اوریا مقبول جان کالم -دانش فروشی آئیں تاریخ مرتب کریں

حامد میرسے میں اس دن سے محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے اسے بیت اللہ، منیٰ، عرفات اورروضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے روبروایک صاحبِ ایمان اورعاشقِ رسول کی حیثیت سے دیکھا ہے. میدانِ عرفات میں‌ عصرسے مغرب کا وہ وقت جب ہرکسی کواپنی مغفرت کی دعاؤں کا لالچ ہوتا ہے، اہل وعیال اوردوستوں کی زندگی اورآخرت کی بہتری کے لیے گڑگڑارہا ہوتا ہے، ایسے میں میرے ساتھ کھڑے ہوئے حامد میرنے کان میں‌انتہائی لجاجت سے کہا، عافیہ صدیقی کے لے ضروردعا کریں. یہ لمحہ میرے لیے ناقابل بیان ہے، اس کا قد میری نظروں میں اتنا بلند ہوگیا کہ میں خودایسی بے غرضی کی تمنا کرنے لگا. وہ ایک سکہ بند صحافی ہے اورمیں “گھس بیٹھیا” ہوں جواس کے نزدیک ان بے شمار ریٹائرڈ بیوروکریٹس اورجرنیلوں کی طرح وادی صحافت میں گھس آیا ہے. وہ ایسے تمام افراد کومطعون سمجھتا ہے. مجھے یہ طعن وتشنیع بہت عزیزہے کیونکہ میں نے اپنی نوکری کے آخری سترہ سال جودراصل آدھی بہترین نوکری ہوتی ہے جس میں بیوروکریٹ اعلیٰ مناصب اورشاندارمراعات یافتہ زندگی کے لیے تمام تراخلاقیات بھی قربان کردیتے ہیں، میں نے پرویزمشرف، امریکہ، گیارہ ستمبر، طالبان، لال مسجد اوراکبربگٹی جیسے موضوعات پرقلم اٹھایا اوراس کی پورے سترہ سال سزائیں بھگتیں. مجھے کھڈے لائن لگانے، مجھ سے مراعات چھیننے، انکوائریاں کرنے، باربارپروموشن روکنے اوراذیت دینے میں پرویز مشرف، زرداری اورنوازشریف حکومتوں نے برابرکا حصہ ڈالا اورمجھے اس پرکسی سے کوئی گلہ نہیں. کیونکہ یہ طوق میں نے خود پہنا تھا اورمجھے حامد میرسے بھی کوئی گلہ نہیں کہ جومجھے بھی ان تمام “گھس بیٹھیوں” میں شامل کرتا ہے جن میں ریٹائرڈ بیوروکریٹس اورجرنیل نہیں، بلکہ حاضرسروس سرکاری ملازم، پروفیسراوربیوروکریٹ شامل ہیں. مجھے اس سے حسنِ ظن ہے کہ وہ سب کوایسا نہیں کہ سکتا کیونکہ اس کے والد محترم وارث میرصاحب اگرچہ صحافت کے استاد تھے لیکن سرکاری پنجاب یونیورسٹی کے ملازم ہوتے ہوئے ان پروہ سارے قوانین لوگو تھے جوایک سرکاری ملازم پرہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی وہ آزادی اظہار کی شمع روشن رکھتے ہوئے کالم لکھتے رہے، اگرچہ یونیورسٹی کے قوانین عام سرکاری ملازمین پرلوگوقوانین سے کہیں زیادہ سخت ہوتے ہیں اورمجھے پانچ سالہ یونیورسٹی کی ملازمت میں اس کا تجربہ ہے، لیکن وارث میرصاحب کوکسی قسم کی سرکاری ملازمت کی مجبوری حق گوئی سے نہ روک سکی.

