آٹھ مارچ کے روز ہونے والے عورت مارچ کے بعد سے بہت سی خواتیں صادق اور امین نہیں رہیں۔ پاکستان میں ایک مخصوص طبقے نے ایک ایسا پوسٹر دیکھ کر جس پر لکھا تھا کہ ’ اپنا کھانا خود گرم کرو‘ کے بعد سے اس پوسٹر کو اٹھانے والی اور اس کے حق میں بولنے والی عورتوں کو صاف بتا دیا کہ بھئی آپ تو 62، 63 پر اب کسی طور بھی پوری نہیں اترتیں، اب آپ کچھ بھی کرلیں آپ کی معافی نہیں۔ جبکہ یہ عورتیں سمجھ رہی تھیں کہ اٹھارویں ترمیم کی طرح انہیں بھی وہ خود مختاری پلیٹ میں رکھ کر د یدی جائے گی جو صوبوں کو تفویض کردی گئی تھی۔ بیچاری نادان عورتیں، انھیں چائیے تھا کہ پوسٹر بنانے اور لکھنے سے پہلے گھر کے مردوں سے پوچھ لیتیں کہ بھائی جان کیا لکھوں؟ اور یہ بھی بتادیں کہ آج مارچ میں جارہی ہوں تو کیسے کپڑے پہنوں؟

ہم کو بہت ناگوار گزرا ہے کہ یہ عورتیں اتنی بے باک اور بدتمیز ہوچکیں کہ اب صاف ٹکے کا جواب دے رہی ہیں کہ جاؤ میاں اپنا کھانا خود گرم کرو۔ لیکن ہمیں کبھی برا نہیں لگتا جب راہ چلتی لڑکی کو کوئی بھی شریف مرد ایک فقرہ کس کر چلتا بنتا ہے۔ جو یہ منظر دیکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کا حلیہ دیکھا ہے؟ باتیں تو بنیں گی یہ کوئی وقت ہے شریف لڑکی کے گھر سے نکلنے کا بھلا۔

ہمیں بہت تکلیف ہوئی کہ ہم اپنا کھانا گرم کریں لیکن ہمیں تب کبھی تکلیف نہیں ہوتی جب وراثت کا بٹوارہ ہو تو بہن کو کہا جاتا ہے کہ تم تو اپنے گھر میں آباد ہو شوہر اچھا کماتا ہے عیش میں زندگی گزر رہی ہے کس شئے کی کمی ہے تمہیں؟ تم اپنا حصہ بھائی کو دیدو، جی جی وہی بھائی جسے بہن ہمیشہ گھر تاخیر سے آنے پر ابا کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچاتی تھی اور کھانے گرم کر کر کے دیتی تھی وہ غریب فورا اپنا حصہ بھائی کی محبت میں ایسے دیتی ہے جیسے بچپن میں اس کی چاکلیٹ جو فریج میں رکھی ہوتی تھی اس پر بھائی کی نظر ہوتی تھی کہ کب یہ کھالوں، بہن بھی سمجھ جاتی تھی تو پیار سے کہہ دیتی تھی ہاں کھا لو میرا ویسے بھی دل نہیں۔

ہم اپنا کھانا کیوں گرم کریں کیوں کہ ہمیں تو بچپن سے سکھایا گیا کہ مرد گھر کی شان ہے، سربراہ ہے، کماتا ہے، لاتا ہے تب ہی تو گھر چلتا ہے اس لئے وہ جب جو کہے اس کی خدمت کو تیار ہوجاؤ۔ کوئی اماں جان سے یہ نہیں پوچھتا کہ اماں کیا کبھی آپ نے اپنے بیٹے کو بٹھا کر کہا کہ عورت گھر کی عزت ہوتی ہے مان ہوتی ہے مرد باہر ہوتا ہے تو گھر کی نگہبان ہوتی ہے وہ بھی ہر وقت اس مکان کو گھر بنانے میں خود کو جھونک دیتی ہے تو کبھی کوئی مرد اس کا بھی احساس کرے۔ لیکن ہمارے یہاں اس کیاجازت نہیں۔ جو یہ بات کرے اس کو سننے کو ملتا ہے چلو جی حقوق نسواں کا درس شروع ہوگیا۔

