میاں صاحب! سڑکیں بنائیں‘ سڑکیں- خالد مسعود خان-11 فروری 2018

3

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میاں شہبازشریف کو ایک بار پھر یاد آ گیا کہ زرداری لٹیرا ہے۔

بہرحال یہ محض اتفاق ہے کہ انہیں یہ بات پچھلی بار بھی الیکشن کے قریب یاد آئی تھی اور اس بار بھی الیکشن کے قریب ہی یاد آئی ہے۔ درمیان کے ساڑھے چار‘ پونے پانچ سال مفاہمت اور میثاق جمہوریت کو نبھانے میں گزر گئے۔ پچھلی بار تو میاں شہبازشریف نے زرداری صاحب کو کراچی‘ لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹنے کے بلندبانگ دعوے والی زوردار تقریر کی تھی لیکن جونہی الیکشن اختتام پذیر ہوئے‘ اقتدار مسلم لیگ نون کو ملا۔ فوراً ہی مفاہمت کے ساتھ اگلے پانچ سال حکومت کرنے کی لالچ میں سب کچھ بھول گئے۔

ممکن ہے اب بھی بھولے رہتے مگر قبلہ زرداری صاحب نے لاہور کے جلسے میں میاں نوازشریف کو باقی تو جو کہا‘ سو کہا‘ انہیں ”ناسور‘‘ تک قرار دے دیا۔ اب جب معاملہ میاں نوازشریف صاحب کی عزت کا آ جائے تو پھر پوری نون لیگ کمر کس کر ان کی عزت پر انگلی اٹھانے والوں کی طبیعت صاف کرنے پر آ جاتی ہے۔ میاں شہبازشریف کے لیے تو یہ گھر کا معاملہ ہے اور ویسے بھی وہ آج کل میاں نوازشریف کے سامنے پوری طرح نمبر ٹانکنے میں مصروف ہیں کہ شاید اگلے وزیراعظم کے لیے قرعہ فال ان کے نام کا نکل آئے۔ تاہم میاں نوازشریف کے حالیہ جلسوں میں جو صورتحال نظر آ رہی ہے‘ یہ ہے کہ وہ مریم بی بی کو اپنے سیاسی جانشین کے طور پر پوری طرح متعارف کروا رہے ہیں اور اس کی عوامی سیاست کے سلسلے میں تربیت بھی فرما رہے ہیں۔ ایسے میں میاں شہبازشریف کے اپنی متوقع وزارتِ عظمیٰ کے بارے میں ڈر‘ خوف اور تحفظات خاصے درست ہیں۔

ساری مسلم لیگ نون کو سوائے میاں نوازشریف کی خوشنودی حاصل کرنے کے نہ کوئی کام ہے‘ اور نہ ہی پروا۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگیوں کو میاں نوازشریف کی عزت محترم ہستیوں سے بھی زیادہ عزیز ہے کہ میاں نوازشریف کے معاملے میں ساری مسلم لیگ نون اپنی اپنی بولیاں بولنا شروع کر دیتی ہے اور اُن ہستیوں کے معاملے میں ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ ان کے منہ میں زبان اس وقت آتی ہے جب عوام کے غیظ و غضب کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ تبھی ساری صفائیاں دی جاتی ہیں اور تبھی حلف نامے دیئے جاتے ہیں۔

میاں شہبازشریف کو زرداری صاحب پر تقریباً پانچ سال بعد تائو آیا ہے‘ جب دونوں پارٹیاں ایک بار پھر الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے والی ہیں۔ گزشتہ الیکشن سے پہلے والی میاں شہبازشریف کی تقریر نے انہیں خاصا خوار کیا تھا‘ اور اس پر بڑے عجیب و غریب ویڈیو کلپس سوشل میڈیا میں لوگوں کی تفننِ طبع کا باعث بنتے رہے۔

