لڑکیوں کو اسکول اور یونیورسٹی جانے جبکہ خواتین کو ملازمت کی اجازت ہوگی، افغان طالبان رہنما

طالبان پورے افغانستان پر قبضے کے خواہش مند نہیں ہیں: شیر عباس ستانکزئی

ماسکو: افغان طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ عباس ستنکزئی نے کہا ہے کہ طالبان بزورِ طاقت پورے ملک پر قابض ہونا نہیں چاہتے کیونکہ اس کی وجہ سے امن قائم ہونا ممکن نہیں، غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا تک جنگ بندی نہیں ہوگی۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ جنگ سے زیادہ امن قائم کرنا مشکل ہے، مذاکرات کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ افغان تنازع جلد ختم ہوجائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان نے افغانستان پر بزوزِ طاقت کبھی قبضے کی خواہش نہیں رکھی کیونکہ ایسے عمل کی وجہ سے ہمارے ملک میں امن نہیں آئے گا، مذاکراتی عمل اپنی جگہ مگر طالبان اُس وقت تک جنگ بندی نہیں کریں گے جب تک غیر ملکی افواج ہماری سرزمین سے چلی نہیں جاتیں

عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے پاس اقتدار تھا مگر اُس وقت مخالف افغان گروپ مسلح مخالفت کرتے تھے جس پر انہیں بیٹھا کر سمجھایا اس طرح ملک میں امن قائم نہیں ہوگا بلکہ ہر چیز کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔

افغان طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کے نمائندے زلمے خلیل زاد سے گزشتہ کچھ ماہ میں سلسلہ وار ملاقاتیں ہوئیں، جس اس بات کی نشاندہی ہیں کہ اب افغان جنگ کا تنازع ختم ہوجائے گا۔

عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ ’طالبان اقتدار حاصل کر کے اجارہ داری قائم کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہم افغانستان کا وہ آئین ختم کردیں گے جو مغرب کی طرف سے مسلط کیا گیا، اسی طرح کی چیزیں امن کی راہ میں رخنہ ہیں‘۔

مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’طالبان کے بڑھتے اثرات سے خواتین کو بالکل خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم انہیں شریعت اور افغان ثقافت کے مطابق سارے حقوق اور تحفظ فراہم کریں گے، لڑکیاں اسکول ، یونیورسٹی جاسکیں گی اور خواتین ملازمت کی بھی اجازت ہوگی’۔

عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ طالبان کے ایک رکن اس بات کی وضاحت بھی کرچکے کہ خواتین ملک کی صدر تو نہیں ہوسکتیں مگر سرکاری اور سیاسی دفاتر میں امور انجام دے سکیں گی۔

یاد رہے کہ عباس ستانکزئی گزشتہ کافی عرصے سے قطر میں کھولے جانے والے طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ تھے اب انہیں افغان طالبان نے مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی دی۔