اداکار جارج کلونی

ہالی وڈ اداکار جارج کلونی نے برونائی کی طرف سے اس اعلان کے بعد کے وہاں ہم جنس پرستی ‘بدکاری’ کی سزا موت ہو گی، اس ملک سے تعلق رکھنے والے نو ہوٹلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

 

جنوب مشرقی ایشیا کے ملک برونائی میں تین اپریل کے بعد سے ہم جنس پرستوں کو کوڑوں یا سنگساری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سن 2014 میں برونئی ‘اسلامی قوانین’ نافذ کرنے والا مشرق بعید کا پہلا ملک بن گیا تھا۔ ان قوانین کے نفاذ کی وہاں مخالفت بھی کی گئی تھی۔ جارج کلونی کا کہنا ہے کہ برونئی کے نئے قوانین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے ویب سائیٹ ‘ڈیڈلائن’ میں ایک مضمون میں لکھا کہ ‘ایسی خبروں کے طوفان میں جن میں دنیا مطلق العنانیت کی طرف بڑھ رہی ہے یہ خبر انوکھی ہے۔’

انھوں نے کہا کہ برونئی ایک بادشاہت ہے اور بائیکاٹ کا اس پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا لیکن پھر بھی انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں میں ہم حصہ نہیں ڈالیں گے۔

جارج کلونی
جارج کلونی نے برونئی کے ہوٹلوں کا بائئکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

انھوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، اٹلی اور فرانس میں ڈورچسٹر ہوٹلوں کا بائیکاٹ ہونا چاہیے، جو برونئی سرمایہ کاری ایجنسی کی ملکیت ہیں۔

جزیرہ بورنیو پر واقع برونئی تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہے۔

اسلامی ملک برونائی نے ہم جنس پرستی اور ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے والوں کیلئے موت کی سزا کا قانون لاگو کر دیا
ہم جنس پرستوں کیلئے کوڑوں یا سنگسار کر کے ہلاک کرنے اور اور ڈاکہ ڈالنے پر ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں دینے کی بھی تجویز
دارالسلام : اسلامی ملک برونائی نے ہم جنس پرستی اور ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے والوں کیلئے موت کی سزا کا قانون لاگو کر دیا، ہم جنس پرستوں کیلئے کوڑوں یا سنگسار کر کے ہلاک کرنے اور اور ڈاکہ ڈالنے پر ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں دینے کی بھی تجویز پیش کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اسلامی ملک برونائی دارالسلام میں ہم جنس پرستوں اور ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے والوں کیلئے موت کی سزا کا اعلان کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرستوں اور ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے والوں کیلئے ناصرف موت کی سزا، بلکہ دیگر سخت ترین سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرستوں کیلئے کوڑوں یا سنگسار کر کے ہلاک کرنے اور اور ڈاکہ ڈالنے پر ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں دینے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان سخت سزاؤں پر مبنی یہ قوانین تین اپریل سے لاگو ہونا ہے۔
یہ قوانین گزشتہ برس دسمبر میں برونائی کے وزیر برائے مذہبی امور حاجی اوانگ عثمان کی طرف سے تیار کیے گئے تھے اور برونائی کے سلطان نے ان کی توثیق کر دی تھی۔ برونائی کے موجودہ قوانین کے مطابق ہم جنس پرستی کی سزا 10 برس قید ہے۔ اس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی دیگر تنظیموں نے برونائی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سخت سزاؤں پر مبنی قانون لاگو نہ کرے جن کے تحت ہم جنس پرستوں کو کوڑوں یا سنگسار کر کے ہلاک کرنے اور اور ڈاکہ ڈالنے پر ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق برونائی کو فی الفور نئے سخت قوانین پر عملدرآمد کا منصوبہ ترک کر دینا چاہیے اور اپنے قوانین کو انسانی حقوق کے عالمی ضوابط کے دائرے میں لانا چاہیے۔ تاہم برونائی کی حکومت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

 

Brunei Darussalam to pass law that will punish homosexuality with death

 

Brunei Darussalam will bring into effect a new law next week which will punish homosexual intercourse and adultery with death by stoning.

As of April 3, the new penal law means that any individuals found guilty of homosexual acts will be stoned to death. It also means that anyone found guilty of theft will be subject to amputation.

Under international human rights law, corporal punishment in all forms, such as stoning, amputation, or whipping constitutes torture which is prohibited in all circumstances.

However, Brunei Darussalam, a country with a population of over 428,000, has rejected all recommendations in its human rights review at the United Nations in 2015 after it voiced deep concern about the revised penal code.

A notice was discreetly published on the Attorney General’s website on January 29.

Amnesty International Brunei Researcher Rachel Chhoa-Howard condemned the inhumane punishment:

“Pending provisions in Brunei’s Penal Code would allow stoning and amputation as punishments- including for children, to name only their most heinous aspects.

“Brunei must immediately halt its plans to implement these vicious punishments, and revise its Penal Code in compliance with its human rights obligations. The international community must urgently condemn Brunei’s move to put these cruel penalties into practice.”

In 2013, Sultan Hassanal Bolkiah announced the country would be imposing Penal Code from Sharia Law on the country’s Muslims, making it the first East-Asian country to do so. The death penalty is currently stipulated for a number of offences, including insult or defamation of Mohammed.

Ms Chhoa-Hoawrd added:

To legalize such cruel and inhuman penalties is appalling of itself. Some of the potential ‘offences’ should not even be deemed crimes at all, including consensual sex between adults of the same gender

“These abusive provisions received widespread condemnation when plans were first discussed five years ago.

“Brunei’s Penal Code is a deeply flawed piece of legislation containing a range of provisions that violate human rights.

“As well as imposing cruel, inhuman and degrading punishments, it blatantly restricts the rights to freedom of expression, religion, and belief, and codifies discrimination against women and girls.”