میرے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہرکوئی اپنے گروہ، قوم، قبیلے، برادری اورپیشے سے وابستہ افراد کا ایسے دفاع کرتا ہے جیسے یہ سب کے سب غلطی سے پاک ہیں اوران پرانگلیاں اٹھانے والے مکمل خطاءپرہیں. یہ المیہ صرف حامد میرکا نہیں ہے، برصغیرپاک وہند کا ہے. اس کا خمیراندرسبھا سے نکلا ہے. ایک طرف سارے کے سارے راکھشش ہوتے ہیں اوردوسری طرف سارے کے سارے دیوتا. وکیل، ڈاکٹر، صحافی، بیوروکریٹ، استاد، تاجر، فوجی آپ کسی گروہ کی جانب انگلی اٹھاکردیکھ لیں پورے کا پورا گروہ آپ پرپل پڑے گا اوراپنے بددیانت، چور اورمجرم شخص کا بھی دفاع کرے گا. یہی حال ہمارے مسالک اورسیاسی پارٹیوں کا ہے. دیوبندی، شیعہ، اہلِ حدیث، بریلوی، نون لیگ، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمیعت وغیرہ کسی بھی پارٹی یا مسلک کا یا توآپ کومکمل دفاع کرنے والے ملیں گے یا پھرمکمل انکارکرنے والے. ان تمام گروہوں میں سے اگر کسی گروہ کے کسی رکن کے بارے میں آپ انگلی اٹھائیں، پورا گروہ کائیں کائیں کرتا ہوا آپ پرٹوٹ پڑے گا. اسی تصورنے پاکستان میں ایک ایسی تقسیم پیدا کردی ہے کہ اگرآپ ایک گروہ سیاسی پارٹی کی تعریف کردیں توہ آپ کوحریتِ فکرکا علم برداراوردوسرا آپ کولفافہ دانشورکہے گا، لیکن اگرآپ اپنے پہلے والے ممدوح پرذرا سی تنقید کردیں تووہ آپ پربک جانے کا الزام لگا دے گا.

یہ رویہ صرف اورصرف سیاسی پارٹیوں اورمسلکی گروہوں میں نہیں بلکہ دانشوری اورصحافت میں بھی درآیا ہے. اسی لیے میرا دوست حامد میرتمام پیشہ ورانہ صحافیوں کوعظمت کے مینارکی حیثیت دیتا ہے اورباہرسے آئے ہوئے غیرپیشہ ورانہ صحافیوں کو”دانش فروش” کا لقب دیتا ہے. پیشہ ورصحافی کی عمومی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ اس کا رزق اس پیشے سے وابستہ ہو، جس نے رپورٹنگ کی ہویا اخبار کے ڈیسک پربیٹھ کرخبریں بنائی ہوں. اگراس تعریف کی کسوٹی پررکھ پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے صحافیوں کوپرکھا جائے توشاید ایک فیصد بھی ایسے نہ نکلیں جن کا مکمل رزق اس پیشے سے وابستہ ہے. اخبارات اورمیڈیا ملک بھرکے شہروں، قصبوں اوردیہات میں موجود نمائندوں کے بغیرادھورا اورنامکمل ہی نہیں بلکہ شاید چند قدم بھی نہ چل سکے.

یہ نمائندے گزشتہ ایک صدی سے بلا معاوضہ یا بہت ہی کم معاوضے پرکام کرتے چلے آرہے ہیں. ان میں سے اکثریت کا رزق اس پیشے سے وابستہ ہوتا ہے اورنہ کیریئر. البتہ ان کی ذاتی تشہیر، علاقے میں رعب و دبدبہ، سرکاری محکموں پرخوف اورکاروباری حضرات سے مراسم ان میں سے اکثرکی خصوصیات ہوتی ہیں. یہ خود کوئی نہ کوئی کاروباربھی کررہے ہوتے ہیں اورملازمت بھی. یہ مختلف سیاستدانوں، وڈیروں، چوہدریوں اورخانوں کے دسترخوانوں کے خوشہ چیں بھی ہوتے ہیں اوربعض کی توگذراوقات ہی ان کے ماہانہ وظائف پرہوتی ہے. پولیس تھانوں کے رجسٹرڈ مخبران کواگرآزادی اطلاعات Freedom of Information کے نام پرچھاپ دیا جائے توپولیس کے مخبروں میں جہاں پیشہ وربدمعاشوں، بدنام سمگلروں، دھندا کرنے والی عورتوں اوران کے مبینہ دلالوں کے نام ملیں گے، وہیں آپ کوصحافت کے پیشہ کے بھی بعض اہم نام دستیاب ہوجائیں گے. جب کبھی مارشل لاء لگا اورپولیس نے سیاستدانوں کی پکڑدھکڑ شروع کی، آپ کی حیرت کی انتہا نہیں رہے گی کہ ان سیاستدانوں کے خفیہ ٹھکانوں کی مخبری کرنے میں پیش پیش یہی پیشہ ورصحافی حضرات ہوتے تھے.

