دکھ منافقت، چھپے ایجنڈے کا، غم ذاتی مفاد پر قومی مفاد قربان کرنے کا، بلاول نے کہا شیخ رشید کے جہادی کیمپ، شہریار آفریدی، اسد عمر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے، شیخ رشید آٹھویں بار وزیر، 3چار دہائیوں سے سیاست میں، بلاول کو آج ہی کیوں ان کا جہادی پن یاد آیا، بلاول کا کبھی کوئی بیان کہ شیخ رشید جہادی کیمپوں والے، ان پر پابندی لگائی جائے، 5سال بلاول کے والد صدر رہے، 5سال حکومت رہی، بلاول کبھی بولے، کوئی ایک بیان، کوئی ایک تقریر، پھر شیخ رشید کو وزیر بنے 7ماہ ہو چکے، بلاول کو ساڑھے 6ماہ شیخ رشید کے جہادی کیمپ کیوں یاد نہ آئے۔

شہریار آفریدی وزیر اب بنے، 5سال ایم این اے رہے، بلاول نے کبھی کوئی بات کی، کبھی کہا شہریار آفریدی کا فلاں سے تعلق، یہ فلاں فلاں کاموں میں ملوث، شہریار 5چھ ماہ سے وزیر، بلاول بولے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا جس روز شہریار آفریدی حلف اٹھاتے، بلاول اسی روز پریس کانفرنس کر کے بتاتے ’’ عمران خان ایسے شخص کو وزیر بنا رہے جس کا کالعدم تنظیموں سے تعلق‘‘، مگر ایسا کچھ نہ ہوا، اب آجائیں اسد عمر پر، بلاول انہیں اس لئے وزارت سے فارغ کروانا چاہ رہے کہ اسد عمر نے پچھلے انتخابات کے دوران حرکت المجاہدین کے بانی مولانا فضل الرحمٰن خلیل سے ملاقات کی، انتخابی مدد مانگی، اب یہ رہنے دیں کہ بلاول کو اسد عمر کا یہ قصور 10ماہ بعد یاد کیوں آیا، اسد عمر تو 7ماہ سے وزیر بھی، یہ بھی رہنے دیں کہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل سیاسی عمل کا حصہ بن کر سیاسی عمل میں شریک، بلاول کو تو مولانا خلیل جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے جو اپنا ماضی چھوڑ کرسیاسی عمل کا حصہ بن رہے، اسے بھی چھوڑ دیں کہ مولانا خلیل شیعہ، سنی اتحاد کے حامی، فرقہ واریت کیخلاف، پہلے دن سے خود کش حملوں کے مخالف، لیکن پھر بھی اگر مولانا خلیل سے ملنا، ساتھ بیٹھنا اتنا بڑا جرم کہ اسد عمر سے وزارت لے لینی چاہئے تو ابھی 3فروری کو اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن نے ’آل پارٹیز کشمیر کانفرنس‘ بلائی، کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن اور زرداری صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے مولانا فضل الرحمٰن خلیل اور جماعت الدعوہ کے نائب سربراہ امیر حمزہ، کیا بلاول نے زرداری صاحب کو شوکاز نوٹس جاری کیا، کیا بلاول نے زرداری صاحب کو پارٹی کے عہدےسے ہٹایا، یہ کہا، بابا جانی چونکہ آپ مولانا فضل الرحمٰن خلیل، امیر حمزہ کے ساتھ بیٹھ چکے لہٰذا اب آپ کو اس عہدے پررہنے کا کوئی حق نہیں؟اب یہ رہنے دیں کہ بلاول نے اپنے والد کے 5سالہ دورِ اقتدار میں کالعدم تنظیموں کے حوالے سے عملی طور پر کیا تیر مارے، 11سال سے سندھ میں اپنی حکومت، وہاں کیا کر لیا، اس تفصیل کو بھی رہنے دیں کہ پیپلز پارٹی نے کس الیکشن میں کس کالعدم تنظیم سے انتخابی مدد لی، اس دکھ کو بھی چھوڑ دیں کہ بلاول کا پہلا بیان ٹھیک اسی روز آئے جس روز اقوام متحدہ میں مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پر ووٹنگ ہو، اس دکھ کو بھی چھوڑیں کہ جب پاک بھارت کشیدگی ہو، جب بھارت پوری دنیا میں پاکستان کو انتہا پسند، دہشت گرد قرار دلوانے کیلئے سرگرم ہو، جب پاکستان پوری دنیا میں اپنی امن پسندی کا مقدمہ لڑ رہا ہو، جب معاملہ ملکی بقا کا ہو، تب بلاول کا یہ کہہ دینا ’’پاکستانی حکومت دنیا کو الو بنا رہی، اس نے دہشت گردی، انتہا پسندی کے خلاف کیا ایکشن لینا، اس کے تو اپنے وزراء جہادی، کالعدم تنظیموں کے ساتھی‘‘ کیا یہ جلتی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف نہیں، کیا یہ وطن دوستی ہے؟

