دوستو میں آپ لوگوں کو بہت ہی خاص نسخہ بتانے والا ہوں جس کے بعد آپ لوگوں کو مباشرت کرنے کا بہت مزہ اے گا آج کے نسخے سے آپ لوگوں کو باتوں گا کہ کیسے مردانہ ٹائمنگ بڑھتی ہے اور بیوی کو اس کی سوچ سے بھی زیادہ مزہ ملے گا مگر اگر عورت کو فل مزہ دینا ہو تو سب سے پہلے اس کو فل گرم کرنے کا طریقہ پتا ہونا چاہے پہلے آپ لوگوں کو عورت کو گرم کرنے کا نسخہ بتاتا ہوں اورپھر ٹائمنگ زیادہ کرنے کا نسخہ بتاؤ گا .

طرح کے بیکٹیریا، پسینہ، جلد کے مردہ خلیات آپ کی ناف میں جمع رہتے ہیں جو بدترین قسم کی بدبو اور بعض اوقات بیماری کا سبب بھی بن جاتے ہیں.

ناف میں جمع ہونے والے جراثیموں کی وجہ سے انفیکشن، سوزش، خارش وغیرہ جیسی بیماریاں عام پائی جاتی ہیں. ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ان مسائل سے محفوظ رہنے کے لئے آپ کو اپنی ناف کی صفائی روزانہ کرنی چاہیے اور ناف کی صفائی کے بعد اسے صاف کپڑے یا تولیے سے خشک ضرور کریں. اگر آپ اسے صاف کرتے ہیں لیکن نمی اس کے اندر باقی رہتی ہے تو وہ بھی بدبو او رانفیکشن کا سبب بن سکتی ہے.

کچھ لوگ ناف کو بھی اسی طرح چھدوالیتے ہیں جیسے کان یا ناک چھدوائے جاتے ہیں. یہ لوگ ناف کی پوری طرح صفائی نہیں کرپاتے جس کی وجہ سے انفیکشن کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے. اسی طرح موٹاپے کے شکار افرا دبھی ناف کی صفائی میں سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے.نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے

عورت کیا ہوتی ہے؟ عورت کی زندگی کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ صرف اتنا کہ وہ جوانی کو پہنچے تو شادی ہوجائے؟ کیا لڑکی کی زیادہ پڑھنے کی خواہش اس کی شادی میں رکاوٹ ہوتی ہے؟ ایک لڑکی کی شادی کس عمر میں ہو جانی چاہئے؟ کیا وقت پر شادی ہو جانا عورت کی صحت مند زندگی کی ضمانت ہوتا ہے؟ لڑکی کی صحت کتنی ضروری ہوتی ہے؟ اچھی صحت کی شناخت کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟ بس یہ کے لڑکی لمبی، چاق و چوبند ہو؟ بجلی کی طرح پھرتیلی؟ کیا مرد کا عورت سے شادی کرنا صرف اولاد کا ہی حصول ہوتا ہے؟۔

اگر مرد کی عمر زیادہ ہے اور لڑکی کی کم تو کیا یہ لڑکی کا قصور ہے کہ وہ ہر سال نیا مہمان گھر لائے؟ کچھ افراد عورت کو صرف مشین سمجھتے ہیں جو ان کی مرضی سے بچے پیدا کرے، کیونکہ اچھی بیوی وہ ہی ہوتی ہے جو شوہر کا حکم بجا لائے، کیا عورت کو ہر بات شوہر کی ماننی چاہئے؟ اگر ایک عورت کو نظر آ رہا ہے کہ اس کا شوہر انتہائی لاپرواہ ہے جسے نہ گھر سے کوئی مطلب ہے نہ بچوں سے، وہ صرف کماتا ہے اور گھر آ کر سو جاتا ہے ، اپنی صحت پر بھی ذرا نظر ثانی فرماٗئیں کہ پال سکتی بھی ہیں ہر سال نئے مہمان کو اور شوہر کو جو ہر مسئلے کا حل اپنی بیگم کو ہی سمجھتا ہے۔۔

