ٹویٹ

صحافی اور کالم نگار عاصمہ شیرازی نے بھی میجر جنرل آصف غفور سے سوال کیا کہ انڈین طیارے اگر پاکستان کی فضائی حدود میں اتنی دور تک آگئے تھے تو ’میرا سوال یہ ہے کہ ہم نے انھیں جانے کیوں دیا؟‘

 

 

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی یہ کارروائی ایک سٹریٹیجک غلطی ہے اور اس سے صرف دونوں ہمسایوں کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں اضافہ ہوگا۔

 

 

ٹویٹ

 

دوسری جانب انڈین سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر گرما گرم بحث ہوتی رہی۔

انڈیا کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ 1971 کے بعد انڈیا کا پہلا بڑا حملہ تھا۔

 

ٹویٹ

 

صحافی برکھا دت نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے حملے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے پہلے 1999 میں وزیرِاعظم واجپائی نے فضائی حملے کی اجازت نہیں دی تھی۔

 

ٹویٹ

 

پی ایچ ڈی سکالر مانیکا نے صورتِحال پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالاکوٹ حملے پر جوابی فوجی کارروائی نہیں کر سکتا کیونکہ اُس کی معاشی صورتِحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہے اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر آنے کے بعد اس پر دہشتگردوں کے کیمپوں کا خاتمہ کرنے کے لیے کافی دباؤ ہے۔

 

ٹویٹ

 

کشمیری صارف علی نے اس معاملے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے سے صرف اور صرف درخت اور بیل بوٹے ہی تباہ ہوئے ہوں گے۔

 

ٹویٹ

 

کون سا بالاکوٹ؟

 

ٹویٹ

 

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی پہلی ٹویٹ میں مبینہ حملے کی جگہ ’بالاکوٹ کے قریب‘ بتائی تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کون سے بالاکوٹ کا ذکر کیا تھا۔

 

بالاکوٹ

 

اس بحث میں دونوں طرف سے کئی صحافی اور حکومتی اہلکار بھی شامل ہوئے۔

 

ٹویٹ

 

صحافی برکھا دت اور ادتیا راج کول نے اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ مبینہ حملہ لائن آف کنٹرول پر واقع گاؤں کے قریب نہیں ہوا۔

 

ٹویٹ

 

تاہم انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’اگر تو یہ حملہ خیبرپختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے قریب ہوا ہے تو یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔‘

 

ٹویٹ

 

لیکن سابق فوجی اہلکار وجاہت اللہ صافی نے اسرار کیا کہ یہ حملہ پونچھ سیکٹر کے گاؤں میں ہی ہوا۔

 

ٹویٹ

 

تاہم میجر جنرل آصف غفور نے کچھ دیر بعد ایک اور ٹویٹ بھی کی جس میں انھوں نے مزید تفصیلات دیں۔

کئی لوگوں نے اس ٹویٹ سے مراد یہ لی کہ میجر جنرل آصف غفور اپنی پہلی ٹویٹ میں خیبرپختونخوا میں واقع بالاکوٹ شہر کی ہی بات کر رہے تھے، جو کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے قریب ہے۔

 

بی بی سی اردو