یہ نئے سال کا دوسرا دن تھا۔ پاکستان نے ابھی 2002 کی آمد کا جشن منایا تھا اور میں گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھا۔ اچانک میرا محافظ نمودار ہوا اور اس نے مجھے بتایا کہ پاکستانی افسران دروازے پر موجود ہیں اور مجھے ملنے کے خواہاں ہیں۔ یہ رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا جو کہ میرے گھر پر میٹنگ کے لئے ایک غیر معمولی وقت تھا۔ میں چھوٹے مہمان خانے کی طرف گیا۔ کمرے میں تین افراد موجود تھے۔ انہوں نے خود کو متعارف کروایا۔ ایک گلزار نامی پشتون تھا جبکہ دوسرے دو اردو بول رہے تھے۔ تہنیتی کلمات کے تبادلے کے بعد ہم اکٹھے بیٹھ گئے اور میں نے ان کے اتنے رات گئے آنے کا مقصد بیان کرنے کا انتظار کرتے ہوئے انہیں چائے پیش کی۔ ، اس کا چہرہ سیاہ اور ڈراؤنا تھا، اس کے لب سوجے ہوئے تھے، اور اس کی ناک اور پیٹ بڑا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کہ اسے جہنم سے کھینچ کر لایا گیا ہو۔ اس نے میری یا میرے گھر کی عزت کا رتی برابر بھی خیال نہیں کیا اور گستاخی سے پیش آیا۔

اس نے کہا ’عزت مآب، اب آپ عزت مآب نہیں رہے۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے، کیا آپ کو اس کا علم تھا؟ اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ہے، نہ ہی اس سے مذاکرات کر سکتا ہے۔ امریکہ آپ سے سوالات پوچھنا چاہتا ہے اور ہم آپ کو اسے کے حوالے کرنے آئے ہیں‘۔

پاکستان خود کو کسی نقصان سے بچانا چاہتا تھا۔ میں نے جواب دیا کہ میں جانتا ہوں کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے، دنیا کی واحد سپر پاور، لیکن دنیا کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔

میں نے کہا کہ ’ان قوانین کے تحت، خواہ وہ اسلامی ہوں یا نہ، آپ مجھے کیسے امریکہ کو دے سکتے ہیں؟ میں نے کسی ایسے آئین کے بارے میں نہیں سنا جو کہ آپ کو ایسا کرنے کا حق دیتا ہو۔ آپ مجھے اپنا ملک چھوڑنے کا حکم دے سکتے ہیں لیکن مجھے گرفتار نہیں کر سکتے ہیں‘۔

جہنم سے آنے والے شخص نے اچانک کہا ’نہ ہی اسلام اور نہ ہی کوئی دوسرا اصول یا قانون موجودہ صورت حال کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس وقت صرف ہمارا مفاد اور پاکستان ہمارے لئے اہمیت رکھتے ہیں‘۔ اس وقت مجھے سمجھ آ گئی کہ گفتگو نے خرابی کا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ‘۔ میں نے خود کو ٹھنڈا کیا اور انہیں کہا کہ وہ جو چاہے وہ کر سکتے ہیں۔ ’میں تمہارے رحم و کرم پر ہوں۔ میرے پاس یہاں کوئی پناہ نہیں ہے۔ روز قیامت خدا ہی فیصلہ کرے گا‘۔

انہوں نے مجھے آدھی رات تک گھر میں رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کے بعد مجھے پشاور منتقل کر دیا جائے گا۔ امریکی تحقیقات کر رہے ہیں جن کے بعد مجھے رہا کر دیا جائے گا اور میں گھر واپس لوٹ سکتا ہوں۔ اس وقت میرے پاس پاکستان کا دس ماہ کا ویزا تھا۔ میرے پاس ایک سرکاری خط تھا جو کہ پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ کو بھیجا گیا تھا جو کہ مجھے پاکستان میں امارت اسلامیہ افغانستان کے نمائندے کے طور پر شناخت دیتا تھا، جب تک کہ افغانستان کی مشکل صورت حال کا مسئلہ حل نہ ہو جائے۔

