انتظار کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں چلایا جائے‘عمران خان

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مقتول انتظار کے والد کے مطالبے پر قتل کا کیس انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں چلایا جائے۔

کراچی میں انتظار احمد کے گھر پر مقتول کے والد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ انتظار کے والد جے آئی ٹی سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظار کے والد جے آئی ٹی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں جبھی وہ انسداد دہشت گردی عدالت میں کیس چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کا سندھ اور پنجاب پولیس سے اعتماد اٹھ چکا ہے، زینب کے کیس میں بھی ان کے والد نے کہا تھا کہ چیف جسٹس اور آرمی چیف انصاف فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کی پولیس میں سیاسی بھرتیاں کی گئی لیکن خیبر پختونخوا پولیس میں سیاسی طور پر کوئی بھرتی نہیں ہوتی۔

چیئرمین تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ سندھ اور پنجاب میں بھی منظور کیا جائے۔

علاوہ ازیں مقتول انتظار کے والد اشتیاق احمد نے کہا کہ میرے بیٹے کا قتل مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جے آئی ٹی کی تحقیقات پر تحفظات ہیں، لہٰذا انصاف کے لیے انتظار کا کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں چلایا جائے۔

دوسری جانب انتظار کے والد نے اپنے بیٹے کے قتل کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میڈیا کے سامنے پیش کی۔

جس میں موٹرسائیکل پر سوار 2 سادہ لباس اہلکاروں کو انتظار کی گاڑی روکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھا سادہ لباس اہلکار فائرنگ شروع کردیتا ہے۔

موٹر سائیکل سوار دونوں اہلکار انتظار کی گاڑی کو روکنے کوشش کرتے ہیں جبکہ اس موقع پر سیاہ رنگ کی گاڑی انتظار کی گاڑی کے قریب آکر رکتی ہے۔

ویڈیو سی سی ٹی وی فوٹیج

خیال رہے کہ جمعے کو انتظار کے والد نے جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا تھا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے میڈیا سے کوئی بات نہیں کی تھی، جبکہ وہ اس سے قبل بھی انتظار قتلکیسمیں تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور انہیں نے پہلے اس معاملے کو سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔بعد ازاں عمران خان نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر قائد کی انورشپ نہ ہونے کی وجہ سے یہ گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات برے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہوسکتے، ایک وقت تھا کہ یہاں دبئی کے شیخ بھی چھٹیاں گزارنے آتے تھے۔

بلدیاتی مسائل کے حوالے سے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ کراچی میں بلدیاتی حکومت بااختیار نہیں، یہاں کے میئر کو بااختیار ہونا چاہیے تاکہ اس شہر کے مسائل حل ہوسکیں۔

عمران خان کی میڈیا سے گفتگو

انتظار قتل کیس میں کب کیا ہوا؟

ڈیفنس کے علاقے خیابان اتحاد میں ہفتہ 13 جنوری 2018 کی شب کو اے سی ایل سی اہلکاروں کی جانب سے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا جس کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے فائرنگ کی تھی جس سے 19 سالہ نوجوان انتظار احمد جاں بحق ہوگیا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے اس واقعے کو دہشتگری کا واقعہ قرار دیا جارہا تھا، تاہم بعد ازاں درخشاں تھانے میں اس کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد مقتول انتظار کے والد اشتیاق احمد کی جانب سے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتےہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

14 جنوری کو اس کیس میں 6 اے سی ایل سی اہلکاروں کو حراست میں لیا تھا، جس میں 2 انسپکٹر، 2 ہیڈ کانسٹیبل اور 2 افسران بھی شامل تھے۔

15 جنوری کو ان ملزمان کو کراچی کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ملزمان کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں انتظار احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آئی تھی، جس میں معلوم ہوا تھا کہ نوجوان کی ہلاکت صرف ایک گولی لگنے سے ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اے سی ایل سی اہلکاروں نے انتظار پر 17 سے زائد گولیاں چلائیں جبکہ مقتول انتظار کو سیدھے کان کے پیچھے ایک گولی لگی جو اس کے سر سے آر پار ہوگئی تھیجس کے بعد وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔علاوہ ازیں مقتول انتظار کی ابتدائی فارنزک رپورٹ جاری کی گئی تھی، جس کے مطابق انتظار پر 2 پستول سے 18 گولیاں فائر کی گئیں تھیں۔