اس کے بعد بڑے معتبراورمعززحضرات کا ایک گروہ ہے جواسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ اورپشاورکے اخباری ہیڈکوارٹروں میں موجود ہے اورٹیلی ویژن چینلوں میں بھی نظرآتا ہے. ان تمام حضرات میں ان چند بڑے اینکروں اورکالم نگاروں کونکال دیں جن کوگزشتہ پندرہ سالوں سے بڑے بڑے معاوضہ ملنا شروع ہوئے ہیں، باقی سب میں سے اکثریت ایسی ہے جواپنی روزمرہ ضروریات کوپورا کرنے کے لئے ایک سے زیادہ کاروبارکرتے ہیں یا ملازمتیں کرکے دال روٹی پوری کرتے ہیں. یہ وہ زمین کا نمک ہیں جن کی کوئی شناخت نہیں. یہ ہراس ایماندارملازمت پیشہ شخص کی طرح ہوتے ہیں جوبیوروکریٹ‌ہواستاد ہویا کسی اورجگہ ملازم، اسے زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لئے ایک سے زیادہ نوکریاں یا کام کرنے پڑتے ہیں. ان ننانوے فیصد پیشہ ورصحافیوں کے علاوہ ان میڈیا کے اداروں میں بہت سے بڑے بڑے نام ہیں جوحکومتوں سے لاتعداد مراعات لیتے ہیں. پراپرٹی کے کاروبارسے لے کرایڈورٹائزنگ ایجنسی تک اورمعمولی قسم کے غیرقانونی دھندوں سے لے کربڑے بڑے مافیا کے ساتھی بن جاتے ہیں.

ان کے لیے صحافت ایک بہت بڑی پناہ گاہ ہوتی ہے. مرکزی وزارت اطلاعات اورچاروں‌ صوبائی وزارت اطلاعات میں مسلسل حکومتی مراعات حاصل کرنے والوں کی طویل فہرستیں موجود ہیں. وزیراعظم، صدر اوردیگرکے بیرون ملک دوروں کے مستقل اورمسلسل ہمرکاب صحافیوں کی ایک فہرست ہے. اپنا، اپنے اہل خانہ کا بیرون ملک سرکاری خرچے پرعلاج کروانے، سرکاری ہاؤسنگ سکیموں میں جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹس اورسیاستدانوں کی طرح پلاٹ لینے والے، گھروں میں چوری ہوجانے، آگ لگ جانے پرسرکارسے معاوضہ لینے والے، گمنام ناموں سے سرکارکے حق میں کالم لکھنے والے اوربے شمارخفیہ معلومات فراہم کرنے جیسے دھندے کرنے والوں کی ایک طویل فہرست آپ کوملے گی. این جی اوز کا کاروبارچمکا توجیسے بیوروکریٹس، جرنیلوں اورسیاستدانوں کی بیویوں اوربچوں نے ڈونرکا پیسہ ہضم کرنے کے لئے این جی اوز بنائیں، یہ عظیم صحافی بھی اس صف میں شامل تھے.

تاریخ بہت تلخ ہیں لیکن درست تاریخ مرتب ہونی چاہیے. سچ سامنے آنا چاہیے. بے شمار بددیانتوں، چوروں، ضمیرفروشوں کے درمیان ایسے لوگوں کونظریے کے تعصب سے بالاترہوکرمینارہ نور ثابت کرنا ہوگا، جوفاقہ کش رہے، لیکن انہوں نے ضمیرکا سودا نہ کیا. آئیں ایک تاریخ مرتب کریں، جس کے پاس جوراز ہے وہ اس ملک کی خیرخواہی اورلوگوں کوڈاکونما انسانوں سے بچانے کے لے کھول دے. میں اکتیس سال بیوروکریسی میں رہا، مجھے پورا عرصہ صرف اس لئے اپنے گروہ کی تنقید کا نشانہ بننا پڑا کہ میں ان سب کا دفاع نہیں کرسکتا تھا. آئیں پوراسچ بولیں، آئیں جس طرح ہم سیاستدانوں، جرنیلوں، ججوں اوربیوروکریٹس سے کہتے ہیں کہ اپنے اثاثے ظاہرکرواوربتاؤ کہ تم نے یہ کہاں سے بنائے، ویسے ہی میڈیا کے ہرشخص کوپابند بناؤ. میں جنوری 2016ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے ایک کالم میں اپنی اوراپنے تمام خاندان کی کل کائنات بتا چکا ہوں. حامد میرصاحب آئیں. دانش فروشی اورآزادی صحافت کی ایک بے لاگ تاریخ مرتب کریں، ہرتعصب سے بالاتر. اسی میں فلاح ہے ورنہ سارے کا سارہ خسارہ رہا ہے.