میری تمام دستاویزات کے باوجود، بین الاقوامی قانون کے تحت مجھے حاصل تحفظ کے باوجود، حتی کہ اقوام متحدہ کے خط کے باوجود جس میں لکھا تھا کہ ’حامل رقعہ ہذا کو اس کی نمائندگی کے رتبے کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے‘، تین گاڑیاں آدھی رات کو میرے دروازے پر آن کھڑی ہوئیں۔ تمام سڑکیں بند کر دی گئی تھیں اور وہاں محافظ تعینات کر دیے گئے تھے۔ حتی کہ وہاں موجود صحافیوں کو بھی رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ مجھے ان سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی کہ لوگوں کو بتا سکوں کہ کیا ہو چکا ہے۔ انہوں نے مجھے گھر چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ جب میں باغیچے سے نکل کر گلی تک جا رہا تھا تو میرے بچے رونے لگے۔

جب میں رات کی تاریکی میں گلی میں چل رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ کوئی نہیں تھا جو کہ مجھے بچا سکتا۔ کوئی نہیں تھا جو کہ انہیں کچھ بھی کرنے سے روک پاتا۔

مجھے ان کی گاڑیوں میں سے ایک میں بٹھا دیا گیا۔ اس وقت بھی میں پاکستانی حکومت کا خود سے برتاؤ سمجھنے سے قاصر تھا۔ آخر میں ان کا ہم عقیدہ بھائی تھا، جس کا ان کے اس مذہبی جذبے پر کوئی اثر ہونا چاہیے تھا جس کے وہ پرچارک تھے۔

یہ میرے لئے ایک سخت احساس تھا، خاص طور پر اس وقت جب کہ مجھے لے جانے والے افراد قرآن پاک کا نام لینے کی جسارت کرتے تھے یا آپس میں تصور جہاد پر بات کرتے تھے۔ مجھے پچھلی سیٹ کے درمیان میں بٹھا دیا گیا۔ آئی ایس آئی کے افسر دکھائی دینے والے افراد میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ مجھے ان کے پاس ہتھیار دکھائی نہیں دیا لیکن ہماری گاڑی ایک تین کاروں کے قافلے کی شکل میں تھی تھے جو کہ پشاور کی طرف رواں تھا۔ دوسری گاڑیوں میں مسلح افراد موجود تھے۔ ڈرائیور نے کسی گلوکارہ کی ٹیپ لگا دی جو کہ سارا راستہ چلتی رہی۔ یہ بات واضح تھی کہ اس کا مقصد محض مجھے برانگیختہ کرنا تھا۔

پشاور کے راستے میں میں نے ان سے گاڑی روکنے کا کہا تاکہ میں فجر کی نماز ادا کر سکوں، مگر انہوں نے مجھے پشاور پہنچنے تک انتظار کرنے کا کہا۔ میں ان سے بار بار کہتا رہا مگر انہوں نے نماز کی پروا نہ کی اور میری درخواستوں کو نظرانداز کرتے رہے۔

جب ہم پشاور پہنچے تو ہمیں ایک خوب آراستہ دفتر میں لے جایا گیا۔ ایک پشتون ڈیسک کے پیچھے بیٹھا تھا۔ وہ کھڑا ہوا اور اس نے خود کو متعارف کروایا اور مجھے خوش آمدید کہا۔ وہ آئی ایس آئی کے مقامی دفتر کا سربراہ تھا۔

اس نے مجھے بتایا کہ میں ان کے لئے ایک قریبی دوست اور مہمان تھا جس کا وہ بہت لحاظ کرتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس کا کیا مطلب تھا، کیونکہ یہ مجھ پر واضح تھا کہ میں ان کو اس لئے پیارا ہوں کہ جب وہ مجھے بیچتے تو ایک اچھی قیمت پا سکتے تھے۔ وہ انسانوں کے تاجر تھے، جیسا بکروں کے ساتھ ہوتا ہے کہ جتنی بکرے کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اتنا ہی اس کا مالک خوش ہوتا ہے۔

رات کے کھانے کے بعد میں نے اس افسر کے ساتھ ہی نماز ادا کی اور ایک آرام دہ کمرے میں لے جایا گیا جس میں گیس ہیٹر، بجلی اور ٹائلٹ تھا۔ مجھے کھانا اور مشروب دیا گیا، حتی کہ قرآن مجید کا ایک نسخہ بھی پڑھنے کے لئے دیا گیا، اور ایک کاپی پینسل بھی۔ دروازے پر تعینات محافظ بہت مددگار تھا اور اس نے رات بھر مجھے ہر وہ چیز دی جس کی میں نے درخواست کی۔

