Sohail Warraich Article-China Se Seekhen – 6 Jan 2018

2
سہیل وڑائچ کالم–فیض عام 
تحریر: چین سے سیکھن 

چین کی تیز رفتار ترقی اور بین الاقوامی سفارتکاری، دنیا بھر کے لئے چیستان یا معمے کی حیثیت رکھتی ہے۔ چینی چیستان کے رازوں کو سمجھنا اس لئے مشکل ہے کہ وہ معاشرہ صدیوں سے مشرقی دانش کے موتیوں سے مالامال ہے۔ کنفیوشس اور پھر ریاضی دان جنرل سن زو نے جنگ اور امن کے لئے ایسے اصول وضع کئے جو اب چین کی امن پسندانہ تجارتی پالیسی اور جنگ سے مسلسل گریز میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز ٹویٹ کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ چینی فلاسفر سن زو کی کتاب ’’فن حرب‘‘ (The Art of War) سے اکتساب فیض کریں چین سے سیکھنے میں سراسر فائدہ ہے۔
سن زو کہتا ہے کہ ’’عقل مند رہنما ہمیشہ فوائد اور نقصانات دونوں کا جائزہ لیتا ہے‘‘ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر دوست بے وقوف ہیں جبکہ ہمارا دشمن بھی دانا نہیں ہے۔ بڈھ بیر کے واقعہ پر روسی وزیر اعظم کوسیجن نے پشاور پر سرخ دائرہ لگایا تو ہم پریشان نہیں ہوئے کیونکہ بڑی سپر پاور امریکہ ہماری پشت پر تھی اس بار امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی آمیز ٹویٹ کیا ہے تو بحران بڑھتا ہوا لگ رہا ہے۔ 70سالہ تاریخ میں اس قدر خوف ناک، تشویش ناک اور خطرناک مرحلہ کبھی نہیں آیا۔ اس وقت ہمیں دنیا کی کسی بھی ’’جنگ جو‘‘ طاقت کی حمایت حاصل نہیں ہے چین ہمارا ’’یار‘‘ ہے مگر وہ امن پسند ہے۔ سن زو کے قول کے مطابق جنگ کے فوائد اور نقصانات دونوں کا جائزہ لیتا ہے اور پھر اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ امن سے ترقی اور تجارت کو فائدہ پہنچتا ہے اس لئے یہی راستہ بہتر ہے۔
ٹرمپ سن زو کا نہیں، تہذیبوں کے تصادم کے مصنف سیمیول ہنٹنگٹن کا طالب علم لگتا ہے۔ سن زو تو کہتا ہے کہ ’’کسی بھی حکمران کو غصے کے دوران اپنے جرنیل کو ہتھیار اٹھانے کا حکم نہیں دینا چاہئے۔‘‘ ٹرمپ دانا ہوتا تو نہ غصے میں یہ ٹویٹ کرتا اور نہ دھمکی دیتا۔ اس قول میں ان سب کے لئے پیغام ہے جو غصے میں فیصلے کرتے ہیں چاہے وہ پاکستان کے سیاستدان ہوں یا فوجی جرنیل یا پھر امریکی حکمران، غصے کو ٹھنڈا رکھیں پھر فیصلے کریں۔
سن زو کا مشہور قول ہے جب ’’فتح کا یقین نہ ہو تو اپنے دفاع کو مضبوط کیجئے‘‘ کاش دشمن دانا ہوتا تو کبھی دھمکی نہ دیتا، کلنٹن اور بش کی طرح ہمیں برداشت کرتا زیادہ ناراض ہوتا تو لاتعلق ہو جاتا، بل کلنٹن کی طرح نشری تقریر کر کے سمجھاتا کہ پاکستان کی پالیسی ٹھیک نہیں۔ ٹرمپ نے شاید ان پاکستانی انتہا پسندوں کے بیانات سن لئے ہیں جو روز امریکہ کو للکارتے ہیں، جو جوش جہاد میں امریکہ کو پدی کا شوربہ قرار دیتے رہے ہیں۔ یہ سالہا سال سے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کرتے رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو ظاہر ہے فتح کا یقین نہیں ہے تو سن زو کے مطابق اپنے دفاعی بیانیے کو درست کریں۔ امریکہ کو ہماری جن چیزوں پر اعتراضات ہیں انہیں کھول کر بیان کیا جائے جہاں اصلاح کی ضرورت ہو بیانیے اور پالیسی دونوں کو بدلا جائے۔
چین سے سیکھا جائے تو سن زو کہتا ہے ’’ہر طرح کی صورتحال کے لئے تیار رہنے سے فتح یقینی ہوتی ہے۔ ‘‘ صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ہمیں بھی ہر طرح سے تیار رہنا چاہئے۔ دفاعی تیاری اپنی جگہ ہے اصل تیاری اتحاد کی ہے۔ اگر قوم متحد ہو اور قوم کے ساتھ سچ بولا جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔ چرچل کے بقول عدالتیں انصاف دیں تو قوم جنگ نہیں ہار سکتی۔ اسی طرح ملک کو سیاستدان چلائیں وہی جنگ اور امن کا فیصلہ کریں کیونکہ مشہور مقولہ ہے ’’جنگ اس قدر سنجیدہ کاروبار ہے کہ اسے صرف جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘‘ اصل میں جنگ صرف فوج نے نہیں بلکہ پوری قوم نے لڑنی ہوتی ہے اسی لئے جنگ کا فیصلہ نہ صرف ٹرمپ کو اور نہ کسی جرنیل کو بلکہ پوری قوم کو کرنا چاہئے۔