ہم کیسے اپنا کھانا گرم کریں کیونکہ ہمارے اردگر کچھ ایسے بھی خوش لباس، پڑھے لکھے، اچھے عہدوں پر بیٹھے مرد بھی ہیں جن کو اگر کوئی ایسی عورت دیکھنا بھی پسند نہ کرے جو ان کے لئے ایک چیلنج ہو تو وہ تھک ہار کر یہ بھی کہہ دیتے ہیں ارے یار چھوڑو بے وجہ شرافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، بناؤ سنگھار دیکھا ہے اس کا نہ جانے کتنے لوگوں سے اس کیجیب گرم ہوتی ہوگی۔

ہم کیوں کر اپنا کھانا گرم کریں کیونکہ جب ہمارے سامنے ہمارے گھر کی ایک عورت پورا کچن صاف کردینے کے بعد جب تھک کر سونے لیٹتی ہے اور تب گھر کا مرد آکر اکھڑ کر رعب دار آواز میں کہتا ہے کہ اٹھو کھانا گرم کرو تو سامنے آنے والا گرم کھانا اور تھکاوٹ سے چور عورت کو بنا چوں چرا کیے خدمت کرتا دیکھ کر ہمارا سینہ پھول جاتا ہے۔

اب آتے ہیں ان مردوں کی طرف جنھوں نے اس پوسٹر پر توجہ نہیں دی نہ ہی انھوں نے اس کو اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے خلاف کوئی سازش سمجھا نہ ہی اسے کوئی گالی سمجھی۔ یقینا جن مرد حضرات نے ایسا کیا انھیں اس معاشرے کے شریف اور باکردار مردوں نے نامرد، زن مرید، ڈرپوک جیسے القابات سے نوازا ہوگا۔ لیکن وہ مرد کیا سوچتے ہیں ان کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے۔ لیکن پہلے بات کرتے ہیں مغرب کی جسے کوسنے پر ہمیں نہ صرف دگنا ثواب ملتا ہے بلکہ جنت ہم پر فرض کردی جاتی ہے۔ پچھلے برس امریکہ ایک فیلو شپ پر جانا ہوا تو پاکستانی وفد کے لئے اوکلاہوما یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ڈین نے اپنے گھر ایک عشائیہ کا اہتمام کیا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں مجھے محسوس ہوا کہ آجا ا مریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات اور غلط فہمیوں پر کھل کر بات ہوسکے گی کیونکہ جہاں ہم دعوت پر گئے وہ پروفیسر جوفوٹ کا گھر تھا اور ان کی اہلیہ بھی پروفیسر تھیں۔

ان دونوں نے ہمارے لئے دعوت میں بہترین کراکری رکھی جبکہ امریکہ میں زیادہ تر لوگ دعوتوں میں ڈسپوزبل برتنوں کا استعمال اس لئے کرتے ہیں کہ کام زیادہ نہ بڑھے اس عشائیہ میں کل سولہ افراد تھے یہاں گھر پر چار لوگ آجائیں تو ہونے والا اہتمام پر پورا گھر ہل جاتا ہے۔ لیکن اس عشائیہ میں نہ صرف کراکری بہترین تھی بلکہ کھانا، سرونگ اور دیگر لوازمات بے مثال تھے۔ جب تک تعارف ہوا اہم موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی مسز جو کھانا گرم کر کے میز پر لگاتی رہیں میں اور میری ساتھیوں نے انھیں مدد کی آفر کی لیکن انھوں نے کہا کہ آپ پروفیسر صاحب کے ساتھ بیٹھیں اور بات چیت کریں یہ موقع بار بار نہیں آتا۔

