افغانستان اس وقت اپنی تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے ، 17 سال یہاں جنگ لڑنے کے بعد بالاخر امریکی افواج نے اپنا سازو سامان لپیٹنے کی تیاری شروع کردی ہے یعنی جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے لیکن اس موقع پر دو سوال سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک یہ کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خطے سے نکل جانے کے بعد یہاں کے معاملات کون سنبھالے گا اوردوسرا یہ کہ کیا امریکا کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں امن قائم ہوگا یا ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آجائے گا، یاد رہے کہ افغانستان کے ماضی میں ایسی مثال موجود رہی ہے۔

افغان امن عمل میں اب تک مذاکرات دو مرکزی فریقین یعنی امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہورہے تھے، دور وز قبل اس معاملے پر ایک انتہائی اہم پیش رفت ہوئی۔ روس میں افغان تارکین وطن نے ایک اہم ڈائیلاگ کا انعقاد کروایا ،جس میں افغان اپوزیشن کے 40 سے زائد افراد پر مبنی ایک گروہ نے سابق افغان صدر حامد کرزئی کی قیادت میں طالبان کے ساتھ ملاقات کی ۔ افغان وفد 10 ارکان پر مشتمل تھاا ور اس کی قیادت شیر محمد ستنک زئی کررہے تھے۔ عالمی میڈیا کا ماننا ہے کہ اس ڈائیلاگ کو روسی حکومت کی بھرپور حمایت حاصل تھی ، تاہم روس کی جانب سے ایسی کسی بھی حمایت کا انکار کیا جاتا رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ افغان اپوزیشن کے وفد میں کئی اہم سیاستدانوں کے علاوہ قابلِ ذکر وارلارڈز کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے لیے متحرک شخصیات بھی شامل رہیں۔

کابل میں برسرِ اقتدار افغان صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت نے اس ملاقات پرشدید تنقید کی ہے اور اسے قبل از وقت ، لاحاصل اور افغانستان کی آئینی حکومت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ ان کہنا تھا کہ جب تک حکومت کے طالبان کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوجاتے ، ایسی کوئی بھی مشق سود مند نہیں رہے گی۔ افغان حکومت نے سابق صدر کرزئی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ماضی میں خود صدر رہے ہیں اور اب موجودہ حکومت کے آئینی حق کو تسلیم کرنے کےبجائے براہ راست طالبان سے مذاکرات کررہے ہیں۔

موسمِ سرما اورافغانستان میں امیدِ بہار

دیکھا جائے تو یہ سارا کھیل اب انتہائی موڑ پر پہنچ چکا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا کہ ہم دونوں یعنی امریکا اور طالبان اس طویل جنگ سے تھک چکے ہیں لیکن اگر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سامنے آتا ہے کہ تھکن صرف امریکا کے حصے میں آئی ہے ، افغان طالبان کے کیمپ میں ایسا کوئی معاملہ نہیں ۔ اور ایسا کیوں نہ ہو، طویل جنگیں امریکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہیں اور اپنی بے پناہ معیشت اور فوجی طاقت کے علاوہ امریکا ہے کیا، کچھ بھی تو نہیں، سو امریکا کسی بھی صورت اپنی معیشت کو برباد نہیں ہونے دے گا۔ دوسری جانب طالبان کے پاس نقصان کے لیے ایسا کچھ نہیں ہے ، ان کے لیے واحد مسئلہ یہ جنگ لڑنے کے لیے افرادی قوت ہے جو بہر حال انہیں کہیں نہ کہیں سے مل ہی رہی ہے ، ان کے زیر اہتمام علاقوں میں معیشت کی بہتری کوئی مانوس لفظ نہیں، سو وہ شاید مزید کچھ عرصے تک اس جنگ کو لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سارے عمل میں اب تک افغان حکومت وہ فریق ہے جسے بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے ، طالبان کا موقف ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد مقامی حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں گے۔افغانستان کی آئینی حکومت جو کہ امریکی افواج کی موجودگی کے سبب اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے ، اس کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے کہ ابتدائی طور پر امریکا نے طالبان کا یہ مطالبہ مان کر نہ صرف ان سے مذاکرات شروع کیے بلکہ انخلا کا وقت بھی مقرر کردیا ہے۔

