ایمسٹرڈیم: (دنیا نیوز) ہالینڈ کے اسلام مخالف اور متنازع سیاستدان گیئرٹ ولڈرز کے دیرینہ ساتھی اور سابق دست راست جورم وان کلیویرین نے اسلام قبول کر لیا۔ اس انکشاف پر ہالینڈ میں بہت سے حلقے حیران ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ملکی میڈیا میں شائع رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ڈچ پارلیمان کے انتہائی دائیں بازو کے ایک سابق رکن اور ماضی میں گیئرٹ ولڈرز کے دست راست سمجھے جانے والے سیاستدان جورم وان کلیویرین نے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

وان کلیویرین، گیئرٹ ولڈرز کی سیاسی جماعت فریڈم پارٹی کی طرف سے ڈچ پارلیمان کے ایوان زیریں کے سات سال تک رکن رہے تھے اور اس دوران انہوں نے سیاسی سطح پر ایک مذہب کے طور پر اسلام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کی ہر ممکنہ حوالے سے مخالفت کی تھی۔

وان کلیویرن نے بیسیوں بار یہ مطالبے بھی کیے تھے کہ ہالینڈ میں برقع اور مساجد کے میناروں پر پابندی ہونی چاہیے۔ 40 سالہ جورم وان کلیویرین نے کہا کہ وہ ایک اسلام مخالف کتاب لکھ رہے تھے کہ اس عمل کے تقریباً وسط میں ان کا ذہن ہی بدل گیا، پھر جو کچھ انہوں نے لکھا کہ وہ ان اعتراضات کی تردید اور جوابات تھے۔

کلیورن نے اسلام سے متعلق اپنے سابق بیانات پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے اخبار کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے گزشتہ برس 26 اکتوبر کو باقاعدہ طور پر اسلام قبول کر لیا تھا۔

وان کلیویرن کے اس انکشاف نے ہالینڈ میں بہت سے حلقوں کو بالکل حیران کر دیا ہے۔ ایک اخبار نے لکھا کہ ان کی طرف سے تبدیلی مذہب کے انکشاف سے ان کے دشمن اور دوست دونوں ہی ششدر رہ گئے۔

ہالینڈ میں مراکشی نژاد مسلمانوں کی مساجد کی تنظیم کے ایک عہدیدار سعید بوہارو نے بتایا کہ وان کلیویرن کا قبول اسلام ایک شاندار خبر ہے، ایک ایسا شخص جس نے اتنی شدت سے اسلام کی مخالفت کی تھی، اب جان گیا ہے کہ یہ کوئی برا یا غلط مذہب نہیں ہے۔ انہوں نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی سطح پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اب اسلام قبول کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ جورم وان سے قبل فریڈم پارٹی کے سابق رکن آرنود وین دورن بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر جورم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ کبھی سوچا تھا کہ فریڈم پارٹی اسلام قبول کرنے والوں کے لیے زرخیز زمین بن جائے گی۔ انہوں نے جورم کو عمرہ کی ادائیگی کی پیشکش بھی کی۔