سیف اللہ ضیاء میرے پرانے جاننے والے ہیں‘ ٹھیکیداری سے کام شروع کیا‘ اللہ نے ہاتھ پکڑا اور یہ ترقی کرتے چلے گئے‘یہ خدا ترس انسان ہیں‘انھوں نے گائوں میں بچیوں کے اسکول بھی بنائے اور ڈسپنسریاں بھی‘ یہ روزانہ نئی چیزیں بھی سیکھتے رہتے ہیں۔

میں نے چند ماہ قبل ہم خیال لوگوں کا گروپ بنایا اور ہم نے سفر شروع کیے تو سیف اللہ ضیاء سب سے پہلے اس گروپ کا حصہ بنے‘ یہ اب تک ہمارے ساتھ ترکی‘ ازبکستان اور مصر کا سفرکرچکے ہیں‘ ہم لوگ اب مارچ میں مراکش جائیں گے‘ یہ وہاں بھی ہمارے ہم رکاب ہوں گے‘ یہ قرآن مجید‘ احادیث اور اسلامی تاریخ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں‘ ہم قاہرہ میں اہرام مصر پہنچے اور میں نے ابولہول کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا‘فرعون ٹیکنالوجی اور سائنس میں ہم سے بہت آگے تھے۔

یہ سات ہزار سال قبل سات سو کلو میٹر دور لکسر شہر سے ایک کروڑ پتھر یہاں لائے‘ ہر پتھر 25 سے اڑھائی سو ٹن وزنی تھا‘یہ ون پیس تھا اور یہ پہلے پہاڑ سے چوڑائی میں کاٹا گیا تھا اور پھر سات سو کلو میٹر دور لایا گیا تھا‘ یہ پتھر بعد ازاں صحرا کے عین درمیان 170 میٹر کی بلندی پر لگائے بھی گئے‘قدیم مصری آرکی ٹیکٹس نے آٹھ ہزار سال قبل مقبروں کا ایسا ڈیزائن بنایا جو ہر طرف سے بند بھی تھا لیکن بندش کے باوجود اندر سورج کی روشنی بھی آتی تھی‘ ہوا بھی اور اندر کا درجہ حرارت بھی باہر کے ٹمپریچر سے کم رہتا تھا۔
ان لوگوں نے آٹھ ہزار سال قبل لاشوں کو حنوط کرنے کا طریقہ بھی ایجاد کر لیا اور یہ خوراک کو ہزار سال تک محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی جان گئے ‘ قاہرہ کے علاقے جیزہ کے بڑے اہرام میں 23 لاکھ بڑے پتھر ہیں‘ ابولہول دنیا کا سب سے بڑا ون پیس اسٹرکچر ہے اور یہ لوگ جانتے تھے شہد دنیا کی واحد خوراک ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتی چنانچہ اہراموں میں پانچ ہزار سال پرانا شہد نکلا اور یہ مکمل طور پر استعمال کے قابل تھا۔

یہ لوگ کمال تھے‘ بس ان میں ایک خرابی تھی‘ یہ متکبر تھے اور اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں چنانچہ یہ پکڑ میں آ گئے اور یوں عبرت کی نشانی بن گئے‘ سیف اللہ ضیاء یہ گفتگو سنتے رہے‘ بس میں پہنچ کر انھوں نے ایک قرآنی ریسرچ کا حوالہ دیا‘ ان کا کہنا تھا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تیرہ (13) دلوں کا ذکر کیا‘ یہ 13 دل تیرہ قسم کے لوگ ہیں۔

میں نے پاکستان واپس آکر یہ پوری ریسرچ پڑھی تو میں دیر تک سرشاری کی کیفیت میں رہا‘ بے شک ہر علم اللہ کی ذات سے پھوٹتا ہے اور علم کی ہر شاخ انسانی دماغ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے‘ آپ بھی اللہ کی طرف سے 13 لوگوں کی تقسیم ملاحظہ کیجیے اور سمیع العلیم کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا۔اللہ تعالیٰ کی نظر میں پہلا دل قلب سلیم ہے ‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو کفر‘ نفاق اور گندگی سے پاک ہوتے ہیں‘ قلب سلیم کے مالک لوگ ذہنی اور جسمانی گندگی بھی نہیں پھیلاتے اور یہ خود بھی نفاق اور کفر سے پاک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان سے بچا کر رکھتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کو یہ دل اچھے لگتے ہیں۔