پشاور میں قید کے دوران مجھے سے تفتیش نہیں کی گئی۔ صرف ایک شخص ہی ہر روز آتا تھا جس کو پشتو نہیں آتی تھی اور اس کی اردو مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ ایک ہی سوال بار بار پوچھتا تھا کہ اب کیا ہو گا؟ میرا جواب ہر مرتبہ ایک ہی ہوا کرتا تھا، ’صرف خدائے بزرگ و برتر جانتا ہے، اور وہی میری قسمت کا فیصلہ کرے گا۔ جو بھی ہوتا ہے اسی کی مرضی سے ہوتا ہے‘۔

ن ان میں سے کوئی بھی مجھ سے کھل کر گفتگو نہیں کرتا تھا۔ وہ مجھے خاموشی سے دیکھتے تھے مگر ان کے چہرے اس سے کہیں زیادہ واضح انداز میں مجھ سے وہ بات کرتے تھے جو ان کے الفاظ کر سکتے تھے۔ ان کے چہروں پر میرے لئے رحم دکھائی دیتا تھا اور ان کی آنکھوں میں آنسو چھلکتے تھے۔

آخر کئی دن بعد میرے کمرے میں ایک شخص آیا جس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ غم سے غش کھا گیا اور شرم سے اس کی بری حالت ہو گئی۔ وہ آخری شخص تھا جو اس کمرے میں میں نے دیکھا۔ مجھے اس کے نام کا کبھی علم نہیں ہوا مگر اس کے فوراً بعد، شاید اس کے جانے کے چار گھنٹے کے بعد، مجھے امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا۔

اس وقت رات کے گیارہ بجے تھے اور میں سونے کی تیاری کر رہا تھا جب اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔ وہ شائستہ انداز میں بات کر رہا تھا اور ہم نے تہنیتی کلمات کا تبادلہ کیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے علم ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گا؟ میں نے جواب دیا کہ مجھے کچھ علم نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ مجھے جلد ہی منتقل کر دیا جائے گا۔ اتنا جلد کہ مجھے فوراً وضو کر لینی چاہیے اور حاجت پوری کر لینی چاہیے۔ کوئی سوال کیے بغیر میں اٹھا اور وضو کر لی۔

پانچ منٹ ہی گذرے ہوں گے کہ ایک اور شخص اندر داخل ہوا جس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور ایک کالا کپڑا تھا۔ اس نے مجھے ہتھکڑیاں پہنا کر میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ یہ زندگی میں پہلا موقع تھا کہ میرے ساتھ ایسا سلوک ہوا تھا۔ جب وہ مجھے عمارت سے باہر لا رہے تھے تو انہوں نے مجھے لاتیں ماریں اور گاڑی کے اندر دھکیل دیا۔ انہوں نے اب تک ایک لفظ بھِی ادا نہیں کیا تھا۔ گاڑی تقریباً ایک گھنٹے تک چلتی رہی اور پھر رک گئی۔ مجھے ہیلی کاپٹر کے پنکھوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ میں ہوائی اڈے پر ہوں جہاں مجھے امریکیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ کسی نے مجھے پکڑا اور میری کلائی سے میری قیمتی گھڑی اتار لی۔

جب میں ہیلی کاپٹر کے قریب پہنچا تو ایک گارڈ نے میرے کانوں میں سرگوشی کی ’خدا حافظ‘۔ جس انداز سے اس نے یہ کہا تھا اس سے لگتا تھا کہ میں کسی خوشگوار سفر پر روانہ ہو رہا ہوں۔ ہم سب ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے۔

ہیلی کاپٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی مجھ پر ہر طرف سے حملہ کر دیا گیا۔ لوگوں نے مجھے ٹھڈے مارے، مجھے پر چیخے چلائے اور چاقو سے میرے کپڑے پھاڑ ڈالے گئے۔ انہوں نے میری آنکھوں سے پٹی نوچ لی اور پہلی مرتبہ میں دیکھ پایا کہ میں کہاں ہوں۔ پاکستانی اور امریکی سپاہی میرے گرد کھڑے تھے۔ ان سپاہیوں کے پیچھے میں ایک فوجی گاڑی دیکھ سکتا تھا جس ایک جنرل کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔

