بچوں کی نازیبا ویڈیوز شیئر کرنیوالے گروہ کا رکن گرفتار

لاہور: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرپول کینیڈا کی اطلاع پر بچوں کی نازیبا ویڈیوز شیئر کرنیوالے گروہ کے رکن کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم کے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے 60 جی بی ڈیٹا بھی برآمد کرلیا گیا۔

ملزم تیمور مقصود – فوٹو

ایف آئی اے اینٹی کرائم سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر خالد انیس نے ڈان نیوز کو بتایا ہے کہ ملزم کے بین الاقوامی گروہ میں مختلف ممالک کے لوگ شامل ہیں جو آپس میں پورن فلمیں اور ویڈیوز شیئرز کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ اس گروپ میں کتنے لوگ شامل ہیں۔

خالد انیس نے بتایا کہ بچوں کی نازیبا ویڈیو شیئر کرنے والے گروہ کے ملزم کو جھنگ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے، ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم تیمور الیکٹریکل انجینئر ہے جس کے لیب ٹاپ اور کمپیوٹر سے نازیبا ڈیٹا بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام نے گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انٹرپول کینیڈا کی اطلاع پر ایف آئی اے حرکت میں آئی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اور آئی پی ایڈریس کے ذریعے تفتیشی ادارے کی ٹیم ملزم تک پہنچی اور اسے جھنگ کے علاقے صدر سے گرفتار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سرگودھا کا ملزم بچوں کی ویڈیوز بیرون ملک کیسے بیچتا تھا

حکام نے بتایا کہ ملزم تیمور نے دو سال پہلے گروپ کو جوائن کیا تھا جبکہ ملزم تیمور کے مطابق وہ ذہنی تسکین کے لیے یہ کام کرتا تھا اور مزید گروہ کے ممبران سے لنکس بڑھتے گئے۔

گزشتہ سال بھی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے سرگودھا سے بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر فروخت کرنے والے شخص کو گرفتار کرکے اس کا لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر قبضے میں لے لیا تھا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والے 45 سالہ ملزم سعادت امین نے تفتیش کاروں کے سامنے اعتراف کیا کہ کمپیوٹر کی تعلیم کے نام پر اس نے 25 بچوں کو جھانسہ دے کر اس گھناؤنے کام میں استعمال کیا تھا۔


The Federal Investigation Agency (FIA) on Sunday, acting on a tip by Interpol Canada, arrested in Jhang an alleged member of a group that shared child pornography videos.

FIA anti-crime unit’s deputy director Khalid Anis said that 60 gigabytes worth of data was found on the laptop and computer of the accused, who is an electrical engineer by profession.

“The suspect is a part of an international gang that shares porn videos among themselves,” Anis said. “We’re investigating how many members there are in this group.”

The FIA said the suspect, who had joined the group two years ago, was traced with the help of PTCL and his IP address. He was arrested from the Saddar area of Jhung.

“I used to do this for mental gratification only,” the accused said.

“I had joined one group from where I found links to other groups.”

FIA takes notice of child pornography

Following the unearthing of the ring, the FIA took notice of child sexual abuse and pornography in Pakistan, forming a two-member committee from its cyber crime wing to tackle the menace.

A notification issued in this regard directed all zonal incharges to compile reports on all registered cases regarding child sexual abuse and pornography in the country.

Punishment for child pornography in Pakistan

Pakistan’s laws did not contain punishments for child pornography until after the infamous 2015 Kasur child sexual abuse case, after which a law was passed that made the crime punishable.

But the two-to-seven-year prison sentence was deemed minute and not a big enough deterrent due to the amounts of money involved.

A bill for more severe punishment was passed by the National Assembly Standing Committee on Interior in October 2017.

Child pornography offences in Pakistan now carry a prison sentence ranging from 14 to 20 years.