افغانستان: برسی کی تقریب میں دھماکے، متعدد ہلاک

تقریب میں حکومت کی اہم شخصیات موجود تھیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی
تقریب میں حکومت کی اہم شخصیات موجود تھیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منعقدہ برسی کی ایک تقریب میں متعدد دھماکوں کے نتیجے میں درجن سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ میں افغان حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ تقریب میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سمیت حکومت کی اہم شخصیات موجود تھیں۔

شہر کی ایمبولنس سروس کے عہدیدار محمد عاصم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد ایمبولنسز جائے وقوع پر موجود ہیں۔

ایک اور افغان عہدیدار، جو مذکورہ تقریب میں موجود تھے، نے نام شائع نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 10 زخمی ہیں۔

 

خیال رہے کہ کابل میں جس تقریب میں دھماکے ہوئے، یہ 1995 میں ہلاک ہونے والے اور ہزارہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب تھی، جو طالبان حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق تقریب کی لائیو نشریات کے دوران محمد یونس قانونی نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘پُر سکون رہیں، دھماکا یہاں سے دور فاصلے پر ہوا ہے’۔

اور اس کے کچھ ہی دیر بعد دوسرے دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد تقریب میں افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے جانیں بچانے کے لیے خارجی راستے کی جانب بھاگنا شروع کردیا۔

دوسرے دھماکے کے بعد ایک نامعلوم فرد کی آواز تقریب میں گونجی، جو لوگوں کو پُرسکون رہنے کا کہہ رہے تھے کہ ‘مارٹر حملہ یہاں تقریب سے بہت دور ہوا ہے’۔

واقعے کے بعد افغان وزیر خارجہ صلح الدین ربانی، جو اس تقریب میں موجود تھے، نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ دہشت گردوں نے برسی کی تقریب میں راکٹوں سے حملہ کیا۔

وزیر صحت محب اللہ کا کہنا تھا کہ ہسپتال سے ملنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں 3 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں، لیکن یہ تعداد مصدقہ نہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ دھماکے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دھماکا مارٹر شیل کی وجہ سے ہوا جبکہ ایک فرد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے

تاہم ترجمان نے ہلاکتوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیا۔

بعد ازاں پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان، افغانستان میں ہونے والے راکٹ حملے کی مذمت کرتا ہے۔