ٹرمپ کی ذہنی حالت عام انسانوں والی نہیں وہ احمق ہیں، کتاب میں ساتھیوں کا انکشاف

نیو یارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر لکھی جانے والی ایک نئی کتاب ‘فائر اینڈ فیوری اِن سائڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس’ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے ارد گرد موجود تمام لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ ایک ‘احمق’ شخص ہیں اور صدارت کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ اور ان کے وکلا بضد ہیں کہ کتاب میں بیان کیے جانے والے انکشافات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔  کتاب ‘فائر اینڈ فیوری، اِن سائڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس’ کے مصنف مائیکل وولف ہیں جسے آئندہ منگل کو مارکیٹ میں آنا تھا۔ کتاب کی اشاعت روکنے کے لیے مصنف اور پبلشر کو قانونی نوٹس بھی دیا گیا لیکن اس کے باوجود اسے وقت سے پہلے ہی 5 جنوری سے فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

اس کتاب میں ٹرمپ کی شخصیت کے پرخچے اڑا دیئے گئے ہیں جس کے مطابق ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی حالت عام انسانوں والی نہیں وہ احمق ہیں اور کبھی بھی کچھ بھی کر جاتے ہیں۔ کتاب کا محور ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومے کی نوکری سے جبری رخصت ہے۔ منصف کے مطابق ایف بی آئی کی تحقیقات سے صرف صدر ٹرمپ کو پریشانی نہیں تھی بلکہ ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر بھی بہت گھبرائے ہوئے تھے کہ پتا نہیں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر اپنی تحقیقات کے دوران خاندان کے مالیاتی معاملات کے بارے میں کیا کچھ جان جائیں گے؟۔

جیمز کومے کی جبری رخصت کے بارے میں کتاب میں لکھا گیا ہے کہ امریکی صدارت کی جدید تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صدر نے از خود اتنا اہم فیصلہ کر لیا ہو۔ اگر صدر ٹرمپ ایسا کوئی فیصلہ شمالی کوریا کے حوالے سے کر لیں اور اس پر بمباری کا حکم جاری کر دیں؟’ ۔ کتاب کے مطابق صدر ٹرمپ اکثر اپنے معاونین پر نظر پر رکھتے ہیں اور ان کی جاسوسی کرتے ہیں اور ان کے ساتھیوں اور معاونین میں سے کسی کو بھی نہیں پتا ہوتا کہ صدر نے بہت سے معاملات خود اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن کے حوالے سے کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روسی حکام سے ملاقات اس غرض سے کی گئی تھی تاکہ ہیلری کلنٹن کے خلاف مواد حاصل کیا جا سکے جو غدارانہ عمل کے مترادف تھا۔ کتاب میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے صدر ٹرمپ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ انہوں نے اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے اس کی منصوبہ بندی کی ہے اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین منصب پر ہمارا اپنا آدمی ہے۔

مصنف نے کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے والے ان کے معاونین اور دیگر تمام افراد اس بات پر متفق ہیں کہ صدر ٹرمپ صدارت کے لیے ناموزوں ہیں اور یہ بھی کہ ٹرمپ کے رشتے دار، دوست اور سرکاری عہدیدار کس طرح صدر ٹرمپ سے اپنی مرضی کے مطابق کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مصنف کے مطابق وزیر خزانہ اسٹیون نیوچن اور سابق چیف آف اسٹاف رائینس پرائبیس صدر ٹرمپ کو ‘احمق’ کہتے تھے جبکہ ٹرمپ کے معاشی مشیر گیری کوہن ان کی ذہانت کا موازنہ انسانی فضلے سے کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر مک ماسٹر انہیں نشے کا عادی یا احمق سمجھتے ہیں جبکہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی صدر ٹرمپ کو بے وقوف کہہ چکے ہیں اور جس کی انہوں نے کبھی تردید بھی نہیں کی۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کتاب میں لگائے گئے الزامات اور انکشافات کو یکسر مسترد کر دیا۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا میں نے اس کتاب کے مصنف کو کبھی بھی وائٹ ہاؤس میں داخلے کا مستحق قرار نہیں دیا۔ میں نے کتاب کے لیے کبھی اس سے بات نہیں کی۔ اس کتاب میں جھوٹے اور غلط بیانات اور ذرائع موجود ہیں اس شخص کے ماضی پر نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ اس کے اور سلوپی اسٹیو کے ساتھ کیا ہوا۔ یہاں ٹرمپ نے اپنے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن کے لیے ‘سلوپی’ (میلا) کا لفظ استعمال کیا۔

یاد رہے کہ جنوری 2017 میں امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متازع بیانات اور فیصلوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