گزشتہ دنوں گولان کی چوٹیوں کی قانونی حیثیت‘ موضوع ِبحث رہی ۔1967ء کی جنگ میں‘ اس علاقے پر اسرائیل نے قبضہ کیا ۔ 1981ء میں اس کو ریاست میں غاصبانہ طور پر ضم کیا گیا۔ عالمی برادری نے اسرائیل کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ دنیااس علاقے کوایک مقبوضہ علاقہ ہی تصور کرتی رہی ہے‘ مگر امریکی کانگریس کے ایوانوں میں ری پبلکنز نے ایک بل متعارف کرایا ۔ متعارف کردہ بل میں گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے کنٹرول کی توثیق کی گئی۔امریکی محکمہ خارجہ نے رپورٹ جاری کی اور اس میں گولان کے ساتھ پہلی مرتبہ ”مقبوضہ‘‘ کی بجائے ”کنٹرول‘‘ کا لفظ استعمال کیاگیا ۔
بات یہاں نہیں رکتی‘بلکہ ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم‘ تو گولان کا دورہ بھی کر آئے اور یہ دورہ اس علاقے پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی توثیق سمجھا جانے لگا۔ان اقدامات کو بہت سے مبصرین‘ شامی صدربشار الاسد کی حکومت اور ایران کے لیے ایک دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ اسد حکومت کو اس وقت مختلف چیلنجز درپیش ہیں ۔حال ہی میں گولان کی چوٹیوں پر توجہ کامرکوز ہوجانا‘ اصل میںان کے لیے مزید پریشانیاں پیدا کرتا ہے۔ بشار الاسد‘ ایرانی اور روسی اتحادی ‘گزشتہ سال کے دوران حزبِ اختلاف کے مفتوح بنائے گئے علاقوں پر‘ اپنا کنٹرول اور اثرورسوخ مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ بشارلاسد کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اورشام کے پڑوس میں واقع السویدہ میں اسد مخالف جذبات کو دبانے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔
گولان کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے یہ تاثر ملا کہ امریکی انتظامیہ کی پالیسی اسرائیل کے حق میں بدل رہی ہے۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکے ہیں۔ اس سے قبل فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے کی فنڈنگ کم کر دی گئی۔امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی کو تقریباًتمام معاونت بھی روک دی ۔ فلسطینی اتھارٹی پر دہشت گردوں کی مالی امداد اور امن کی کوششوں کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا‘تاہم اس منصوبے کے لیے عرب ممالک کی تائید ضروری ہوگی‘ جوطویل عرصہ سے اسرائیل کے زیر تسلط علاقوں کی واپسی کے خواہشمند ہیں۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کی جانب سے امریکی فیصلے کے خلاف مذمتی بیان سامنے آیا ‘جس میں کہا گیا کہ گولان عرب کا حصہ ہے اور سعودی عرب اسے کبھی بھی اسرائیل کا علاقہ تسلیم نہیں کرے گا۔
عرب میڈیا اور مبصرین کے مطابق لشامی صدر کے وفادار علاقوں میں ابتر معاشی صورت حال کی وجہ سے عدم اطمینانی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ کشیدہ صورت حال بشار الاسد کی فوج کے ہاتھوں فضائی حملوں سے شہری علاقوںکی تباہی اور ان کے محاصرے کا نتیجہ ہے۔شام کی تباہ کاریوں کے بعدملک کے روشن دماغ عوام ملک چھوڑ کرچلے گئے‘ جبکہ اسد حکومت نے اقتصادی مواقع پیدا ہی نہیں کیے ‘بلکہ اندرونی کرپشن کی بدولت ملک کئی سال پیچھے چلا گیا ۔عرب میڈیا کی شہ سرخیوں میں یہ بات بھی دیکھنے کو ملی کہ بشار الاسد پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے وفاداروں کو یہ باور کراتے رہے کہ جب مغرب اور خلیج کے حمایت یافتہ دہشت گرد شکست سے دوچار ہوں گے‘ تو صورت حال کافی حد تک تبدیل ہو جائے گی اور ملک بہتری کی جانب گامزن ہو جا ئے گا۔