ہم سے زیادہ اپنے نظریے اور مذہب پر پختہ یقین کا مظاہرہ بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوؤں نے کیا،جب انہوں نے قومی ریاستوں کے تصور کے وجود میں آنے کے فورا بعد اس بات کا اعلان کر دیا کہ ہم قومیت کے علاقائی تصور ”Territorial Nationality” کو بھارت کی حد تک نہیں مانتے۔ ہم لیگ آف نیشنز کہ اس تصور کی بنیادی طور پر نفی کرتے ہیں جس کے مطابق جو جس جگہ پیدا ہوا، وہی اس کا وطن ہے۔ہم ایسا بھارت کے معاملے میں نہیں مانتے۔ یہ صرف اور صرف ہندوؤں کا وطن ہے۔ یہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ پیدائشی طور پر ہندو ہے، بشرطیکہ وہ ان قوموں اور نسلوں کے گھر پیدا ہوا ہو،جو یہاں دیوتاؤں کے زمانے سے آباد ہیں۔ باہر سے آئے ہوئے مغلوں، سیدوں، قریشیوں، غوریوں اور دیگر اقوام کو ہم اس دھرتی کا بیٹا نہیں مانتے، بلکہ ان کا ناپاک وجود ہی ہے جو بھارت کو ناپاک بنا رہا ہے۔ جس دور میں لیگ آف نیشنز میں پاسپورٹ کا ڈیزائن منظور ہو رہا تھا، قوموں کی سرحدیں طے ہو رہی تھیں، جھنڈے اور ترانے بن رہے تھے، اسی سال یعنی 1920ء میں ہندو رہنما سوامی دیانند سرسوتی اور اس کے شاگرد سوامی شردھانند نے ایک تحریک کا آغاز کیا جس کا نام تھا ”بھارتیہ ہندو شدھی مہاسبھا” تھی جسے عرف عام میں ”شدھی” کہا جاتا ہے۔ شدھی کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے باپ دادا مسلمان ہوگئے تھے، انہیں دوبارہ ”شدھی” یعنی پاک کرکے ہندو بنایا جائے۔ سوامی شردھانند جدید ہندو تاریخ میں ایک ہیرو کا درجہ رکھتا ہے۔ بھارت میں اسکی تصویر والے ڈاک ٹکٹ جاری ہوئے تھے۔ شدھی تحریک ایک پرامن تحریک تھی، لیکن اسکے ایک سال بعد اس کی مدد اور نصرت کے لئے پنڈت مدہن مالویہ نے ایک مسلح تنظیم ”سنگٹھن” کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کو مکمل طور پر ہندو بنانے کے لیے مسلمانوں کے سامنے دو راستے رکھے جائیں۔ اول یہ کہ وہ ہندومت قبول کرلیں اور دوم یہ کہ وہ ہندوستان چھوڑ دیں اور اگر وہ ان دو راستوں میں سے کسی کو بھی قبول نہ کریں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔ یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ سات کروڑ مسلمان بائیس کروڑ ہندوؤں کے لیے سخت خطرہ ہیں۔ پورے ہندوستان میں سنگٹھن تنظیم کے مراکز قائم کیے گئے، جن میں انتہا پسند ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں سے لڑنے کے لیے دزشوں، لاٹھیوں، خنجروں، تلوار، اور بندوق کے استعمال کی تربیت دی جاتی تھی۔ ایک صدی کی مسلسل جدوجہد، آج پورے بھارت میں وہ نتیجہ لے کر سامنے آچکی ہے جس کا خواب قومی ریاستوں کے تصور کے انکار سے ہندوؤں نے دیکھا تھا۔ ان کے سامنے ایک بہت کٹھن راستہ تھا۔ پوری دنیا ان کے تصور کی نفی کرتی تھی۔ وہ جس بھارت میں رہتے تھے اس کا آئین سیکولر تھا، قومی ریاستوں کے علاقائی تصور کو مانتا تھا۔وہاں ہر وہ بچہ جو مسلمان، عیسائی، یہودی، بدھ یا کسی اور مذہب کے ماں باپ کے گھر پیدا ہوا اسے ہندوستان کے شہری ہونے کا آئینی حق حاصل تھا۔ اس تصور اور مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والی تنظیم آر ایس ایس جو 1925ء میں ان دونوں تحریکوں کے بطن سے پیدا ہوئی تھی، اسے سب سے پہلے برطانوی حکومت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے بھارت کی آزادی کی تحریک سے علیحدگی اختیار کرلی اور کہا کہ ہم ایسی آزادی کے قائل ہیں جو براستہ مذہب ہمیں ملے۔ اسی لیے وہ کانگریس کے اس نظریے اور تحریک سے دور رہی جو ہندوستان بحیثیت ایک علاقائی ملک کی آزادی کیلئے چلائی گئی تھی۔ انہوں نے ہندوستان چھوڑو (Quit India)مہم کا بھی ساتھ نہ دیا۔ گورے کے زمانے میں ان پر پابندی لگی مگر یہ صرف چار دن کی پابندی تھی، 24 جنوری سے 28 جنوری 1947ء تک اور وہ بھی صرف پنجاب میں۔ ایک سیکولر ملک، سیکولر آئین اور سیکولر کانگریس قیادت انکی بدترین مخالف تھی۔ لیکن انہوں نے منافقت نہیں کی۔ پہلے ہی دن سے انہوں نے بھارت کے آئین کو نہیں مانا اور نہ ہی بھارت کے تین رنگوں والے جھنڈے کی عزت کی۔ بلکہ اس کے مقابلے میں گیروی رنگ کے ہندو مذہبی جھنڈے کو سربلند کیا۔ ان کے رکن نتھو رام گوڈسے نے گاندھی کو قتل کیا جسکی وجہ سے ان پر آزادی کے فورابعد پہلی پابندی لگی۔ دوسری دفعہ ان پر 1975ء میں اندرا گاندھی نے پابندی لگائی جو 1977ء تک قائم رہی۔ ہندو مذہب کی بنیاد پر ہندوتوا کے قیام کے راستے میں لاتعداد رکاوٹیں تھیں۔ انگریز اس تصور کے خلاف تھا اور تمام عالمی طاقتیں رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر ملکوں کو علاقائی طور پر تقسیم کر رہی تھیں۔ گاندھی اور نہرو خاندان کی مقبول ترین لیڈر شپ ان کے مدمقابل تھی، جس میں گاندھی کو تو ”باپو” کا درجہ حاصل تھا۔ بھارت کا سیکولر آئین ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ وہ ساٹھ سال ان بڑی بڑی مشکلات سے لڑتے رہے۔ ان کے سینے میں ایک ہی نعرہ تھا، ہندومت، ہندوستان پر صرف ہندو کا حق وطنیت اور مسلمان سے نفرت۔ ساٹھ سال کی جدوجہد کے بعد انہیں یقین ہوگیا کہ ہماری کوششوں کے بعد اب جمہوریت ہی ان کے تعصب کی آبیاری کے لئے بہترین راستہ ہے۔ بھارت میں ہندو اکثریت میں ہیں اور جمہوریت ہی وہ واحد نظام ہے جو اکثریت کی آمریت قائم کرتا ہے۔ اسکے بعد کے چالیس سال وہ اس آمریت کے قیام کی جدوجہد کیلئے الیکشن لڑتے رہے اور آج آسام سے کشمیر تک یہ آمریت جمہوری طور پر نافذ ہو چکی ہے۔ آج بنیادی طور پر بھارت کے مسلمانوں کو شہریت سے انکار کیا جا چکا ہے اب صرف اس کا مرحلہ وار نفاذ باقی ہے۔ ہندو مذہبی قومی تحریک کے مقابلے میں برصغیر کے مسلمانوں کو بہت کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ علیحدہ مسلمان ملک کے حصول کی جدوجہد کو پورے ہندوستان میں پذیرائی ملی۔ سب سے اہم سیاسی پارٹی مسلم لیگ نے اسکا پرچم بلند کیا، ہندوؤں سے علیحدہ جداگانہ انتخابات کا مطالبہ بھی مانا گیا۔ہندوستان میں رہنے والے صرف تیرہ فیصد مسلمانوں کو ایک علیحدہ ملک پاکستان میسر آگیا جو مشرق و مغرب دونوں جانب تھا اور جس کا ایک ہی نعرہ تھا کہ ہم سیکولر تصور وطنیت کی نہیں مانتے۔ ہم پنجابی، پٹھان، بنگالی، بلوچ اور سندھی ہونے سے انکار کرتے ہوئے مسلمان ہونے کو اپنی قومیت اور وطنیت کی بنیادسمجھتے ہیں اور اپنے ہم زبانوں کو اسی کلمے کی بنیاد پر اپنا بھائی تصور نہیں کرتے۔ باپ دادا کی قبریں گھر اور کاروبار چھوڑ کر انکی اکثریت اس ملک میں آگئی۔ ڈیڑھ سال بعد قرارداد مقاصد کے بعد مسلمانوں کے راستے کا سب سے بڑا کانٹا بھی دور کر دیا گیا۔ اب یہ پاکستان سیکولر نہیں اسلامی کہلانے لگا۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام اور اس کی قیادت میں اتنا بھی یقین پیدا نہ ہو سکا جتنا 1920ء میں قائم ہونے والی شدھی اور سنگھٹن، 1925ء میں بننے والی آر ایس ایس اور 1980ء میں بننے والی بھارتیہ جنتا پارٹی میں تھا، جنہوں نے دنیا کے عالمی تنظیموں کے تمام قومیتی معیارات مسترد کردیئے تھے۔انکے برعکس ہم نے ان عالمی قوتوں کے تمام سیکولر معیارات کو سینے سے لگا لیا۔ یہ ملک اللہ کی نعمت ہے اور یہ اللہ نے ہمیں رہنے کیلئے نہیں بلکہ اس کی حاکمیت اورشریعت کے نفاذکیلئے دیا ہے۔ اللہ کا وعدہ کسی پاکستانی کے لیے نہیں کہ وہ اس کی مدد اور نصرت کرے گا، اس کا وعدہ صرف اور صرف مومن اور مسلمان کے لیے ہے جو اس کے دین کا پرچم بلند کرے گا۔ جس دن ہم میں آر ایس ایس جتنا یقین پیدا ہوگیا اور ہم نے ہر اس تصور قانون اور طریقِ زندگی کو مسترد کر دیا جو اسلام کی نفی کرتا ہوتو پھر اس دن سے ہماری کامیابی کا آغاز ہو جائے گا۔

روزنامہ 92 نیوز