غنی حکومت کا خیال ہے کہ امریکا کے خطے سے نکلتے ہی کابل اور افغان حکومت طالبان کے لیے آسان ہدف بن جائے گے۔ یہی سبب ہے کہ وہ خطے سے امریکی افواج کے فی الفور انخلا کے حق میں نہیں ہیں ، کم از کم جب تک کابل اور طالبان کے درمیان کسی قسم کا کوئی معاملہ طے نہ پا جائے۔ ایسے ماحول میں طالبان نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرکے اپنے پلڑے کو مزید بھاری کرلیا ہے اور اب جب بھی مستقبل میں طالبان ، کابل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، نہ صرف یہ کہ انہیں امریکی بلکہ مقامی قیادت کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ یہاں قابلِ ذکر بات افغانستا ن میں 20 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات بھی ہیں۔ اشرف غنی کی حکومت بس اب چند ہی مہینوں کی مہمان ہے اور یقیناً طالبان کسی بھی جاتی ہوئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پسند نہیں کریں گے ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مقامی حکومت سے مذاکرات کو امریکی انخلا سے مشروط کیا ہے اور حیرت انگیز طور پر انہیں اس موقف پر امریکا کے ساتھ اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے۔

اس سارے منظر نامے میں 20 جولائی کا دن افغانستان کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ نئی آنے والی حکومت چاہے موجودہ حکومت کا تسلسل ہو یا آج کی حزبِ اختلاف حکومت قائم کرے، اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج افغان طالبان کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہوگا۔ اگر یہ مذاکراتی عمل امریکا کی موجودگی میں شروع ہوجاتا ہے تو کابل کی حکومت نسبتاً بہتر
پوزیشن میں ہوگی ،لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا اور مذاکرات کا عمل انخلا کے بعد ہی شروع ہوتا ہے، تب چاہے حکومت میں اشرف غنی ہوں یا کوئی۔ اس کے لیے طالبان کے ساتھ اپنی شرائط پر جنگ بندی کرانا ایک ناممکن ٹاسک ہوگا۔

سب سے دلچسپ پہلو اس معاملے کا امریکی سینیٹ میں آنے والی قرار داد ہے، ڈونلڈ ٹرمپ جلد از جلد افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں ، یقینا ان کی خواہش ہوگی کہ آئندہ الیکشن سے پہلے یہ مرحلہ طے ہوجائے تاکہ وہ امریکا کو افغانستان کی دلدل سےنکالے جانے کا کریڈٹ لے سکیں لیکن امریکی سینٹ میں افغانستان سے مکمل انخلا کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سےمنظور ہوگئی ہے ، یعنی امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ایک اندرونی محاذ کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس محاذ سے منظوری کےبغیر انخلا کا عمل شروع نہیں ہوسکے گا۔

پاکستان اس وقت خاموشی سےساری صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور پاکستان کی حکومت اور ملٹری قیادت کئی بار یہ بات باور کراچکے ہیں کہ افغانستان میں دیرپا اور پائیدار امن ہی خطے کی ترقی کی ضمانت ہے ۔ا ب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد جو فی الوقت امریکا اور طالبان کے درمیان مصالحت کار کا کردار ادا کررہا ہے ، مستقبل میں اس معاملے کو کس طرح سے لے کر چلے گا۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑی آزمائش اس سارے معاملے میں اعتدال برقراررکھنا ہے کہ اس تنازعے کے تمام فریقوں سےپاکستان کے کسی نہ کسی نوعیت پر مضبوط تعلقات موجود ہیں۔