یورپی ملکوں میں جہاں فضائی سفر کی سہولت عام ہے وہاں پرحال ہی میں ایک ہوائی جہاز میں ایک خاندان نے سیٹوں کے بجائے جہاز کے فرش پر بیٹھ کر سفرکیا۔ یورپی ملکوں میں یہ اپنی نوعیت کا اب تک کا پہلا واقعہ ہے۔ اسپین سے برطانیہ جانے والی فیملی نے جہاز میں دوران سفر اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئرکی ہیں۔ انہیں جہاز میں سیٹوں کے بجائے فرش پر بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق “تھامسن” فضائی کمپنی کی ایک فلائیٹ کے لیے ایک فیملی کی طرف سے تین نشستیں مختص کرائی گئیں جن کے لیے انہیں انہوں نے 1675 ڈالر کرایا اداکیا۔ اس جہاز نے اسپین کے جزیرہ مینورکا سے برطانیہ کے برمنگھم شہر جانا تھا۔ جہاز میں سوار ہونے کے بعد اس خاندان کو جہاز کے فرش پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا کیوں میں موجود تمام سیٹوں پر سواریاں موجود تھیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق پائولا ٹائلر اپنے شوہر اور 10 سالہ بیٹی کے ہمراہ اسپین سے برطانیہ واپس آ رہے تھے۔ بکنگ کے دوران انہیں ‘ڈی ،ای اور ایف’ نمبر سیٹیں الاٹ کی گئیں مگر جب وہ جہاز میں سوار ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہے کہ جہاز میں سیٹیں فل ہوچکی ہیں۔نشستوں کے بجائے طیارے کے فرش پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑا۔

برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹائلر نے کہا کہ جب ہم طیارے میں سوار ہوئے تو ہمیں کسی طرف کوئی خالی سیٹ نہ دکھائی دی۔بعد میں ایک سیٹ ملی جس پرہم نے بیٹی کو بٹھایا جب کہ ہم خود جہاز کی فولڈنگ سیٹوں پر بیٹھنے پرمجبور ہوئے۔یہ سیٹیں جہاز کےاڑان بھرنے کے وقت عملے کے استعمال کے لیے مختص ہوتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ٹائلرکا کہنا تھا کہ عملہ مسافروں‌کی نشستوں کے عقبی سمت میں کھڑا رہا اور ہم لوگ فرش پر بیٹھ گئے۔

فضائی کمپنی کی طرف سے اس سارے واقعے کے بارے میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
al arabiah