وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاداکبر نے کہا ہے کہ BISP وظیفہ خور افسروں کے خلاف مقدمات بنائیں گے۔

معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاداکبر نے کہا ہے کہ حکومت نے نظام میں شفافیت لانے کا عزم کیا ہوا ہے، قانون ہے کہ ایک سال مفرور رہنے والے شخص کی جائیداد نیلام کی جا سکتی ہے، جن محلات کی ملکیت سے منکرتھے آج وہیں مقیم ہیں، سرکاری ملازمین کا بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھانا فراڈ ہے، ایف آئی اے کو تمام کیسزدیئے جائیں گے اور فوجداری مقدمات درج ہوں گے، لندن میں ترچھی ٹوپی پہننے والے ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر نے بی آئی ایس پی میں اعلی سرکاری افسران کی جانب سے فراڈکے ذریعے مالی فوائد حاصل کرنے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سرکاری افسران نے غریبوں کی حق تلفی کرتے ہوئے بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھایا۔