وہ دن جب قسطنطنیہ کی فتح کا ہزار سال پرانا خواب پورا ہوا
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق . ترک آج فتح قسطنطنیہ کا دن منا رہے ہیں. قسطنطنیہ ایک تاریخی شہر ہے جس کو مسلمانوں نے فتح کر کے اسکا نام اسلام بول رکھاتھا جو کے بعد میں استنبول ہو گیا. قسطنطنیہ (Constantinople) سن 330ء سے 395ء تک رومی سلطنت اور 395ء سے 1453ء تک بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت رہا اور 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد سے 1923ء تک سلطنت عثمانیہ کا دار الخلافہ رہا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے اس شہر کا نام اسلام بول رکھا مگر ترکوں کو اسلام بول بولنے میں مشکل ہوتی تھی تو وہ اسے استنبول کہتے تھے اس وجہ سے اس کا نام استنبول پڑا۔ شہر یورپ اور ایشیا کے سنگم پر شاخ زریں اور بحیرہ مرمرہ کے کنارے واقع ہے اور قرون وسطی میں یورپ کا سب سے بڑا اور امیر ترین شہر تھا۔ اس زمانے میں قسطنطنیہ کو Vasileousa Polis یعنی شہروں کی ملکہ کہا جاتا تھا۔
جب سلطان محمد فاتح تخت نشین ہوا تو بازنطینی دار السلطنت (قسطنطنیہ) جو ایک طویل عرصہ سے اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف تھا، سُلطان کی نظروں کا ہدف بن گیا-سلطان محمد فاتح نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں تاکہ بازنطینی شہنشاہت کو مغلوب کر کے قسطنطنیہ کو اسلام کا قلعہ بناتے ہوئے وہ عظیم کارنامہ سر انجام دے جس کیلئے مسلمان ایک طویل عرصے سے کوشش کرتے چلے آرہے ہیں-
667 قبل مسیح میں یونان کی توسیع کے ابتدائی ایام میں شہر کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس وقت شہر کو اس کے بانی بائزاس کے نام پر بازنطین کا نام دیا گیا۔ 11 مئی 330ء کو قسطنطین کی جانب سے اسی مقام پر نئے شہر کی تعمیر کے بعد اسے قسطنطنیہ کا نام دیا گیا۔

363ء سے رومی سلطنت کے دو حصوں میں تقسیم کے باعث قسطنطنیہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔ 376ء میں جنگ ادرنہ میں رومی افواج کی گوتھ کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد تھیوڈوسس نے شہر کو 60 فٹ بلند تین فصیلوں میں بند کر دیا۔ اس فصیل کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بارود کی ایجاد تک اسے توڑا نہ جاسکا۔ تھیوڈوسس نے27فروری 425ء میں شہر میں ایک جامعہ بھی قائم کیا۔

7ویں صدی میں آوارز اور بعد ازاں بلغار قبائل نے بلقان کے بڑے حصے کو تہس نہس کر دیا اور مغرب سے قسطنطنیہ کے لیے بڑا خطرہ بن گئے۔ اسی وقت مشرق میں ساسانیوں نے مصر، فلسطین، شام اور آرمینیا پر قبضہ کر لیا۔ اس مو قع پر ہرقل نے اقتدار پر قبضہ کرکے سلطنت کو یونانی رنگ دینا شروع کیا اور لاطینی کی جگہ یونانی قومی زبان قرار پائی۔ ہرقل نے ساسانی سلطنت کے خلاف تاریخی مہم کا آغاز کیا اور انہیں عظیم شکست دی اور 627ءمیں تمام علاقے واپس لے لیے۔

اسی دوران اسلام قبول کرنے والے عربوں کی طاقت ابھری جس نے فارس میں ساسانی سلطنت کا خاتمہ کرنے کے بعد بازنطینی سلطنت سے بین النہرین (میسوپوٹیمیا)، شام، مصر اور افریقہ کے علاقے چھین لیے
ربوں نے دو مرتبہ 674ءاور 717ءمیں قسطنطنیہ کا ناکام محاصرہ کیا۔ دوسرا محاصرہ زمینی اور سمندری دونوں راستوں سے کیا گیا۔ اس میں ناکامی سے قسطنطنیہ کونئی زندگی ملی اور مسیحی اسے اسلام کے خلاف مسیحیت کی فتح تصور کرتے ہیں۔

گیارہویں صدی کے بازنطینی سلطنت بتدریج زوال کی جانب گامزن رہی خصوصاً جنگ ملازکرد میں سلجوقی حکمران الپ ارسلان کے ہاتھوں حیران کن شکست کے بعد رومی فرمانروا رومانوس چہارم کو گرفتار کر لیا گیا اور چند شرائط پر رہا کر دیا گیا۔ واپسی پر رومانوس کو قتل کر دیا گیا اور نئے حکمران مائیکل ہفتم ڈوکاس نے سلجوقیوں کو خراج دینے سے انکار کر دیا۔ جس کے جواب میں ترک افواج نے چڑھائی کرتے ہوئے اناطولیہ کا بڑا حصہ فتح کر لیا اور بازنطینی سلطنت کو 30 ہزار مربع میل رقبے سے محروم کر دیا۔
29مئی 1453ءکو سلطنت عثمانیہ کے فرمانروا سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں بازنطینی سلطنت کے ساتھ قسطنطین یازدہم کی حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا اور قسطنطنیہ ملت اسلامیہ کے قلب کے طور پر ابھرا۔ شہر کے مرکزی گرجے ایاصوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اور شہر میں مسیحیوں کو پرامن طور پر رہنے کی کھلی اجازت دی گئی۔ فتح قسطنطنیہ تاریخ اسلام کا ایک سنہری باب ہے جبکہ مسیحی اسے “سقوط قسطنطنیہ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
فتح قسطنطیہ پر ایک ڈاکو مینٹر ڈامہ بھی ہے جس میں سلطان محمد الفاتح کی فتح کے کارنامے کو پردہ سکرین پر بیان کیا گیا ہے . اسی طرح قسطننیہ پر عرب میڈیا نے بھی اینی میٹڈ ڈاکومینٹریز بنائی ہیں. فتح قسطنطنیہ دراصل مسلمانوں کے عظیم دور کی یاد گار ہے جسے امت مسلمہ اب بھی تفاخر سے دیکھتی ہے .