پاکستان میں نہ جانے کتنی خواتین غذائی قلت کے باعث موت کو منہ لگا لیتی ہیں، اگر آپ کی صحت اور وسائل اس نوعیت کی ہیں کہ آپ بچوں اور اپنی، دونوں کی صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں، کھلانے کو کھانا اور پہنانے کو کپڑے ہیں، گھر والے آپ کے ساتھ دوستانہ ہیں، آپ سے اور آپ کے بچوں کا خیال رکھنے کا درد ہے تو ضرور پیدا کریں مگر صحت کو نظر انداز نہیں کریں، کیونکہ آپ کی صحت ہوگی تو ہی آپ بچے پال سکیں گی، آپ کی زندگی کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا نہیں ہوتا، ایک ماں کو بچوں کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے، پیسے کی ضرورت پڑتی ہے، اچھا ہمدرد شوہر چاہئے ہوتا ہے جسے بحیثیت شوہر اپنی ذمے داریوں کا احساس ہو، اگر آپ کا شوہر اس قابل نہیں تو اپنے وجود اور بچوں کے مستقبل پر رحم فرمائیے، شادی سزا نہیں ہوتی اور شوہر حاکم اور آپ ملازم نہیں ہوتیں، ہمارے ہاں بس یہی رجحان پایا جاتا ہے کہ بس جلدی جلدی بچے ہوں گے تو ایک ساتھ بڑے ہوجائیں گے،

ماں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی یہ نہیں سوچتے کہ ہر بچہ الگ توجہ مانگتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ سب بچوں کو ایک ساتھ بھوک لگے، نیند آئے، سارے ایک ساتھ کھییلیں اور ایک ساتھ نیند لیں۔ساری محنت ماں کی ہوتی ہے، اور اگر بچے نظر انداز ہوتے ہیں تو یہ کلمات تمغے کے طور پر دے دئے جاتے ہیں، تمھیں تو تربیت کرنی ہی نہیں آتی نہ بچے صاف رہتے ہیں نہ ہی گھر، میں یہ پوچھتی ہوں کہ وہ مرد حضرات جو ہر وقت بیوی کو بچوں کی تربیت کا درس دیتے ہیں خود کتنا وقت دیتے ہیں بچوں کو؟ بچوں کا رونا انھیں پسند نہیں ہوتا، نیند میں خلل آتا ہے، پاکی نا پاکی کا الگ شور، بیوی پر الگ الزام کہ اپنا خیال رکھنا نہیں آتا، اچھے کپڑے پہنا کرو، کیا حال بنا رکھا ہے، بچوں کو نہلا بھی دیا کرو، کوئی آئے گا تو کیا سوچے گا میری کیسی بیوی ہے، گھر کیسا رکھا ہوا ہے۔
اس قسم کے مرد حضرات سے سوال کرنے کو دل چاہتا ہے کہ بھائی آپ نے بیگم کا کتنا خیال رکھا ہے؟ صرف اتنا کہ آپ اسے اپنی تنخواہ میں سے کچھ پیسے ہر ماہ دے دیا کرتے ہیں، اسے اپنے کمرے میں بچوں کی فوج ظفر موج کے ہمراہ رہنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور بعض اوقات خود کسی اور کمرے میں جاکر آرام فرما لیتے ہیں تاکہ بیوی بچوں کے ساتھ سکون سے سوئے، شاید ہی سو میں سے کوئی پانچ فیصد مرد ایسے ہوتے ہیں جو بیوی کی صحت اور بچوں کی پرورش کے حوالے سے حساس اور فکرمند ہوتے ہیں اور آمدنی کو مد نظر رکھ کر فیملی پلان کرتے ہیں اور گھریلو معاملات کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور بیوی کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مرد ہو یا عورت شادی کا مقصد بچوں کی گنتی پورا کرنا نہیں ہونا چاہئے،۔۔

عورت کے منہ میں بھی خدا نے زبان دی ہے کہ وہ اپنے حق کے حوالے سے بات کرے، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت رکھتی ہو، جائز بات سنے، اور کرے ، آپ کوئی چابی کی گڑیا نہیں ہوتیں کہ آپ شوہر کو اس کی مرضی کا تماشہ دکھاٗ ئیں، جہاں بولنا ہے بولیں اور جہاں نہیں بولنا چپ رہیں لیکن اپنی صحت اور بچوں کے مستقبل پر سمجھوتا نہ کریں، آپ زندہ رہیں گی تو بچے پالیں گی، خوش ہوں گی تو شوہر کو خوش رکھ سکیں گی