کھانا لگ گیا، سب نے مزے سے کھایا تو ایک دم پروفیسر صاحب نشست سے اٹھے اور اپنی بیگم کو جو سب کے لئے گرین ٹی پیش کر چکی تھیں انھیں کرسی پر بٹھایا اور کچن میں چلے گئے میں اور میری ساتھی کولیگس ان کے منع کرنے کے باوجود پلیٹس اور دیگر برتن کچن میں رکھ چکے تھے اور گرین ٹی کے مزے لے ر ہے تھے کہ میں نے جوفوٹ کو برتن دھوتے دیکھا۔ یقینا ان کا عہدہ، ان کی عمر اور سب سے بڑھ کر کہ وہ ایک مرد ہوتے ہوئے یہ کام کریں مجھے گوارا نہ ہوا میں اٹھی اور ان کے پاس گئی اور مودبانہ انداز میں کہا کہ سر آپ چھوڑیں یہ آپ کا کام نہیں، میں کرتی ہوں، انھوں نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا کہ مشرقی خواتین کی یہ خوبی ہے کہ وہ مردوں کے آرام اور خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں لیکن بیٹا خدا نے ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے لئے بنایا ہے۔ مرد پھر بھی عورت کی قربانی اور اس کی خدمت کا صلہ نہیں دے سکتا لیکن اس کا بوجھ تو کم کر سکتا ہے۔ میں پھر بھی بضد رہی کہ سر مجھے اچھا نہیں لگ رہا اتنے میں ان کی بیگم نے مڑ کر دیکھا اور ہنس کر کہا کہ اگر آج تم انھیں ریلیف دیدو گی تو کل بھی تو انھوں نے ہی کرنا ہے تو پلیز اپنی جگہ پر بیٹھو یا گپ لگاؤ لیکن انھیں اپنا کام کرنے دو۔

پروفیسر جوفوٹ جن کی عمر ستر برس سے بھی زیادہ ہوگی وہ روز کچن میں اپنی بیگم کا ہاتھ بٹاتے ہیں اور برتن دھونے کی ذمہ داری ان کی ہی ہے۔ میں جتنے روز وہاں رہی ان کی اپنی بیوی سے محبت، عزت اور دوستی کا رشتہ مجھے اس بوڑھے جوڑے سے محبت میں مبتلا کرگیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں وہاں سے واپس آئی تو قابل رشک ملک کی مجھے کوئی چیز کوئی عمارت کوئی شاہراہ، کوئی ذائقہ یاد نہ رہا سوائے ان دونوں کے، میں جب جب میٹرو اسٹیشن سے نکلتی جوفوٹ سے گپ لگاتی اور جاننے کی کوشش کرتی کہ وہ عورت کی آزادی اور حقوق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں مشرق کی، اسلام آباد میرا ایک کام سے جانا ہوا تو مجھے اپنی ایک دوست کی طرف ٹھہرنا پڑا۔ میں بہت تاخیر سے رات ان کے گھر پہنچی تو کھانا نہیں کھا سکی، لیکن جب اگلی صبح اٹھی تو مجھے حیرت کا جھٹکا لگا جب میرے لئے میری سہیلی کے شوہر نے ناشتہ بنایا اور جس قرینے سلیقے سے اسے پیش کیا میں حیران رہ گئی۔ میری دوست میں اور ان کے شوہر نے مزے سے ناشتہ کیا اور میں اپنے کام سے چلی گئی، شام گھر لوٹی تو دیکھا سہیلی صاحبہ کچن صاف کر رہی ہیں کھانا بنا رہی ہیں اور ان کے شوہر ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ میری یہ دوست جاب کرتی ہے ان کے شوہر بھی مصروف رہتے ہیں دونوں کا گھر آنے کا وقت مقرر نہیں لیکن جو پہلے آجائے وہ دیر سے آنے والے کے لئے ’ کھانا گرم‘ کرنے پر واویلا نہیں مچاتا۔ میں نے اپنی سہیلی سے پوچھا کہ بھئی کتنا ظلم کرتی ہو اپنے شوہر پر تو اس نے ہنس کر کہا کہ مجال ہے جو میں نے کبھی کہا ہو کہ یہ کرو وہ کرو، وہ یہ سب خوشی سے کرتے ہیں ہم میں لڑائی بھی ہوتی ہے بحث بھی لیکن جو رشتہ احساس اور محبت کا ہم میں ہے اس کی وجہ سے یہ گھر پرسکون ہے کیونکہ ہم میں ضد نہیں اور انا نہیں۔ جہاں یہ تفریق آجائے کہ میں مرد ہوں میں حاکم ہوں، تم عورت ہو تم کمزور ہو وہاں چھوٹے سے گھروں میں بھی فاصلے طویل ہوجاتے ہیں۔

