فلسطین نے پاکستان میں تعینات اپنے سفیر ولید ابوعلی کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی موجودگی میں دفاع پاکستان کونسل کے جلسے میں شرکت پر وطن واپس بلا لیا۔

فلسطین کی وزارت خارجہ کے بیان میں حافظ سعید کا نام لیے بغیرکہا گیا ہے کہ’وزارت خارجہ یہ سمجھتی ہے پاکستان میں ہمارے سفیر نے ریلی میں یروشلم سے یک جہتی کے لیے شرکت کی تھی اور وہاں دہشت گردی کے مبینہ حامی کسی شخص کی موجودگی میں شرکت غیر ارادی غلطی تھی لیکن اس کی کوئی توجیح نہیں’۔

فلسطینی وزارت خارجہ کا بیان
فلسطینی وزارت خارجہ کا بیان

وزارت خارجہ کے مطابق ‘فلسطینی ریاست کے صدر کے احکامات کی روشنی میں’ سفیر کو پاکستان سے واپس بلانے کے فیصلے کا اطلاق فوری ہوچکا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی سفیر ولید ابوعلی نے گزشتہ روز راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے منعقدہ ‘تحفظ بیت المقدس کانفرنس’ میں شرکت کی تھی جہاں ان کے برابر میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید بھی براجمان تھے۔

حافظ سعید کی 300 روز کی طویل نظری بندی کو گزشتہ ماہ عدالت کے حکم کے بعد ختم کردی گئی تھی جبکہ ان پر بھارت کی جانب سے 2008 میں ممبئی حملوں کا الزام عائد کیا گیاتھا جہاں 166 افراد ہلاک ہوئے۔

بھارت اور امریکا دونوں حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کی درخواست مسترد

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی جانب سے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ بھارت کی جانب سے دفاع پاکستان کونسل کی ریلی میں موجودگی پر شدید تشویش کے بعد کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے بھی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطین نے’واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے سفیر کی ریلی میں موجودگی کا سختی سے نوٹس لے رہے ہیں’۔

فلطسینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین اقوام متحدہ میں یروشلم کے حوالے سے امریکی صدر کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے پیش کی گئی قرار داد کے حق میں ووٹ دینے کے بھارتی فیصلے کو ‘زبردست خراج تحسین پیش’ کرتا ہے۔

بیان کے مطابق ‘ریاست فلسطین دہشت گردوں کے خطرے کے خلاف اقدامات میں بھارت کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ ہماری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حقیقی حصہ دار ہے’۔

دفتر خارجہ کا وضاحتی بیان

پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے متنازع فیصلے کے بعد پاکستان میں متعدد ریلیاں نکالی گئیں اور فلسطینی سفیر ان عوامی اجماعات میں کئی بارشرکت کرچکے ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز منعقدہ اجتماع بھی فلسطینیوں کی حمایت کا ایک مظہر تھا جہاں مختلف مکاتب فکر کے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ یکجہتی کے اجتماع میں فلسطینی سفیر کی بھرپور شرکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حافظ سعید سمیت 50 سے زائد مقررین نے اس اجتماع سے خطاب کیا تھا۔

کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی کے تاثر کو رد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے حوالے سے غلط تاثر پھیلایا جارہا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی جانب سے آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

دفاع پاکستان کونسل کا کشمیراورفلسطین کی آزادی کیلئے تحریک کا اعلان

یاد رہے کہ دفاع پاکستان کونسل کی کانفرنس میں کشمیر اور فلسطین کی آزادی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

حافظ سعید نے اپنے خطاب میں کہا تھا ک ہبھارت اور اسرائیل نے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے جس کا سربراہ امریکا ہے۔

بیت المقدس کو اسلامی دنیا کا دل قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ‘ٹرمپ نے نہ صرف فلسطین بلکہ اسلام کے خلاف بھی جنگ چھیڑ دی ہے، امریکا کو جنگ سے باز رہنا چاہیے کیونکہ وہ خود اپنی بربادی کا ذمہ دار ہے اور امریکا کی بالادستی کو یروشلم میں دفنا دیا جائے گا’۔

فلسطینی سفیر ولید ابو علی نے فلسطین سے محبت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ‘پاکستان اسلام اور مسلمانوں کو بازو ہے، فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے زبردست حمایت کے باعث ہم تنہائی محسوس نہیں کرتے تاہم ہمیں مسجدالاقصیٰ کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے’۔