پاکستانی سپاہی مجھے دیکھتے رہے جب امریکی فوجیوں نے مارتے ہوئے میرے باقی ماندہ کپڑے میرے بدن سے نوچ ڈالے۔ حتی کہ میں الف ننگا ہو گیا لیکن پاکستانی سپاہی مسکراتے ہوئے مجھے دیکھتے رہے گویا وہ امریکیوں کے اس کریہہ فعل کی داد دے رہے ہوں۔ انہوں نے مجھے امریکیوں کو سپرد کرنے کی رسم میری آنکھوں کے سامنے ہی ادا کی۔ وہ لمحہ میری یادوں میں ایک دھبے کی طرح نقش ہو گیا ہے۔

اگر پاکستانی ان ملحد امریکیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے، تو مجھے کم از کم یہ توقع ضرور تھی کہ وہ یہ اصرار کرتے کہ میرے ساتھ ایسا سلوک ان کی آنکھوں کے سامنے یا ان کے خود مختار علاقے میں نہ کیا جاتا۔

میں ننگا ہی تھا جب کھردرے ہاتھوں والے ایک امریکی نے مجھے گھسیٹ کر ہیلی کاپٹر میں ڈال دیا۔ انہوں نے میرے ہاتھ پاؤں باندھ ڈالے اور میرے منہ پر ایک ٹیپ لگا کر میرے سر پر ایک کالا کپڑا لپیٹ دیا۔ اس کپڑے کو میری گردن کے ساتھ ٹیپ سے لگا دیا گیا اور مجھے ہیلی کاپٹر کے فرش سے باندھ دیا گیا۔

اس تمام دورانیے میں میں نہ تو چیخ سکا اور نہ ہی سانس لے پایا۔ جب بھی میں سانس قابو میں کرنے کی کوشش کرتا یا ایک طرف ہونے کی کوشش کرتا تو مجھے زور سے ٹھڈا رسید کیا جاتا۔ ہیلی کاپٹر پر میں نے مار پیٹ کا خوف ذہن سے نکال دیا۔ مجھے یقین تھا کہ کچھ دیر میں ہی میری روح میرے جسم کو چھوڑ دے گی۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ میں جلد ہی اس تشدد کی وجہ سے مر جاؤں گا۔ لیکن میری خواہش پوری نہ ہوئی۔ سارا راستہ یہ سپاہی مجھ پر چیختے رہے اور مجھے مارتے رہے حتی کہ ہیلی کاپٹر اتر گیا۔ جب تک میں وقت کا شمار کھو چکا تھا۔ ایک فوجی نے مجھے ہیلی کاپٹر سے باہر گھسیٹا۔ باہر کئی فوجیوں نے مجھے مارا پیٹا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مجھے کئی گھنٹوں تک مارتے رہے۔ اس کے بعد وہ فوجی میرے اوپر ایسے بیٹھ گئے جیسے وہ پارک کے بینچ پر بیٹھے ہوں اور مزے سے باتیں کرنے لگے۔

میں دو گھنٹے تک گٹھڑی بنا ہوا فرش پر پڑا رہا اور پھر انہوں نے مجھے گھسیٹ کر ایک اور ہیلی کاپٹر میں ڈال دیا۔ یہ پرانے والے سے زیادہ جدید دکھائی دے رہا تھا۔ فوجیوں نے مجھے ایک سیٹ سے باندھ دیا اور سارے راستے مجھے نہیں چھِیڑا گیا۔ ہیلی کاپٹر بیس منٹ بعد اتر گیا۔ فوجیوں نے مجھے اتار کر چلانا شروع کیا۔ یہ ایک لمبا راستہ تھا، میری آنکھوں پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی، لیکن میں اپنے ارد گرد کئی لوگوں کے وجود کا احساس رکھتا تھا۔ ایک ترجمان نے مجھے بتایا کہ مجھے سامنے موجود سیڑھیوں سے نیچے اترنا تھا۔ نیچے جا کر آہستہ آہستہ لوگوں کی آوازیں سنائی دینا بند ہو گئیں۔ شاید سیڑھیوں کی چھے منزلیں اترنے کے بعد ہم ایک جگہ رکے اور میرے سر سے کالا تھیلا اتار دیا گیا۔ میرے چہرے سے ٹیپ بھی اتار دی گئی اور میرے ہاتھ کھول دیے گئے۔

میرے ارد گرد چار امریکی فوجی کھڑے تھے اور بائیں جانب مجھے پنجروں کی مانند بنائے گئے قید خانے دکھائی دے رہے تھے جن میں لوگ موجود تھے۔

کتاب ڈاون لوڈ کرنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے

Gawanta namo ki kahani-Pdf book گوانتا نامو بے کی کہانی ملا ضعیف کی زبانی