شامی صدر نے دوبارہ فوجی کنٹرول حاصل کر لیا ہے‘شامی عوام اب دوبارہ حکومت سے حالات کی بہتری کی امید لگائے ہوئے ہیں۔تمام عوامل بشارالاسد کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘جہاں یہ اقدام ان کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے‘ وہیں انہیں سیاسی طور پر فائدہ بھی پہنچا رہا ہے۔ گولان کی چوٹیوں کو مرکز توجہ بنانا‘امریکہ اور اسرائیل کی غلط حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ شامی صدر کو عوامی اعتماد جیتنے کا ایک اور موقع مل جائے گا ‘وہ اس بات کو جواز بناتے ہوئے ‘عوامی وفاداروں کی حمایت کو برقرار رکھ سکیں گے۔شام میں میڈیا پہ اسد حکومت کا مکمل کنٹرول ہے۔صرف وہی خبر ہی عوام کے سامنے آ پاتی ہے‘ جو حکومتی مفاد میں ہو۔شامی میڈیا پہلے ہی اپنی حکومتی ناقص کارکردگی اور بحرانوں کا سارا ملبہ امریکی اقتصادی پابندیوںپر ڈالتا رہاہے‘ کچھ حد تک یہ درست بھی ہے۔امریکی حکومت کا گولان کی چوٹیوں کو موضوع ِبحث بناناشامی حکومت اور میڈیا کے موقف کو مزید تقویت دے گا۔
ایران دنیا کے سامنے مسلسل یہ دعوے کرتا دکھائی دیا کہ اس کی شامی انقلاب کے خلاف مداخلت کا اصل مقصد ‘ اسرائیل سے جنگ آزما ہونا ہے۔گولان پر اسرائیل کے کنٹرول سے ایران کو شام میں اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا جواز مل جائے گا‘وہ مزید میزائل اڈوں کی تعمیر کر سکے گا‘ جیسا کہ حال میں لبنان کی سرحد کے قریب میزائل اڈا تعمیر کیا گیا۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی‘ایران‘ شام کے صحرا کے درمیان سے ریل کی پٹڑی بچھانے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔اسد حکومت کی سکیورٹی سروسز ملک میں واپس آنے والے مہاجرین پر خصوصی نظر رکھتی ہے۔ماضی میں حزب ِاختلاف کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں بیشتر مہاجرین کو گرفتار کیا گیا۔عرب میڈیا نے یہ الزام عائد کیا کہ ایران بھی یہی چاہتا ہے کہ مہاجرین اپنے وطن سے دور رہیں۔ایران ‘خمص اور دمشق کے علاقوں میں آبادی کو بے گھر کرنے کی حکمت عملی کوایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتاہے ‘تا کہ اسد حکومت کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول یقینی بنایا جاسکے۔
ایران اور بشار الاسد کا راستہ روکنے اور ان سے محاذ آرا ہونے کا ایک بہتر طریقہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ شام کے جنوب میں ‘ایک محفوظ علاقہ قائم کیا جائے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے شہریوں کے تحفظ کی ذمے داری کے اصول کے تحت قائم کرنا ہوگا‘ اس کے لیے علاقائی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔اس وقت اردن میں چھے لاکھ ستر ہزار سے زیادہ شامی مہاجرین قیام پزیرہیں‘ان مہاجرین کی وجہ سے اردن جیسے چھوٹے ملک کو بھاری معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اردن اور لبنان سے شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے ایک فارمولا واضح کرسکتی ہے‘ بہت سے مہاجرین بھی اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں‘ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک شام میں بشار الاسد اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کا کنٹرول موجودہے‘ وہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے ‘ایسے اقدامات کر کے ہمسایہ ریاستوں کو بھی مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ یوںشام کی تعمیر ِ نو کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہو جائیں گے۔