امتیاز احمد وریاہ

انتہا پسند لبرل ہوں یا مذہبی، دونوں ہی لاعلاج ہیں۔عقل ودانش ان سے ایسے ہی روٹھے ہوئے ہیں جیسے آج کل کرونا وائرس سے کوئی دوا ندارد۔ ہفتے کے روز ایک انتہا پسند شیعہ خاتون کی سوشل میڈیا پر ویڈیو گردش کررہی ہے، موصوفہ کو یہ فکر لاحق ہے کہ حکومتِ پاکستان نے کرونا وائرس کی آڑ میں ان کی فرقہ وار نوعیت کی مجالس اور جلوسوں پر پابندی عاید کردی ہے۔وہ موجودہ اور سابق اربابِ اقتدار کو خوب جلی کٹی سنا رہی ہیں۔سابق صدر مرحوم جنرل ضیاء الحق کے بارے میں جو کچھ ارشاد کیا،اس سے ان کی تمام سوچ وفکر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

ایک تلخ حقیقت ملاحظہ کیجیے۔آج تک پاکستان سمیت مسلم دنیا میں کرونا وائرس کے جتنے بھی کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے،ان میں کی اکثریت کا تعلق ان ہی کے ہم مذہبوں سے ہے۔ وہ سب ایران کے سفر پر گئے اور اس بیماری کو ساتھ لے کر آبائی ممالک کو لوٹے اور پھر چل سو چل ۔ان سے میل ملاپ رکھنے والے بھی اس وبا سے دوچار ہوگئے۔اس حقیقت کی تصدیق کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔یہ سامنے کی حقیقت ہے۔ایران سے لوٹنے والے زائرین کی لائی ہوئی اس وبا کی وجہ سے ہم بہ حیثیت قوم جن حالات سے گزر رہے ہیں،اس کی انھیں ہرگز بھی پروا نہیں۔وہ اپنے ہم مذہبوں کو دوش دے رہی ہیں کہ وہ باہر نکلیں اور عزاداری کی مجالس منعقد کریں۔

المیہ تو یہ ہے کہ ایسے لوگ یہ سب کچھ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نام پر کرتے ہیں۔کیا خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اولاد نے اُمت کو اس طرح کے کسی امتحان میں ڈالا۔ ان لوگوں سے ایک ہی گزارش کی جاسکتی ہے،اگر انھیں خود پر نہیں تو اس ملک اور اس کے عوام پر رحم کریں۔فرض نمازوں کی تو کسی کو فکر لاحق نہیں اور ایسے اجتماعات منعقد کرنے کا رونا رویا جارہا ہے جو دین میں فرض ہیں نہ واجب،سنت ہیں نہ نفل۔ان کا تعلق فقط تاریخ اور تاریخی واقعات سے ہے اور اس پر باقاعدہ عقیدے کھڑے کر لیے گئے ہیں۔

ایسے انتہا پسند لوگ ایران کے حالات ملاحظہ کریں، وہاں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے کیا صورت حال ہے،ان سے عبرت پکڑیں۔اگر جلوس اور اجتماع اتنے ہی ضروری ہیں تو پھر قُم، مشہد وغیرہ سے پاکستان یا دوسرے ممالک میں لوٹنے کی کیا ضرورت تھی؟ایران سے چُوری چھپے سعودی عرب کیوں واپس گئے ہیں؟کسی بھی عقیدہ کے پیروکار اپنے اپنے مقدس مقامات میں تادمِ مرگ قیام اور وہاں جان جانِ آفرین کے سپرد کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔انھیں اس قول پر عمل کرنا چاہیے تھا تو کوئی ان پر حرف زنی کرتا اور نہ ان کی وجہ سے کوئی دوسرا کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا۔؎

ولایت، پادشاہی، علمِ اشیاء کی جہاں‌گیری

یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں

براہیمی نظر پیدا، مگر مشکل سے ہوتی ہے

ہَوس چُھپ چُھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے

حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں