دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کی سیکیورٹی امداد کو بند کرنا کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ اس سے ملکی معیشت پر کسی بھی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوگے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘نیوز وائز’ میں گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس امریکی فیصلے کا پہلے سے ہی اندازہ تھا، جہاں تک فوجی تربیت کا تعلق ہے، تو سلالہ حملے کے بعد یہ کام بھی پاکستان نے خود کرنا شروع کردیا تھا، لہذا آج 70 ممالک یہاں سے ہی تربیت حاصل کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک ساز و سامان کا تعلق ہے تو اس پر پہلے ہی امریکا نے بھارت کے کہنے پر 4 ایف 16 طیارے پاکستان کو دینے سے انکار کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج کسی طرح بھی امریکا پر انحصار نہیں کرتی، کیونکہ ہم خود گذشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنے کے باوجود بھی قبائلی علاقوں میں بڑے اور مؤثر آپریشن کرچکے ہیں۔

امجد شعیب نے بتایا کہ اس وقت بھی جو امریکا کی طرف سے دیے گئے آلات ہمارے پاس ہیں، ان کے اسپئیر پارٹس خود پاکستان بنا رہا ہے، جبکہ ایف 16 کے پارٹس بھی دوسرے ممالک سے مل جاتے ہیں۔

افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی پاکستان خود اپنے وسائل سے کررہا ہے، کیونکہ امریکا تو پہلے ہی اس خطے میں استحکام نہیں چاہتا تو وہ کیسے اس طرح کے اقدامات میں مالی امداد کرسکتا ہے، لہذا یہ ہماری خواہش ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے ایسا کیا جائے تاکہ سرحد پار دہشت گردوں کی کارروائیاں رُک سکیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس فیصلے کے بھی خلاف ہے، کیونکہ وہ نہ افغانستان کو بارڈر مینجمنٹ کرنے دیتا ہے اور نہ ہی پاکستان کے لیے اس کی حمایت کرتا ہے۔

امجد شعیب نے مزید کہا کہ ایک طرح سے امداد روکنے کا یہ فیصلہ اچھا بھی ہے، کیونکہ ہمیں اس کی کوئی ایسی خاص ضرورت بھی نہیں ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ حالیہ امداد کی بندش کی وجہ پاکستان کی جانب سے ان دہشت گردوں کو امریکا کے حوالے نہ کرنا ہے، جنہوں نے شمالی وزیرستان میں ایک کینیڈین جوڑے کو اغواء کیا تھا، جسے پاک فوج کے آپریشن کرکے بازیاب کروایا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے وعدے کو پورا کرنے تک پاکستان کی تمام سیکیورٹی امداد روک دی گئی ہے۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے بتایا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے کیا گیا یہ اعلان ہمیشہ کے لیے نہیں ہے اور اس سے صرف فوجی امداد پر اثر پڑے گا۔

واضح رہے امریکی کانگریس نے بھی 70 کروڑ ڈالر کی آدھی امداد روک دی ہے جسے پاکستان کو پاک افغان سرحد پر امریکی جنگ میں تعاون پر دیا جانا تھا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ میں پاکستان پر الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے جو افغانستان میں اتحادی فوج کو نشانہ بنانے میں غیر معمولی مدد فراہم کر رہی ہیں لیکن اب ایسا نہیں چلے گا‘۔

سیکیورٹی امداد کو روکنے کا منصوبہ امریکا کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے بعد سامنے آیا جس میں اسلام آباد سے امریکا نے ‘ڈو مور’ کا مطالبہ کیا تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ نئی پیش رفت سے محکمہ دفاع کے زیر انتظام دیگر سیکیورٹی امداد کو بھی روک دیا جائے گا تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

قبل ازیں سیکریٹری دفاع جیمس میٹس کا کہنا تھا کہ فوجی امداد کی پالیسی اب بھی تشکیل دی جارہی ہے۔