فارن پالیسی میگزین نے سال 2019 کے عالمی مفکرین کی فہرست شائع کر دی ہے۔ جریدہ یہ فہرست گزشتہ 10 سال سے شائع کر رہا ہے اور اس فہرست میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ لوگوں کو شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے دنیا پر گہرا اثر چھوڑا۔

پاکستان کے لیے یہ فہرست اس لیے بھی اہم ہے کیوںکہ اس سال اس میں پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی شامل ہیں۔

عمران خان کی تصویر میگزین کے پہلے صفحے پر دوسرے عالمی دانشوروں کے بیچ چھپی ہے۔ وہ بل گیٹس، جن کے مرغی اور انڈوں کے آئیڈیے سے عمران خان متاثر ہوئے، اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی تصاویر کے درمیان موجود ہیں۔

اس فہرست میں باراک اوباما، اینگلا مرکل، محمد بن سلمان، بِل اور ملینڈا گیٹس سمیت دنیا کی دیگر معروف شخصیات شامل ہیں۔

دانش مصطفی نے کہا کہ ‘عمران خان ویسے ہی مفکر ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ’۔ وہ فارن پالیسی میگزین کے اس فیصلے سے بلکل مطمئن نہیں تھے اور میگزین کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔

پی ٹی آئی کے اپنے اکاونٹ پر عمران خان کا اس فہرست میں شامل ہونا پاکستان کی عالمی سطح پر کامیابی اور باعث سربلندی قرار دیا گیا۔ اکاؤنٹ نے ساتھ ہی وزیرِاعظم کے سیاسی حریفوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔


اسی ٹویٹ کے نیچے راہیل دانش نے اپنے خیالات کا اظہار چند اشعار کی مدد سے کیا جس میں وہ بظاہر عمران خان کی رہبری پر سوالیا نشان لگا رہے تھے۔

اور یہاں ہی ایک اور صارف مریم رحمان نے طنزیہ طور پر لکھا کہ ’مفکر؟ واقعی‘۔

مہوش سہیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی کے دو گھنٹے فارن پالیسی میگزین میں عمران خان کو ڈھونڈنے میں لگا دیے پر ان کو وزیراعظم کا کوئی ذکر نہیں ملا۔ ان کے اس سوال پر ایک اور صارف نے انھیں یہ بتایا کہ گردش کرنے والی تصاویر میگزین کے پرنٹ ایڈیشن کی ہیں، جبکہ آن لائن ورژن میں ابھی عمران خان کا ذکر نہیں۔

عمران خان کے مداح اس پر مسرت موقع پر بھی اپنے حریفوں کو یاد کرتے رہے۔

bbc urdu