Saudia Arabia And UAE New VAT Tax

سعودی عرب اور امارات میں نیا ٹیکس عائد

60

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 2018 کے آغاز پر پہلی دفعہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (وی اے ٹی) متعارف کرا دیا گیا ہے جس کے تحت عام اشیا اور سہولتوں پر اب پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ سعودی عرب نے ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی 127 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

خلیجی ممالک میں بیرون ملک سے کام کرنے کے لیے آنے والوں کے لیے ایک بڑی ترغیب وہاں کے ٹیکس فری قوانین ہیں لیکن تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکومتیں ذرمبادلہ میں کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈ رہی تھیں۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کے اندازوں کے مطابق وی اے ٹی کی مدد سے تین ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی ملے گی۔

نئے قوانین کے تحت اب پیٹرول، ڈیزل، کھانے پینے کی اشیا، کپڑے، یوٹیلیٹی بلز اور ہوٹلوں میں کمرے بک کرنے پر وی اے ٹی لاگو ہوگا البتہ طبی سہولیات، بینکنگ سہولیات اور عام آمدو رفت کی سہولیات اس ٹیکس سے مستشنیٰ ہوں گی۔

آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی ادارے ایک طویل عرصے سے خلیجی ممالک پر صرف تیل سے ملنے والی آمدنی پر انحصار کرنے کے علاوہ آمدنی کے مزید ذرائع ڈھونڈنے پر زور دے رہے تھے۔

سعودی عرب نے ٹیکس کے ساتھ ساتھ پیٹرول کی قیمت میں بھی 127 فیصد اضافہ کر دیا ہے

سعودی عرب کی قومی آمدنی کا 90 فیصد تیل کی بدولت آتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کی قومی آمدنی کا 80 فیصد بذریعہ تیل ملتا ہے۔

ان دونوں ممالک نے اس سلسلے میں اور بھی کئی اقدامات کیے ہیں۔

سعودی عرب اس سے پہلے ملک میں تمباکو اور مشروبات پر ٹیکس عائد کر چکا ہے جبکہ مقامی آبادی کو ملنے والی سبسڈی میں بھی کمی کر دی تھی۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا جا گیا ہے اور سیاحتی ٹیکس بھی لاگو کیا گیا ہے۔

لیکن ان ممالک کا تنخواہوں پر ٹیکس لاگو کرنے کا فی الوقت کوئی ارادہ نہیں ہے۔

خلیجی ممالک کی تنظیم جی سی سی کے دوسرے رکن ممالک جیسے بحرین، کویت، اومان اور قطر نے بھی کہا ہے کہ وہ وی اے ٹی متعارف کرائیں گے لیکن یہ اب 2019 تک کیا جائے گا۔