کینیڈین حکام نے چینی کمپنی ’’ہواوے ٹکنالوجیز‘‘ کی چیف فائنینشل آفیسر’’سی ایف او‘‘ منگ وانزھو کو کینیڈا میں حراست میں لے لیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وانزھو کو امریکا کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کو شک ہے کہ وانزھو نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔ تاہم چین نے منگ وانزھو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

درایں اثنا چین میں کینیڈا کے ایک سابق سفارتکار نے خبردار کیا ہے کہ چین وانزھو کی گرفتاری کے جواب میں امریکی اور کینیڈین ایگزیکٹو کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر سکتا ہے۔

کینیڈا میں چینی سفارتخانے سے جاری ہونے والے بیان میں منگ وانزھو کی گرفتاری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چینی شہری نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اس لئے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

بیان میں چین نے کینیڈا سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ فوری طور پر اپنی غلطی کا ازالہ کرے اور منگ کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔‘‘

کینیڈین وزارت انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ منگ وانزھو ہواوے کمپنی کے بانی رین شنگ کی بیٹی اور کمپنی کی مجلس انتظامی کی رکن ہیں۔ انہیں یکم دسمبر کو وانکوور سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔

بیان میں عندیہ ظاہر کیا گیا ہے وانزھو کو امریکا نے اپنے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے۔ جمعہ کو ہونے والے کارروائی میں وانزھو کی گرفتاری برقرار رکھنے یا رہائی سے متعلق مقدمہ کی سماعت ہو گی۔

سینسرشپ

سفارتخانے کا مزید کہنا ہے کہ اس گرفتاری سے متعلق خبروں کی اشاعت پر پابندی ہے۔ یہ پابندی منگ وانزھو کی درخواست پر عائد کی گئی ہے، اس لئے فی الوقت ہمارے لئے مزید تفصیلات جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے امسال اپریل میں اپنی ایک اشاعت میں بتایا تھا کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی سے متعلق امریکی عدالت نے منگ کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا۔

جمعرات کے روز ہواوے کمپنی کے ایک بیان کہا گیا تھا کہ ’’ہمیں منگ کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق کسی قسم کا علم نہیں ہے۔‘‘

’’کمپنی کو منگ پر عائد الزامات کی زیادہ تفصیلات کا علم نہیں اور نہ ہی اس بات کا کہ منگ وانزھو کے اقدامات سے کس کو کتنا گزند پہنچا ہے۔‘‘

عدل پر مبنی فیصلہ

ہواوے نے وضاحت کی ہے کہ امریکا نے کینیڈا سے منگ وانزھو کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان پر نیویارک میں فرد جرم عائد کی جائے سکے۔ تاہم کمپنی نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی اور کینیڈین عدالتیں منگ کیس میں منصفانہ فیصلہ کریں گی۔

بیان کے مطابق ’’ہواوے تمام رائج قوانین، قواعد اور ضوابط کی پاسداری کرتی ہے۔ ان میں یو این، امریکا اور یورپی یونین کی پابندیاں اور دیگر ضوابط بھی شامل ہیں۔‘‘

ہواوے دنیا میں مواصلاتی آلات بنانے والی صنعتوں میں ایک نمایاں نام ہے۔