چین سے سیکھنا ہے تو سن زو کا یہ قول یاد رکھنے کے قابل ہے ’’اصل کامیابی یہ ہے کہ ایسے حربے اختیار کئے جائیں کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی دشمن کو شکست ہو جائے‘‘ اس معاملے میں دبائو کا سب سے موثر ذریعہ امریکی ذرائع ابلاغ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے بہترین مقررین اور باخبر ماہرین کو فوراًامریکہ بھیجا جائے اور وہ وہاں جا کر پاکستانی بیانیے کو پیش کریں وہاں موجود تحفظات اور اعتراضات کا شافی جواب دیں اگر ہم یہ کر لیں تو سن زو کے قول کے مطابق ہم جنگ لڑے بغیر ہی یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ یہ آسان راستہ ہے مگر اس سارے عمل کو کرنا مشکل ہو گا کون ایسے تجربہ کار لوگوں کا انتخاب کرے اور کون انہیں امریکہ بھیجے۔ یہاں ہر کوئی اپنے حال اور خیال میں مست ہے کسی کو ملک کی کیا پڑی کہ وہ اس قدر تکلیف کرے۔
سن زو کا خیال ہے کہ دشمن کے کمزور ترین پہلو پر وار کرو اور فوراً کرو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں صدر ٹرمپ کو اس گُر کا پتہ نہ چل گیا ہو اور وہ ہماری فرقہ وارانہ اور سیاسی تقسیم کی کمزوریوں سے فائدہ نہ اٹھا لے۔ کہا جاتا ہے کہ آج کل ہمارا کمزور ترین بازو بلوچستان ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن اسی کمزور پہلو پر بار بار حملہ کرتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم اس کمزور پہلو کو مضبوط کرتے، مزید سیاسی آزادی دیتے مگر اس بحرانی صورتحال میں سرفراز بگٹی صاحب کی سربراہی میں تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے۔ سرفراز بگٹی عرصہ دراز سے بلوچستان میں قومی بیانیے کے ترجمان اور نشان بنے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک کا کیا مطلب سمجھا جائے؟ کیا ایسے موقع پر بھی کچھ حلقے فروری میں حکومتوں کے خاتمے کے مشن پر ہی عمل پیرا ہیں اور پہلے مرحلے کے طور پر اس کا آغاز بلوچستان سے کیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یقین کر لیجئے قومی وحدت نہیں ہو گی اور ہم مزید انتشار کا شکار ہوں گے۔
سن زو کی باتیں اب ضرب المثل ہیں یہ صرف حربی فنون کا احاطہ نہیں کرتیں بلکہ فن حکمرانی کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جیسے کہ سن زو کی یہ بات کہ ’’وہ جرنیل جو دشمن کا کم تخمینہ لگاتا ہے بالآخر گرفتار ہوتا ہے‘‘ ہمارے سیاسی قائدین اور فوجی جرنیلوں کو یہ کلیہ اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ کسی بھی مقابلے میں مخالفین کو انڈر اسٹیمیٹ (Under Estimate)کرنے کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ میاں نواز شریف نے سن زو کو پڑھا ہوتا اور اس کا یہ کلیہ ذہن میں رکھا ہوتا تو نہ نااہل ہوتے اور نہ یہ توقع کرتے کہ عدلیہ ان کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اسی طرح اگر جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان اپنے دشمن کا درست اندازہ لگاتے تو آج پاکستان زیادہ بڑا اور زیادہ خوشحال ملک ہوتا۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو اپنے مخالفوں کی طاقت کا غلط اندازہ نہ لگاتے اور جنرل ضیاء الحق کے عزائم کا صحیح اندازہ لگا لیتے تو ان کا تختہ نہ الٹا جاتا۔ ہمیں بھی ٹرمپ کے عزائم کا صحیح اندازہ لگانا چاہئے اسے انڈر اسٹیمیٹ نہ کریں اسی طرح سیاسی انتشار کے سنگین نتائج کا بھی غلط اندازہ نہ لگایا جائے۔ ٹرین ایک دفعہ پٹری سے اتر جائے تو پھر اسے دوبارہ پٹری پر لانے میں وقت لگتا ہے۔ سیاست اور جمہوریت کو حادثہ پیش آ جائے تو پھر برسوں تک نئی سیاسی فصل اور لیڈر شپ نہیں بن پاتی۔ ملک اور ریاست بے پتوار ہو جاتے ہیں تب ملک کمزور ہو جاتے ہیں۔ ہاں اگر جمہوری پودا مضبوط ہو، لیڈر شپ جہاندیدہ ہو، فوج چوکنا ہو تو پھر اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔


Comments