US consider the alternative plan for delivery of military equipment in Afghanistan

113

جیو نیوز 

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے پاکستان کے ردعمل کی صورت میں افغانستان میں فوجیوں کو سپلائی جاری رکھنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور شروع کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں اتحادی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل کون فاکنر نے بتایا کہ افغانستان نیشنل ڈیفنس سیکورٹی فورسز کی تربیت اور مشن میں معاونت کے لیے فوجی ساز و سامان کی مسلسل ترسیل کے لیے متعدد منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغانستان میں فورسز کو سامان کی ترسیل کے لئے منصوبوں میں ایک منصوبہ چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے سامان کو پہنچانا بھی شامل ہے۔

پاکستان نے 2011 میں امریکا سے تعلقات میں کشیدگی کے بعد اپنی حدود سے جانے والی امریکی فوجیوں کی سپلائی معطل کردی تھی جس کے بعد امریکا نے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے ساز و سامان کی ترسیل کا عمل جاری رکھا۔

2011 میں امریکا نے فوجیوں کی رسد کے لئے طیاروں یا پھر شمالی راستہ اپنایا جو روس اور وسط ایشیائی ریاستوں سے ہوتا ہوا افغانستان جاتا ہے لیکن یہ آپشن اسے بہت مہنگا پڑا تھا۔

خیال رہے کہ یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان مخالف ٹوئٹ کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے صف اول کے اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کو دی گئی رسائی پاکستان کسی بھی لمحے بند کرسکتا ہے۔

اخبار کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ پاکستان کو چھوڑ دیں تاہم ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف فیصلے سے لگتا نہیں کہ ان کے پاس اثرات سے نمٹنے کی پالیسی موجود ہے ۔


ڈان نیوز 

کابل سپلائی کی وجہ سے امریکا کا پاکستان کی عسکری قیادت سے رابطہ

واشنگٹن: امریکا کے سیکریٹری دفاع جنرل جیمز میٹس نے واضح کیا ہے کہ پاکستان پر عسکری امداد کی پابندی کے باوجود پینٹاگون پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت خصوصاً چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطے بحال کررہا ہے۔

پینٹا گون میں پریس بریفنگ جنرل جیمز میٹس نے کہا ‘میرا خیال ہے کہ گزشتہ روز جنرل جوزف وٹل نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر گفتگو کی اور ہم مزید رابطے کی فضا بحال کریں گے’۔

تاہم پریس بریفنگ میں سیکریٹر دفاع نے اس امر پر یقین دہانی نہیں کرائی کہ آرمی چیف جنرل قمر سے گفتگو پاکستان پر امداد کی پابندی سے قبل ہوئی یا بعد میں۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل وٹل افغانستان میں جاری جنگ میں امریکا کے براہ راست ذمہ دار ہیں جہاں 14 ہزار نیٹو فورسز اور دیگر عسکری اثاثے موجود ہیں۔

جیمز میٹس نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی عسکری امداد پر پابندی عائد کرنے سے قبل ان تمام اہم امکانات کا ہر زاویے سے جائزہ لیا تھا لہٰذا امریکا کو ردِ عمل کے طور پر افغانستان میں سپلائی روکنے کی فکر نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ‘مجھے نہیں لگتا اور نہ ہی میرے پاس ایسے کوئی اشارے ہیں جس سے ثابت ہو کہ اسلام آباد افغانستان کی سپلائی روکے گا’۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکی پابندی کے بعد چین پاکستان کی عسکری امداد کو پورا کرے گا؟ تو انہوں نے جواب دیا ’نہیں‘۔

اس سے قبل جمعہ (5 جنوری) کو واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امداد روکنے کے فیصلے سے پاکستان کو تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔

ادھر جیمز میٹس سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران نے تحفظات کا اظہار کیا کہ امریکی کی جانب سے عسکری امداد پر پابندی کے نتیجے میں پاکستان افغانستان میں امریکی فوجیوں کی سپلائی توڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف امریکی فیصلے سے خود امریکا کو فوجی سامان کی مد میں 1 ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔

جیمز میٹس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نیٹو فورسز کے مقابلے میں زیادہ جانوں کی قربانی دی لیکن عسکری امداد پر پابندی کا فیصلہ امریکی کی مشرق وسطیٰ کی نئی تزویراتی حکمت عملی کے تحت لیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سول حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار نبھا سکتی ہے۔

Comments