جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی واضح علامات

آپ کا جسم صحت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے تاہم آپ کو درست وقت پر اسے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے۔

 

جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

 

اور وٹامن ڈی وہ اہم جز ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑسکتی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ اکثر افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔

 

وٹامن ڈی ہمارے جسم میں کسی ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور کسی اور وٹامنز کے مقابلے میں وٹامن ڈی کے لیے تمام خلیات ایک ریسیپٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔ آپ اپنے جسم میں اس وٹامن ڈی کی کمی کو سورج کی روشنی کے ذریعے دور کرسکتے ہیں تاہم مارکیٹ میں اس کی ادویات بھی موجود ہیں۔

 

یہ وٹامن انسانی ہڈیوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کی کمی کی چند علامات درج ذیل ہیں۔

 

 

 

عام امراض سے صحت یابی میں دیر ہونا

 

وٹامن ڈی کے چند اہم ترین افعال میں سے ایک جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہے، تو اگر وٹامن ڈی کی کمی کا سامان ہو تو عام انفیکشن یا وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے میں بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔ درحقیقت وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں سانس کی نالی کے انفیکشن جیسے نزلہ زکام اور نمونیا وغیرہ اکثر شکار بنانے لگتے ہیں۔

 

چڑچڑا پن اور ڈپریشن

 

ڈپریشن اور چڑچڑا پن کے درمیان تعلق ہے جس کے پیچھے متعدد جسمانی اور نفسیاتی عناصر ہوتے ہیں، ایسے سائنسی شواہد سامنے آئے ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، خصوصاً معمر افراد میں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کی شکار خواتین کو جب وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ استعمال کرایا گیا تو اس میں بہتری آنے لگی۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد میں اگر وٹامن ڈی کی کمی ہو تو ان میں ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

 

مناسب نیند کے باوجود ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنا

ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور وٹامن ڈی کی کمی بھی ان میں سے ایک ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی بہت زیادہ ہونے پر شدید تھکاوٹ اور سردرد جیسی علامات سامنے آتی ہیں، یہاں تک کہ اس وٹامن کی معمولی کمی بھی جسمانی توانائی میں کمی اور تھکاوٹ کے احساس کا باعث بنتی ہے، خصوصاً اگر خواتین پر ہر وقت تھکاوٹ طاری رہتی ہو تو اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ انہیں وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے۔

 

کمردرد

وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈھانچے کے نظام کو مضبوط کرتا ہے، اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں ہڈیوں کے مسائل اور کمردرد کا سامنا عام ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کے باعث 9 ہزار خواتین کو شدید کمردرد کا سامنا ہوا۔

 

 

جوڑوں کے مسائل

وٹامن ڈی کی کمی صرف کمردرد کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ یہ جسم کے تمام جوڑوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ گھٹنے، کولہے اور ریڑھ کی ہڈی اس وٹامن کی کمی سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، اگر اکثر ان جگہوں پر درد کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ٹیسٹ کروائیں کہ یہ مسائل وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ نہ ہوں۔

 

مسلز کی کمزوری یا تکلیف

 

وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں مسلز کی کمزوری اور درد کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ وٹامن ڈی ان اعصابی خلیات کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو کہ دماغ تک درد کا احساس پہنچاتے ہیں۔ اگرچہ مسلز کے مسائل کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 71 فیصد افراد میں مسلز کے شدید درد کی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔

 

بالوں کا گرنا یا نازک ہوجانا

 

اگر آپ کو لگے کہ بال پہلے جیسے گھنے نہیں رہے تو وٹامن ڈی کا استعمال بڑھانا اس مسئلے کو دور کرسکتا ہے۔ اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی اور بالوں کے گرنے کے درمیان زیادہ شواہد موجود نہیں، مگر ایک تحقیق میں وٹامن ڈی کی کمی اور خواتین کے بالوں کے گرنے میں تعلق دریافت کیا گیا۔

 

خراشوں کو ٹھیک ہونے میں تاخیر

 

کیا آپ کو اکثر معمولی خراشوں یا رگڑ سے نجات میں کافی دن لگ جاتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ وٹامن نئی جلد بننے کے عمل کے لیے ضروری کمپاﺅنڈز کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح وٹامن ڈی ورم اور انفیکشن سے لڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

 

مردوں میں کمزوری

 

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی مردوں میں مخصوص جسمانی کمزوری کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں erectile dysfunction نامی مرض کا خطرہ بڑھتا ہے، اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

 

بہت زیادہ پسینہ آنا

 

اگر تو پیشانی پر پسینہ بہت اکثر چمکتا ہے تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کی نمایاں علامات میں سے ایک ہے، خصوصاً اس وقت جب آپ کوئی خاص جسمانی محنت کا کام نہ کررہے ہوں اور پھر بھی پسینہ تیزی سے خارج ہورہا ہو، وہ بھی عام موسم میں۔ ان حالات میں وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کرایا جانا چاہئے۔