میاں شہبازشریف نے اپنی تقریر میں کہا ”اگر ہم نے انتخابات کے بعد زرداری کو لاڑکانہ‘ کراچی‘ پشاور اور لاہور کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہبازشریف نہیں‘‘ اس پر ایک ”اینی میٹڈ‘‘ کلپ تھا کہ زرداری صاحب ایک معذور فقیروں والی چھوٹی سی ریڑھی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور میاں شہبازشریف ان کی اس ریڑھی کو سڑکوں پر دھکیل رہے ہیں۔ پھر اگلے پونے پانچ سال تک نہ میاں شہبازشریف نے زرداری صاحب کو سڑکوں پر گھسیٹا اور نہ ہی اپنا نام تبدیل کیا۔

پہلے پہل میرا خیال تھا کہ شاید میاں شہبازشریف اپنا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘ مگر پھر خیال آیا کہ یہ تو زرداری صاحب کو سڑکوں پر گھسیٹنے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی ساری تعلیمی اسناد پر اپنا نام تبدیل کروائیں گے بلکہ اصل مصیبت یہ پیش آئے گی کہ وہ پوری دنیا میں ”میاں شہبازشریف‘‘ کے نام سے مشہور ہیں‘ اور نئے نام کو دوبارہ اتنا مشہور کرنا واقعتاً بہت ہی مشکل کام ہے اور وہ اس زندگی میں یہ کام نہ کر پائیں گے۔ ویسے نام کے معاملے میں ملتان میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا۔

ملتان کے ایک بڑے نامور اور مشہور شاعر کا ہم نام ایک خاصا کمزور شاعر منظر عام پر آ گیا۔ اس کمزور سے مراد صحت کے حوالے سے کمزور ہونا نہیں‘ بلکہ بطور شاعر کمزور ہونا ہے۔ خیر اب اس نئے نومولود اور پتلی حالت والے شاعر نے اس نامور اور نہایت ہی عمدہ شاعر کا پورے کا پورا نام ہی کاپی کر لیا۔ اخبارات میں اور چھوٹے موٹے مشاعروں میں اسی نام سے شرکت اور اپنی غزلوں وغیرہ کی اشاعت شروع کر دی۔ ایک روز اس کا سامنا اپنے ہم نام بڑے شاعر سے ہو گیا۔

انہوں نے نہایت پیار اور محبت سے اس نوآموز شاعر سے کہا کہ برخوردار! آپ نے ہمارا پورے کا پورا نام مع تخلص اختیار کر لیا ہے‘ اس سے لوگوں کو کنفیوژن ہو رہی ہے‘ آپ کم از کم اپنا تخلص ہی کچھ اور رکھ لیجئے تاکہ ناموں کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمی رفع ہو سکے۔ اس نوآموز شاعر نے آگے سے بڑا مزیدار جواب دیا۔ کہنے لگا: سر جی! میں تو اب اس نام سے تھوڑا بہت مشہور ہو گیا ہوں اور میرے جیسے نئے شاعر کے لیے اب نام بدلنا ممکن نہیں رہا۔ آپ کا کیا ہے؟ آپ بڑے اور نامور شاعر ہیں۔ آپ تو جو نام بھی رکھیں گے‘ مشہور ہو جائیں گے۔

میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنا نام بدل لیں‘ آپ کو تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا‘ اگر میں نے نام بدل لیا تو میری شہرت بالکل تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔

میاں شہبازشریف نے تازہ ترین بیان ملتان شریف میں دیا۔ آپ بطور وزیراعلیٰ پنجاب تقریباً تقریباً مہمان ہی ہیں۔ گیارہ مئی 2018ء کو اس اسمبلی کا وقت پورا ہو جائے گا اور وہ فارغ ہو جائیں گے۔ یعنی میاں شہبازشریف کے پاس اب دو چار دن زیادہ تین ماہ ہیں۔ وہ ملتان آ کر کچھ پرانے پروجیکٹس کا افتتاح اور کچھ نئے منصوبوں کا اعلان کر گئے ہیں۔ نئے منصوبوں کا اعلان ایک پنجابی محاورے کے مطابق ”گونگلوئوں‘‘ سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے۔ جب ان کے پاس منصوبے مکمل کرنے اور پیسے لگانے کا وقت تھا‘ تب انہوں نے اٹھائیس ارب روپے ملتان کی میٹرو پر ضائع کر دیئے۔ جی ہاں! ضائع کر دیئے۔

