریخ کو مسخ کیا۔ ہم نے دینی ادب سے جہاد اور قتال جیسی اصطلاحیں لے لیں لیکن ان کا مفہوم اپنی خواہشات سے طے کیا۔ خود کو اللہ کی آیات کے تابع بنانے کے بجائے انہیں اپنی خواہشات کے تابع کرنا چاہا۔ آج انجام ہمارے سامنے ہے۔ اللہ کی بات یقیناً سچی ہے۔ یہ ہم ہیں جو سوئے فہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔

16 دسمبر اس قوم کے لیے یومِ تذکیر ہے۔ یہ یاد دہانی کا دن ہے کہ ہم نے الہامی ہدایت اور تاریخی عمل کو سمجھنے میں کس طرح غلطی کی۔ کاش ہم اس دن کو اسی عنوان سے منا سکیں، میں اگرچہ اس کا کوئی امکان نہیں دیکھ رہا۔ اگر آج بھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی حفاظت اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے اور کوئی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا یا پھر تاریخی عمل ہماری خواہشات کے تابع ہے تو کیسی یاد دہانی اور کیسا یومِ تذکیر؟