اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جج صاحبان کے لیے وسائل کی کمی روز مرہ کی پریشانیاں انصاف فراہم کرنے اور عدالتی کاموں میں حائل نہیں ہونی چاہیئں۔

سپریم کورٹ کی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انصاف وہ ہے جو نظر آئے، انصاف میں کسی کسم کا امتیاز نہیں برتنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، انصاف فراہم کرنے کے لئے کوئی چیز ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتیں ریاستوں کا اہم ستون ہوتی ہیں اگر عدالتیں اپنی کار کردگی نہیں دکھائیں گی تو ریاست اپنا توازن کھو بیٹھے گی۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ’عوام کو عدالتوں سے شکایتں ہیں، ان کی شکایتیں دور کرنے کی ذمہ داری میں خود لیتا ہوں تاہم دیگر جج صاحبان سے درخواست ہے کہ مجھے اس شرمندگی اور پریشانی سے آپ نے بچانا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جج صاحبان ہمارے پاس اسٹاف کم ہے ہمیں گاڑی نہیں ملی ہمین کمرہ اچھا نہیں ملا ہمیں چپڑاسی نہیں ملا یہ چیلنجز ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں یہ ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے چاہیے ہیں اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں حائل نہیں ہونے چاہیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جج صاحبان انصاف کے منصب کو اپنی ملازمت سمجھیں گے تو پھر کام نہیں کر سکیں گے لہٰذا ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس پیشے سے علیحدہ ہوجائیں۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے لیے بے خوف، بے خطر اور بے مصلیحت جج کی ضرورت ہے جو اللہ کی ذات کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جج صاحبان کو چھوٹے موٹے کام نہیں دیے گئے بلکہ کہ وائٹ کالر کرائم والے بڑے بڑے مگرمچھوں، جن کو پکڑنے کے لیے کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا تھا، کا احتساب کرنے کا کام سونپا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہمیں ہدف دے دیں‘۔

میاں ثاقب نثار نے واضح کیا کہ ہدف کو ذہن میں رکھ کر کام نہیں ہوسکتا، اس کے لیے جذبے اور لگن کی ضرورت ہے‘۔

اپنے دورہ چین کی مثال دیتے ہوئے میاں ثاقب نثار نے کہا کہ چین میں اتنی تیزی سے ترقہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا اور چینی چیف جسٹس سے اس کا راز پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صرف ایک قوم بن کر ترقی حاصل کی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ وہ چینی دورے میں اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے جہاں تقریباً 15 ممالک کے چیف جسٹس صاحبان تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے لیکن وہ واحد چیف جسٹس تھے جنہیں چینی چیف جسٹس نے علیحدہ اپنے چیمبر میں کھانے پر بلایا اور ملاقات کی۔

میاں ثاقب نثار نے بتایا کہ ’اس ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چین کے چیف جسٹس نے مجھے اپنی ملکی ترقی کا راز بھی بتایا اور ملک کے نظام کے بارے میں بھی آگاہ کیا جبکہ اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ہمارے ساتھ ایک مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط بھی کریں گے‘۔

دیکھئے چیف جسٹس اف پاکستان کا تقریب سے مکمل خطاب