اس کی حقیقت میں بارہا بیان کر بھی چکا ہوں اور اب تازہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر ایک علیحدہ کالم دو چار روز میں پھر لکھ ماروں گا کہ دل کے پھپھولے جلانے کا اب ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔

جو منصوبے انہوں نے مکمل کرنے تھے‘ وہ انہوں نے وقت پر شروع کر لیے اور اپنے دورِ حکومت کے اختتام سے قبل مکمل بھی کر لیں گے‘ جیسے عبدالحکیم لاہور موٹروے اور لاہور کی اورنج لائن ٹرین۔ رہ گیا ملتان! تو اس کے لیے اب سب کچھ وعدۂ فردا ہے۔ محبوب کا وعدہ۔ بھلا اب نشتر II کے اعلان کا فائدہ؟ جناب خود تو دس مئی کو رخصت ہو رہے ہیں۔

ان تین ماہ میں تو ان منصوبوں کے لیے چار آنے بھی منظور نہیں ہونے۔ جس برن یونٹ کا انہوں نے افتتاح فرمایا ہے وہ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں حکومتِ اٹلی کے تعاون سے مکمل ہو چکا تھا۔ جنرل (ر) افضل مظفر نے اس پراجیکٹ کے لئے درکار زمین کا حصول ممکن بنایا۔ 2005ء میں یہ پراجیکٹ شروع ہوا اور چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں اس کی عمارت مکمل ہو گئی۔ 2008ء میں میاں شہبازشریف پنجاب میں برسراقتدار آ گئے۔ پھر اس کے آپریشنل ہونے میں‘ مشینری آنے میں پانچ چھ سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا۔

اٹھائیس ارب کا میٹرو پراجیکٹ مئی 2015ء میں شروع ہوا‘ اور جنوری 2017ء میں مکمل ہو گیا‘ یعنی دو سال سے کم عرصہ میں۔ یہ ہے میاں صاحب کی ترجیحات کا معیار۔ باقی پراجیکٹس کا بھی یہی حال ہے۔

نشتر ہسپتال گزشتہ چھ عشروں سے پورے جنوبی پنجاب خیبر پختونخوا سے ملحقہ علاقوں اور بلوچستان کے لورالائی ڈویژن کے مریضوں کے اس پورے خطے میں واحد Tertiary Care Hospital ہے۔ اب چونسٹھ سال بعد ملتان میں اس درجے کا دوسرا ہسپتال بنانے کا خیال آیا‘ اور وہ بھی تب جب رخصتی میں تین ماہ رہ گئے ہیں اور ڈرامہ ہو رہا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ منتخب ہونے کا موقع ملا تو وہ یہ ہسپتال ایک سال میں بنا دیں گے۔ میاں صاحب! گزشتہ پانچ سال میں آپ کیا کرتے رہے ہیں؟ آپ کی ساری توجہ میٹرو اور سڑکیں تھیں ہسپتال نہیں تھے۔ خواتین آپ کی بنائی ہوئی اعلیٰ درجے کی سڑکوں پر بچے جنم دیتی رہی ہیں۔ غالباً آپ نے سڑکوں کی اسی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہسپتالوں کے بجائے مزید سڑکیں بنانے پر زور دیئے رکھا تھا۔ ہسپتالوں پر لعنت بھیجیں۔ میاں صاحب! سڑکیں بنائیں۔ سڑکیں۔

Comments

Loading...