یہ انتخابی فہرستیں نہیں،
نہ ہی کسی تعلیمی ادارے میں داخلے کی میرٹ لسٹیں ہیں ۔ ۔ ۔
بلکہ ان لوگوں کے نام ہیں جو منی لانڈرنگ سکینڈل کا حصہ رہے اور اب وزارت داخلہ نے ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیئے ہیں۔

اس لسٹ میں:
24 نمبر پر آصف زرداری کا نام ہے
27 نمبر پر بلاول زرداری کا نام ہے
36 نمبر پر زرداری کی بہن فریال تالپور کا نام ہے
72 نمبر پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کا نام ہے
155 نمبر پر وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا نام ہے
129 نمبر پر سابق وزیراعلی قائم علی شاہ کا نام ہے
149 نمبر پر ایم پی اے سہیل انور سیال کا نام ہے
118 نمبر پر ایم پی اے مکیش چاولہ کا نام ہے
16 نمبر پر ایم پی اے علی نواز مہر کا نام ہے
53 نمبر پر وزیر امتیاز شیخ کا نام ہے

اس کے علاوہ اومنی گروپ کے مالکان، سندھ بنک کا صدر، سمٹ بنک کا صدر، لینڈ اور انرجی کے صوبائی محکموں کے سیکرٹریز سمیت بہت سے سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے سربراہان کے نام ہیں۔

وہ جو کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں نہ تو زرداری کو کوئی پکڑسکتا ہے اور نہ ہی ملک ریاض کو،

انہیں خبر ہو کہ وزارت داخلہ اب عمران خان کے انڈر ہے ۔ ۔ ۔

یہ سال، مہینہ، دن، وقت اور لمحہ بہت اہم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں پاکستان میں احتساب کا ایک نیا باب لکھا جارہا ہے ۔ ۔ ۔

بے شک اللہ ظالم کی رسی دراز کرتا ہے لیکن اسے کھلی چھوٹ نہیں دیتا۔ جس جس نے ملک لوٹا، انشا اللہ وہ نشان عبرت بن کر رہے گا اور یہ کارنامہ بھی اللہ کے حکم سے عمران خان کے کریڈٹ میں جائے گا!!! بقلم خود باباکوڈا