سعودی عرب سیاسی، سماجی اور معاشی تبدیلیاں کے ایک ناقابل یقین عہد رسے گزررہاہے۔ ولی عہد جو عملاً ملکی معاملات کی کمان کررہے ہیں نہ صرف سماجی اور مذہبی آزادیوں کے دروازے کھول چکے ہیں بلکہ سعودی عرب کی قدامت پسندانہ سیاسی فکر میں بھی تیزی سے تبدیلیاں لارہے ہیں۔ ان کے بعض اقدامات ہوا کا تازہ جھونکا تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ وقت کے تقاضوں اور عہد نو کی ضرورت سے ہم آہنگ ہیں۔ سعودی عرب میں سیاسی اور سماجی سطح پرآنے والی تبدیلیاں کا اثر پوری دنیا کے مسلمانوں پر پڑتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں سعودی عرب کے حکمرانوں اور طبقہ اشرافیہ نے جہاں بہت سارے اچھے کام کیے وہاں مسلمانوں میں تقسیم اور فرقہ ورانہ آگ بھڑکانے کا باعث بھی بنے۔ انہوں نے اپنے مالی وسائل کے ذریعے پوری دنیا میں اسلام کی ایک مخصوص لیکن غیر لچک دار اور سخت گیر تعبیر کو غالب کرنے کی شعوری کوشش کی۔ اس مخصوص تصور مذہب کے باعث مسلمان باہم دست وگریباں ہوئے اور بات جنگوں اور مسلح تصادم تک بھی جاپہنچی۔

محمد بن سلمان نے کھلے دل سے تسلیم کیاکہ سعودی عرب نے مسلم دنیا میں وہابی مذہبی فکر کا پرچار مغربی حلیفوں کی خواہش پر کیاتھا۔ سعودی عرب سرکاری سطح پر اب اس پالیسی سے تائب ہوچکا ہے۔ عورتوں پر عائد ناروا پابندیاں بھی اٹھائی جاچکی ہیں۔ اب سماجی ہی نہیں کاروباری امور میں بھی ان کی شرکت کا دروزہ کھل گیا ہے۔ دیر آید درست آید کے مصداق اگر سعودی عرب کا حکمران طبقہ نسبتاً اعتدال پسند اسلام کے تصور کی طرف مراجعت کررہاہے تو اس کا استقبال کیا جانا چاہیے۔

محمد بن سلمان سعودی عرب کے سیاسی اور سماجی نظام کے ساتھ ساتھ معیشت میں بھی جوہری تبدیلیاں لارہے ہیں۔ حال ہی میں وژن 2030 کے نام سے انہوں نے ایک طویل المیعاد ترقی کا منصوبہ پیش کیا جو سعودی عرب کو ایک بلکل مختلف ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھارسکتاہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آرام طلب سعودی شہری معاشی سرگرمیوں میں نہ صرف حصہ لیں بلکہ وہ ملکی ترقی میں غیر ملکی کارکنوں جنہیں سعودی عمومی طور پر ”خارجی“ کے نام سے پکارتے ہیں، کی جگہ سنبھالیں۔ چنانچہ غیر ملکی کارکنوں کو بتدریج ملک سے نکالنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ اگلے چند برسوں میں سوائے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ تربیت رکھنے والے افراد کے علاوہ سعودی عرب سے غیرملکیوں کی اکثریت کا انخلاء ہوجائے گا۔

محمد بن سلمان ابھی جواں عمر اور توانائی سے بھرپور ہیں۔ انہوں نے سعودی نظام میں جس تیزی سے اصلاحات کی ہیں اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اصلاحات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور مخالف نقطہ نظر کو سختی سے کچلنے کی خاطر انہوں نے اپنے پاس کئی ایک اہم عہدے رکھے ہیں۔ اس طرح طاقت اوراختیارات کا ایک ہاتھ میں ارتکاز ہوگیا ہے۔ محمد بن سلمان جہاں اصلاحات پسند ہیں وہاں وہ سخت گیر بھی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران انہوں نے شاہی خاندان کے نمایاں لوگوں کو نہ صرف اعلیٰ عہدوں سے سبکدوش کیا بلکہ کئی ایک سے زبردستی لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں داخل کرائی۔

