(د بډه بیرې زبېر)
زبیر پشاور کے علاقے بڈہ بیر سے تعلق رکھنے والا ایک غیرت مند پشتون تھا۔ یہ انگریزوں کے خلاف کام کرنے والا ایک غیر سیاسی کردار تھا جس کا کافی بڑا حلقہ اثر تھا۔

جب برطانوی راج اسکی سرگرمیاں روکنے میں ناکام رہی تو اس مضبوط شخص کے خلاف مقامی برطانوی نمائندوں نے ایک سازش تیار کی۔ اس وقت جب زبیر کی عمر 60 کا ہندسہ عبور کر چکی تھی برطانیہ نے کمار گلا نامی ایک طوائف کو زبیر کے خلاف ھائر کیا۔

21 ستمبر 1935ء کو کمار گلا کی شکایت پر زبیر کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ دائر کیا گیا اور 10 جنوری 1936ء کو زبیر کو ڈھائی سال قید اور 15 روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔
بحوالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
FIR No.34, Ellat No.109 Dated 21-9-1935 A.D, Thana Badabera

جبکہ کمار گلا کو نہ صرف 15 روپے انعام سے نوازا گیا بلکہ اس کو تاج برطانیہ کی آفیشل طوائف کی حیثیت بھی دی گئی۔
یہ انعام کمار گلا کی مبینہ عزت لٹنے کی قیمت تھی یا زبیر کو خاموش کرنے کا معاوضہ ؟

کمار گلا کے اس کیس کو اس وقت خوب اچھالا گیا۔ زیبر کو حاصل تمام تر عوامی حمایت یکلخت ختم ہوگئی اور وہ مکمل طور پر تنہائی میں چلا گیا۔ پشتونوں میں ایک نئے محاورے نے جنم لیا کہ ” غم بہ ی دا بڈہ بیرے زیبر کوی ” ۔