اب مثال ہے اپنے گھر کی، میرے والد بہت سخت مزاج کے مالک تھے، وقت پر کھانا، سونا، جاگنا ان کے اصولوں میں شامل تھا۔ کب انھیں جلال آجائے اس کا خوف سب کے دلوں میں رہتا تھا۔ ایک بار کھانے کی میز پر سب کھانا کھا رہے تھے کہ دروازہ کھٹکا بھائی اٹھ کر گیا تو کوئی دوست آیا تھا وہ جب پانچ منٹ تک نہیں آیا تو انھوں نے اپنا کھانا ختم کرنے کے بعد باہر جاکر یہ کہہ دیا کہ اس وقت کھانے کا وقت ہوتا ہے تو بیٹا آپ کو کوئی بھی کام ہو تو یا تو جلدی آجائیں یا تاخیر سے، یوں کھانا چھوڑ کر نکل جانا مجھے پسند نہیں۔ اگلے روز بھائی اس بات سے خفا تھا کہ میرے دوست کو ایسا کیوں کہا گیا وہ کھانے کی میز پر نہیں آیا پھر وہ کچھ مصروف ہوگیا، پھر گھر تاخیر سے آنے لگا، کھانا نو بجے میز پر لگا دیا جاتا تھا، بھائی رات ساڑھے دس آتا تھا کیونکہ شام کی یونیورسٹی تھی بسوں سے آتے آتے وقت لگ جاتا تھا ایک دن ابو نے سنا اس نے چھوٹی بہن سے کہا کہ جاؤ کھانا گرم کرو میں واش روم سے ہو کر آ رہا ہوں اور پانی بھی گلاس میں نکال کر رکھو کل تم نے نہیں رکھا تھا۔

ابو نے مجھے بلایا اور کہا کیا یہ روز کا معمول ہے؟ میں نے سر ہلادیا وہ اپنے کمرے سے نکلے اور بھائی کو کہا اگر تو رات نو بجے گھر آجاؤ تو کھانا گرم مل جائے گا، لیکن دیر سے آو گے تو اپنا کھانا خود گرم کرو، یہ بہنیں ہیں تمہاری کنیزیں نہیں جن سے تم کام بھی کرواؤ اور رعب بھی جھاڑو۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا اگلے روز سے اس نے اپنا کھانا خود گرم کرنا شروع کیا۔ سردی کی رات تھی اسے کہیں دوبارہ بھوک لگی تو اس نے چھوٹی بہن سے کہا وہ اٹھی اور کچن میں کھانا گرم کرنے لگی ابو اچانک آگئے تو بہن نے ڈرتے ہوئے کہا ابو میں اپنے لئے کھانا گرم کر رہی ہوں بھوک لگ رہی تھی۔ ابو مسکرائے اور مجھے دیکھ کر بولے دیکھا کیسے بچایا جارہا ہے بھائی کو۔

آج میرے والد نہیں لیکن ان کے جانے سے قبل اور آج بھی میرا بھائی کبھی کبھی چائے بناتے وقت پوچھتا ہے کہ کیا چائے پیوگی؟ اسے پکانا نہیں آتا لیکن اب بھی جب وہ دیر سے گھر آئے تو چھوٹی بہن اس کا کھانا گرم کرتی ہے وہ نہ نظر آئے تو وہ وہ خود یہ کام سر انجام دے دیتا ہے۔ لیکن اس روز وہ پوسٹر اس نے جب اخبار کی زینت بنے دیکھا تو زور سے ہنسا اور کہا یہ پوسٹر شاید کسی نے ابو سے پوچھ کر بنا لیا ہے۔

تو جناب اس پوسٹر کا تناظر یہ تھا یا وہ تھا اس سے نکلئے، دنیا بہت آگے جا چکی لیکن ہم ابھی تک اس بات میں الجھے ہیں کہ عورت کمتر ہے، کمزور ہے، اس کیآدھی گواہی ہے، سوچ ببچار نہیں رکھتی وغیرہ وغیرہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت مرد پر انحصار کرتی ہے لیکن اگر کبھی یہ کہہ دے کہ اپنا کھانا خود گرم کر لو تو اس نے کوئی کائنات کا اصول نہیں توڑا، نہ ہی کسی اسلامی قوانین کی توہین کی ہے اس مارچ کے بعد سے اس پوسٹر پرمردوں کی سنجیدگی اور ایک محاذ کھول دینے پر بڑا دلچسپ جملہ ہمارے ایک دوست نے کہا کہ ’ چھوٹی سوچ اور پاوں میں موچ انسان کو آگے نہیں بڑھنے دیتی‘ اب بھلے تازہ کھانا بھی ان مردوں کو دیدو ان کی سوچ اس پوسٹر پر اٹک چکی جو کب کا پھاڑ کر کسی کوڑے دان میں پھینکا بھی جاچکا ہوگا۔