بیجنگ: چین اور روس نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سیکیورٹی پالیسی کو ‘سامراجی کردار’ میں ‘سرد جنگ کی فرسودہ ذہنیت’ قرار دے دیا۔

گزشتہ روز جاری ہونے والی امریکا کی نیشنل سیکیورٹی پالیسی میں چین اور روس کو ‘عالمی حریف’ گردانا گیا ہے۔

چینی وزیرخارجہ کے ترجمان ہوا چنیانگ نے کہا کہ ‘امریکا عالمی منڈی میں چین کے خلاف الزام تراشی کر کے حقائق کو مسخ نہیں کر سکتا اسے سرد جنگ کی ذہنیت سے خود کو الگ کرنا ہوگا ورنہ دوطرفہ تعلقات ممالک کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے’۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بعدازاں روس نے بھی امریکا کے خلاف مذمتی بیان جاری کیا۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ‘اس امر پر امریکا کا رویہ’سامراجیت‘ پر مبنی ہے، جو بنیادی طور پر امریکا کی جانب سے ایک ’کثیرالقطبی دنیا سے انحراف‘ کا اظہار کیا جارہا ہے۔

چین اور روس کی جانب سے سخت رویہ امریکا کے صدر سے ملاقات کے بعد دیکھنے میں آیا۔

نئی امریکی پالیسی کی دستاویزات میں کہا گیا کہ‘امریکا سمجھتا ہے کہ روس اور چین امریکی اثر و رسوخ، مفادات کو ختم کرکے اس کی سالمیت اور ترقی کو ختم کرنا چاہتے ہیں’۔

چینی وزیرخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ امریکا کی نئی حکمت عملی میں 68 صفحات میں الزام لگایا گیا کہ چین ‘امریکا کو ایشیا سے بے دخل’ کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘چین اپنی طاقت کے پھیلاؤ میں دوسروں کی خودمختاری کا خیال رکھتا ہے’۔

چین نے امریکا کی سیکیورٹی پالیسی کو یکسر جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے ایسے حقائق کے منافی گردانا اور کہا کہ ‘چین اپنے جائز حقوق اور مفاد کے حصول کے لیے کبھی پیھچے نہیں ہٹے گا’۔

واضح رہے کہ گزشتہ مہینے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا پہلا دورہ کیا تھا جس میں انہیں خوش آمدید کہا گیا۔

خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی سطح پر سنگین نوعیت کے تحفظات ہیں اور واشنگٹن، امریکا میں چینی مصنوعات پر ڈیوٹی عائد کرنے کا خواہش مند ہے۔

دوسری جانب امریکا کو متنازع جنوبی بحرچین میں چین کی بڑتی ہوئی فوجی عملداری اور تائیوان کو اسلحہ کی فروخت پر سخت تحفظات ہیں۔

روس کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ٹرمپ نے انتہائی نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی آئی اے کی بر وقت اطلاع سے روسی صدر کے آبائی گاؤں میں دہشتگردی کی کارروائی کو ناکام بنایا گیا۔