اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا واقعی امام کعبہ نے جواخانے کا افتتاح کردیا؟اس دعوے کی حقیقت اب کھل کر سامنے آگئی ، دراصل یہ سعودی عرب میں مقبول اور قدیم گیم بالوٹ کی تقریب تھی لیکن چند عناصر نے جھوٹا اور من گھڑت پراپیگنڈا شروع کردیا تھا ۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے

مطابق کارڈ گیم بالوٹ کی پہلا نیشنل بالوٹ چیمپیئن شپ چار اپریل سے ریاض میں جاری ہے جس میں مجموعی طورپر12,288 تاش کھیلنے والے کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں ۔ بالوٹ کے ٹورنا منٹ میں 85,000سے زائد لوگوں نے اپنی انٹری کروائی ہے لیکن ان میں سے صرف 12,288 لوگ ہی 288 لوگ ہی چیمپیئن میں شرکت کر کے 384ٹیبلوں پر کھیل سکیں گے۔بالوٹ چیمپیئن شپ میں شرکت کرنے والے 8192ریاض کے پرنس فیصل بن فہد اولمپک کمپلیکس میں کھیلیں گے اور بقایا لوگ کنگ عبداللہ پٹرولیم سٹڈیز اینڈ ریسرچ سنٹر ریاض میں کھیلیں گے۔ اس کھیل کو منعقد کروانے کے لیے 414ایمپائرز ہوں گے۔کھیل کو منعقد کروانے کے لیے چیئرمین بورڈ جنرل سپورٹس اتھارٹی عبدالمحسن الشیخ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ جس کے مطابق چار بہترین کھلاڑیوں میں 270, 000 ڈالر تقسیم کیے جائیں گے اور فاتح کو 133, 350 ڈالر دیے جائیں گے۔بنینز ہ چیمپیئن شپ میں پہلے چار جیتنے والے کھلاڑیوں کو انعام دے گا ،پہلا انعام پانچ لاکھ ریالز ،دوسرااڑھائی لاکھ ریالز،تیسرا ڈیڑھ لاکھ انعام اور چوتھاایک لاکھ ہو گا۔کارڈ گیم کی چیمپیئن شپ کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس کھیل کو سعودی ریاست میں بہت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔سعودی یوتھ محمد الہاشم آن لائن گیم کے ڈویلپرنے ٹورنامنٹ کے حوالے سے اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ حکام نے بالوٹ کھیل کی اہمیت کو جان لیا ہے۔ سعودی عرب میں یہ تمام عمر کے لوگوں میں مقبول ہے،

سعودی عرب کے نوجوان اسے کھلی جگہوں پر بیٹھ کر کھیلتے ہیں۔ سعودی معاشرے میں اس کھیل کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ جو اسے کھیلتا ہے وہ اللہ کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک قدیم کھیل ہے جو نسل در نسل سے چل رہا ہے اور آہستہ آہستہ بالوٹ کھیل عرب دنیا کی ثقافت بنتا جا رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بین الاقوامی سطح پر کھیلا جانے لگے۔لیکن امام کعبہ کی آمد کے بعد اسے بنیاد بنا کراس کیخلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیاگیا۔