دوسرا دل قلب منیب ہوتا ہے ‘یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں‘آپ کو زندگی میں بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو سر تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گم رہتے ہیں‘ ان لوگوں کی واحد نشانی توبہ ہوتی ہے‘ یہ اللہ سے ہر وقت معافی اور توبہ کے خواستگار رہتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ منیب لوگوں کو بھی پسند کرتا ہے۔ تیسرا دل قلب مخبت ہے ‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو جھکے ہوئے‘ مطمئن اور پرسکون ہوتے ہیں‘ میں نے زندگی میں عاجز لوگوں کو مطمئن اور پرسکون پایا‘ آپ بھی اگر سکون اور اطمینان چاہتے ہیں تو آپ بھی عاجزی اختیار کر لیں آپ کو سکون کی دوا نہیں کھانا پڑے گی۔

عاجزی وہ واحد عبادت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا’’جو کوئی بھی اللہ کے لیے جھکتا ہے (عاجزی اختیار کرتا ہے) اللہ اس کو بلند کر دیتا ہے ‘‘چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخبت دل بھی پسند ہیں۔

چوتھا دل قلب وجل ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو نیکی کے بعد بھی یہ سوچ کر ڈرتے رہتے ہیںکہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ ہماری یہ نیکی قبول کرے یا نہ کرے‘ یہ لوگ ہر لمحہ اللہ کے عذاب سے بھی ڈرتے رہتے ہیں‘ یہ بنیادی طور پر تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں‘ یہ جانتے ہیں اللہ نے اپنے انبیاء کو بھی غلطیوں کی سزا دی تھی‘ ہم کس کھیت کی مولی ہیں چنانچہ یہ اپنی بڑی سے بڑی نیکی کو بھی حقیر سمجھتے ہیں‘ اللہ کو یہ دل بھی پسند ہیں۔

پانچواں دل قلب تقی ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہیں‘ ہم میں سے بے شمار ایسے لوگ ہیں جو شعائر خداوندی پر مکمل عمل نہیں کر پاتے تاہم یہ ان شعائر کی عبادت کی طرح تعظیم کرتے ہیں‘ یہ لوگ اگر کسی مجبوری سے عبادت نہ کر سکیں تو بھی یہ روزہ داروں کے سامنے کھاتے پیتے نہیں ہیں اور یہ نماز اور اذان کے وقت خاموشی اختیار کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں‘ چھٹا دل قلب مہدی ہے‘یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ کے فیصلوں پر بھی راضی رہتے ہیں اور یہ اللہ کے احکامات کو بھی بخوشی قبول کر لیتے ہیں‘ آپ نے ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو ہر برے واقعے کے بعد کہتے ہیں جو اللہ کی مرضی‘ جو اللہ چاہے‘ اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں‘ میں نے زندگی میں کبھی ایسے لوگوں کو خسارے میں نہیں دیکھا‘ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے لیے برائی کے اندر سے اچھائی نکالتا ہے‘ لوگ ان کے لیے شر کرتے ہیں لیکن اللہ اس شر سے خیر نکال دیتا ہے۔

ساتواں دل قلب مطمئن ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہوتے ہیں جن کو اللہ کی توحید اور ذکر سے سکون ملتا ہے‘ قلب مطمئن بنیادی طور پر صرف اور صرف اللہ پر یقین رکھتا ہے‘ یہ دن رات اللہ کا ذکر (تسبیحات) بھی کرتا رہتا ہے‘ میں خود ماشاء اللہ 25 سال سے تسبیحات کر رہا ہوں اور میں نے تسبیحات کرنے والے بے شمار لوگ بھی دیکھے ہیں‘یہ لوگ واقعی مطمئن اور خوش رہتے ہیں‘ آپ بھی اگر ملال اور حزن سے بچنا چاہتے ہیں تو میری درخواست ہے آپ تسبیح شروع کر دیں‘ آپ کا دل اطمینان اور خوشی سے بھر جائے گا‘ درود شریف اور لاحول ولا قوۃ الاباللہ بہترین تسبیحات ہیں‘ آپ ان کو معمول بنا لیں اور آپ پھر کمال دیکھیں‘ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں۔