امریکہ کے موجودہ حکمران طبقے سے محمد بن سلمان نے گہرے تزویراتی اور ذاتی تعلقات استوار کیے ہیں۔ سابق صدر بارک حسین اوباما نے ایران کے ساتھ تعلقات کو ہموار کرنے کی کوشش کی تھی جو سعودیوں کو سخت ناگوار گزری لیکن اب امریکہ ایران کو سعودی عرب کی ہی آنکھ سے دیکھنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ وہ صدر ٹرمپ کے دل او ردماغ میں ڈالروں کے استعمال کے ذریعے اترے ہیں۔ سعودی عرب نے صدر ٹرمپ سے لگ بھگ چار سو بلین ڈالر کا اسلحہ خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اسلحہ غالباً طاقوں میں سجایا جائے کیونکہ اس کا کوئی استعمال نظر نہیں آتا۔ محمد بن سلمان کا مقصد امریکہ کو ہر قیمت پر اپنا ہمرکارب رکھنا ہے کیونکہ اسی میں ان کی بقا کا راز مضمر ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تجوریوں کے دہانے کھول دیے اور ٹرمپ انتظامیہ اونے پونے اپنے ہتھیار انہیں فروخت کررہی ہے۔ انہوں نے امریکہ میں اسرائیل کے حوالے سے بھی ایک مفاہمانہ بیان جاری کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کا براہ راست کوئی تنازعہ نہیں۔

محمد بن سلمان ملک کے اندر جو اصلاحات کررہے ہیں ان کا یقیناً فائدہ سعودی معاشرے اور مملکت کو ہوگا لیکن ان کی علاقائی مسائل کے حل کی حکمت عملی نہ صرف ناقص بلکہ پورے خطے کا امن تبا ہ کرسکتی ہے۔ ایران کو تنہا کرنے کی کوششو ں کے جواب میں ایران زیادہ جوش وخروش کے ساتھ سعودی عرب کو چیلنج کرتاہے۔ ایران، ترکی اور قطر کے درمیان ابھرنے والے اتحاد سے بھی اندازہ کیاجاسکتاہے کہ خطے میں سعودی عرب کے اثر ورسوخ کو سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں۔ سعودی لیڈرشپ اور خاص کر محمد بن سلمان جنہیں میڈیا میں ایم بی ایس کے نام سے پکاراجاتاہے، ترک صدر طیب اردوان کے خلاف سخت زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ ترکوں اور سعودی عرب کی موجودہ حکمران خاندان کے مابین بیسویں صدری کے اوئل سے اختلافات چلے آتے ہیں۔ عالم یہ ہے محمد بن سلمان نے ترکی کو ”بدی کی قوتوں“ کا شراکت دار قراردیا جن میں ایران اور دیگر شدت پسند گروہ شامل ہیں۔

سعودی عرب اور امریکہ کی قربت کے باعث خطے میں نظریاتی اور سیاسی سطح پر جو خلاء پیدا ہوا اسے ترک حکومت نے بڑی مہارت سے پر کیا۔ آج کل عرب نوجوان ترک صدر طیب اردوان کو مشرق وسطی میں فلسطینیوں کا زیادہ بڑا حلیف قراردیتے ہیں۔ صدراردوان نے فلسطین کی آزادی اور ان کی جدوجہد کی حمایت میں کبھی لیت ولعل سے کام نہیں لیا۔ ایران بھی فلسطین کے ایشو پر اسرائیل کو چیلنج ہی نہیں کرتا بلکہ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی اعلانیہ سرپرستی بھی کرتاہے۔ قطر اور ترکی دونوں اخوان المسلمین کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ چند دن قبل ترک حکومت نے اخوان کے نوے سال پورے ہونے پر تقریبات کی سرکاری سطح پر میزبانی کی۔ ترکی اخوان کو ایک سیاسی تحریک تصور کرتاہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور مصر نے اسے دہشت گرد جماعت قراردیا ہوا ہے۔

قرائن بتاتے ہیں کہ مشرق وسطی کے ممالک میں نہ صرف معاشی اور سماجی تبدیلیاں دستک دے رہی ہیں بلکہ سیاسی منظر نامے پر اتھل پتھل کے امکانات بھی روشن ہیں۔ محمد بن سلمان کو غالباً اندازہ نہیں کہ جنگیں اور پڑوسیوں کے ساتھ تصادم ریاستوں اور معاشروں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ ان کی اقتصادیات تباہ ہوجاتی ہے اور شہری مفکوک الحال۔ سعودی عرب کو خطے کے ممالک بالخصوص قطر، ترکی اور ایران کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا چاہیے تاکہ مشرق وسطی میں امن واستحکام متاثر نہ ہو۔ دوسری صورت میں یہ ممالک مل کر سعودی عرب کو عدم استحکام کا شکار کرسکتے ہیں جو نہ صرف خطے کے مفاد میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

پاکستان ًمسلم دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے سعودی عرب، ترکی، ایران اور قطر کے ساتھ بیک وقت دوستانہ تعلقات ہیں۔ اگرچہ اسلام آباد میں قائم حکومت کو عام الیکشن کا معرکہ درپیش ہے لیکن اس کے باوجود اسے ان ممالک کے درمیان مفاہمت کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس طرح پاکستان ڈھنڈروا پیٹے بغیر مسلم دنیا کا لیڈر بن کر ابھرے گا۔

Source