بلاشبہ کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن وقت کی ضرورت، بلاشبہ اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ نہیں ہونی چاہئے، بلاشبہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی ملکی مفاد میں، بلاشبہ یہ سب صرف اور صرف پاکستان کیلئے، اپنے لئے، آنے والی نسلوں کیلئے کرنا، بلاشبہ یہ اس لئے کرنا کہ 75ہزار شہادتوں، کھربوں کے نقصان، آدھی قوم کو ذہنی مریض بناکر، سینکڑوں کرائسٹ چرچ بھگت کر بھی دنیا ہمیں ’مشکوک‘ سمجھے، بلاشبہ یہ اس لئے بھی کرنا کہ اتنی قربانیوں کے بعد ہمارے دوست ممالک بھی ہم سے مطمئن نہیں، بلاشبہ اپنے گھر کی سلامتی کیلئے اپنے گھر کے مسائل حل کرنے، بلاشبہ یہی حکومت کہہ رہی، یہی ملٹری قیادت کا خیال، یہی قوم چاہے اور بلاشبہ نیشنل ایکشن پلان کے نام سے اسی پر تمام سیاسی جماعتیں بھی متفق، مگر بلاول نے جو کیا، وہ کچھ اور، اس کے پیچھے کچھ اور، یہ Next Levelکی گیم، یہاں یہ بتاتا چلوں بلاول کا دوسرا بیان جس میں وہ فرما چکے ’’حکومت نے کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کو تو صرف اس لئے گرفتار کیا کہ کہیں بھارتی طیارے انہیں اڑا نہ دیں‘‘، موجودہ حالات، یہ بات، یا تو وہ کرے جس کا اوپر والا پورشن خالی یا وہ جو بہت عیار، بلاول کے منہ سے یہ نکلنا، یہ بیان بھی بڑا سوچ سمجھ کر دیا گیا۔

کیسے، مطلب یہ دونوں بیان کیوں، بات بڑی سادہ سی، یہ اس لئے، یہی اسکرپٹ بلاول کو پکڑایا، رٹایا گیا، اس لئے کہ یہ زرداری صاحب کی خواہش، اس لئے کہ مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا، منی لانڈرنگ، کرپشن کیسوں سے جان چھڑانی، اس لئے کہ ثبوتوں بھری دو نمبریوں، فراڈوں، گھپلوں سے بچنا، اس لئے کہ ریاستی اداروں کو پیغام پہنچانا کہ ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں، مٹی پاؤ، ساڈا ہتھ پھڑو، اس لئے کہ بلاول کو بھی معلوم ’’میں ایک سال کا تھا جب کمپنی کا شیئر ہولڈر بنا، اس کے بعد میرا کمپنی سے کوئی لینا دینا نہیں‘‘، یہ جھوٹ کہانی پکڑی گئی، اس لئے کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں لگے کاغذات بتائیں ’’بلاول 2008ء میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بنے، مالک ہوئے، کمپنی کی آڈٹ رپورٹیں، اکاؤنٹس شیٹوں پر دستخط کرتے رہے، اس لئے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم تھری، صفحہ 525پر 30جون 2011کی کمپنی بیلنس شیٹ پر بلاول نے 31اکتوبر 2011کو دستخط کئے، اس لئے کہ زرداری گروپ کے کئی کاغذات بتا رہے، بلاول کی کمپنی میٹنگوں، دستخطوں کی داستانیں، اس لئے کہ بلاول کی اسلام آباد کی زمین قبضے والی نکلی، اس لئے کہ بلاول نے ماں کی طرف سے ملا اسلام آبادکا فلیٹ ڈیکلیئر ہی نہیں کیا ہوا، اس لئے کہ دادا کی طرف سے ملی زمینیں دادا نے کبھی ڈیکلیئر نہ کیں، اور اس لئے کہ زرداری صاحب سے فریال تالپور اور مراد علی شاہ سے انور مجید تک ’کھال بچاؤ، مال بچاؤ‘ کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔

ویسے داد دیں نسل در نسل بے گھروں، بھوکے ننگوں، 50سال سے روٹی، کپڑا، مکان کے زیرو پوائنٹ پر رُلتی مخلوق کے ارب پتی بلاول کو، ٹوٹل مایوسی، جھوٹ پہ جھوٹ، یوٹرن پہ یوٹرن، انور مجیدوں کے دفاع میں چیخ چیخ کر ہلکان، ویسے داد دیں زرداری صاحب کو، بلاول کو بھی اپنے رنگ میں رنگ دیا، ایک زرداری سب پہ بھاری، اب نعرہ یہ ہونا چاہئے، ایک زرداری دو نسلوں پہ بھاری۔ یاد آیا، 20مارچ کی دوپہر نیب ٹیم دو گھنٹے کی پیشی بھگت کر 11رکنی ٹیم کے سوالوں کے جواب دے کر بیٹے بلاول کے ہمراہ جھکی کمر کے ساتھ نیب سے نکلتے زرداری صاحب کو دیکھ کر بے اختیار وہ آصف زرداری یاد آگئے، جنہوں نے کہا تھا ’’چیئرمین نیب کی کیا مجال، کیا حیثیت، کیا اوقات‘‘، افتخار عارف کا شعر سنئے:۔

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں