اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی ختم کردی۔

dr.amir liaqat husain

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور 1ان کے وکیل بابر اعوان پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عامر لیاقت نے بات کرنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وکیل کی موجودگی میں انہیں بات کرنے کی ضرورت نہیں، عامر لیاقت معتبر نہیں صرف سائل ہیں۔

چیف جسٹس نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے موکل کو سمجھائیں یہ عدالت ہے کوئی ٹی وی شو نہیں، یہاں کیسے کھڑے ہوتے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں، لگتا ہے عامر لیاقت نے نا بیٹھنے کی قسم کھائی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے عامر لیاقت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردینا ہے۔

اس موقع پر وکیل بابر اعوان نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار نے مقدمہ واپس لے لیا ہے لیکن ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لے کر پروگرام بند کیا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں لہٰذا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ختم کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عامر لیاقت کو عدالتی پالیسی کے مطابق پروگرام کرنا ہوگا اور اگر انہوں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی جبکہ اگر ہمارے احکامات کی پابندی نہیں کریں گے تو ٹی وی پر پروگرام نہیں کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تاحکم ثانی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو کسی بھی چینل پر پروگرام کرنے اور تجزیہ دینے سے روک دیا تھا۔

جس کے بعد عامر لیاقت حسین کی جانب سے سپریم کورٹ می درخواست دائر کی گئی تھی کہ انہیں پروگرام کرنے کی اجازت دی جائے۔

بعد ازاں عدالتی پابندی کے باعث گزشتہ ماہ سابق وزیر اور معروف ٹی وی اینکر عامر لیاقت حسین نے اپنے نام سے نیوز ویب سائٹ لانچ کی تھی جس پر مختلف کٹیگریز شامل کی گئیں تھیں۔