آٹھواں دل قلب حئی ہے ‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ کی نافرمان قوموں کا انجام سن کر ان سے عبرت اور نصیحت حاصل کرتے ہیں‘ ہم میں سے جو لوگ کم تولنے‘ جھوٹ بولنے‘ شر پھیلانے‘ شرک‘ کفر اور تکبر کرنے‘ برائی کی ترویج کرنے اور بچوں‘ عورتوں اور جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام سن اور دیکھ کر توبہ کر لیتے ہیں اور اپنی زندگیاں ان گناہوں سے پاک کر لیتے ہیں اللہ کی نظر میں وہ لوگ قلب حئی ہوتے ہیں اور اللہ انھیں بھی پسند کرتا ہے۔

نواں دل قلب مریض ہیں‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو شک‘ نفاق‘ بداخلاقی‘ ہوس اور لالچ کا شکار ہوتے ہیں‘ ہم لوگ لالچ‘ ہوس‘ بداخلاقی‘ نفاق اور شک کو عادتیں سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت میں یہ روح اور دماغ کی بیماریاں ہیں اور جو لوگ ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں وہ اذیت ناک زندگی گزارتے ہیں‘ اللہ ان لوگوں اور ان کے دلوں کو مریض سمجھتا ہے‘ میرا دعویٰ ہے آپ اپنی زندگی میں صرف شک کا مرض پال لیں آپ چند برسوں میں دل‘ پھیپھڑوں‘گردوں اور جسمانی دردوں کی دوائیں کھانے پر مجبور ہو جائیں گے اور آپ بس شک کی عادت ترک کر دیں آپ کی ادویات کم ہونے لگیں گی‘ آزمائش شرط ہے۔

دسواں دل قلب الاعمی ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں‘ یہ بے حس لوگ ہوتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ انھیں اندھے اور بہرے لوگ سمجھتا ہے اور مومنوں کو حکم دیتا ہے تم بس انھیں سلام کرو اور آگے نکل جائو‘ یہ بنیادی طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے قدرت بھی مایوس ہو جاتی ہے‘ مجھے جب اور جہاں بھی یہ لوگ ملتے ہیں میں ان سے فوراً کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور آگے چل پڑتا ہوں‘ یقین کیجیے میری زندگی میں بہت سکون ہے اور میں نے جب بھی انھیں سمجھانے کی کوشش کی میرا بلڈ پریشر بڑھ گیا چنانچہ آپ بھی اللہ کی نصیحت پر عمل کریں‘ انھیں سلام کریں اور آگے نکل جائیں۔

گیارہواں دل قلب اللاھی ہے‘ یہ وہ دل ہے جو قرآن سے غافل اور دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہے‘ اللہ ان غافل لوگوں کو بھی پسند نہیں کرتا اور یہ بھی بالآخر عبرت کا نشان بن جاتے ہیں‘ بارہواں دل قلب ا لآثم ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو حق پر پردہ ڈالتے اور گواہی چھپاتے ہیں‘ آپ تاریخ پڑھ لیں آپ گواہی چھپانے اور حق پر پردہ ڈالنے والے معاشروں اور لوگوں کو تباہ ہوتے دیکھیں گے‘ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند نہیں اور تیرہواں اور آخری دل متکبرہوتا ہے‘ یہ لوگ تکبر اور سرکشی میں مبتلا ہوتے ہیں‘ یہ اپنی دین داری کو بھی گھمنڈ بنا لیتے ہیں یوں یہ ظلم اور جارحیت کا شکار ہو جاتے ہیں‘ کبر اللہ کا وصف ہے‘ اللہ یہ وصف کسی انسان کے پاس برداشت نہیں کرتا چنانچہ معاشرہ ہو‘ ملک ہو یا پھر لوگ ہوں تاریخ گواہ ہے یہ فرعون اور نمرود کی طرح عبرت کا نشان بن جاتے ہیں‘ دنیا میں آج تک کسی مغرور شخص کو عزت نصیب نہیں ہوئی‘ وہ آخر میں رسوائی اور ذلت تک پہنچ کر رہا‘ اللہ کو یہ دل بھی پسند نہیں۔

آپ ان 13 دلوں کو سامنے رکھیں اور اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں‘ آپ کے سینے میں اگر کوئی برا دل ہے تو آپ توبہ کریں اور اچھے دل کی طرف لوٹ جائیں‘ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے کرم اور فضل کے دروازے کھول دے گا‘ آپ یقین کر لیں اللہ کے سوا اس دنیا میں کوئی طاقت نہیں‘ یہ اگر آپ کے ساتھ ہے تو پھر کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر آپ کو اس کاساتھ نصیب نہیں تو پھر آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا‘ آپ خواہ فرعون ہوں یا نمرود آپ عبرت بن کر رہیں گے۔