”عورت کی شناخت مرد سے نہیں ہوتی۔ عورت کا وجود اس کا اپنا ہے‘‘۔
8 مارچ کا دن خواتین کے نام ہے۔ ابلاغ کے ایک بین الاقوامی ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر اسی مناسبت سے ایک رپورٹ شائع کی اور اُس جملے کو اس کا عنوان بنایا ہے‘ جس سے میں نے کالم کا آغاز کیا ہے۔ کیا فی الواقعہ ایسا ہی ہے؟ کیا عورت کا وجود اس کا اپنا ہے؟
خواتین کے کردار کا تعین، ہمیشہ انسانی سماج کا بڑا مسئلہ رہا ہے۔ سماجی علوم کی دنیا میں خیالات کا ایک جنگل آباد ہے، جہاں راہ سجھائی نہیں دیتی۔ مذہبی متون کی تفسیر میں بھی یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے۔ بیسویں صدی میں جب خواتین کے حقوق کے لیے ایک منظم تحریک برپا ہوئی تو یہ ایک عالم گیر مسئلہ بن گیا۔ دنیا بھر کے معاشروں میں عورت کے سماجی کردار پر ایک پُرجوش بحث کا آغاز ہو گیا۔

مرد ہو یا عورت، واقعہ یہ ہے کہ اُن کے کردار کا تعین وقت کرتا ہے۔ وقت ایک بہتا دریا ہے۔ اس کا گزر شاداب وادیوں سے ہوتا ہے اور سنگلاخ زمینوں سے بھی۔ یہ گزر گاہ ہے جو اس کی لہروں کو ردھم دیتی ہے۔ کبھی سکوت، کبھی شور۔ وقت کا گزر پتھر کے عہد سے ہوا تو وسائلِ پیداوار میں انسان کی جسمانی قوت کا کردار مرکزی تھا۔ زرعی دور تک یہ کردار باقی رہا۔
انسانی تجربہ یہ ہے کہ جسمانی قوت کے اعتبار سے مرد کو برتری حاصل ہے۔ یوں ایسی معاشرت وجود میں آئی جس میں مرد کی برتری کا تصور غالب تھا۔ اولاد نرینہ کا تصور بھی اسی دور کی دَین ہے۔ زیادہ بیٹے ہونے کا مطلب ذرائع پیداوار میں برتری تھی۔ ذرائع پیداوار پر قبضہ انسان کی جبلی آرزو ہے کیونکہ اسی سے قوت اور پھر حکمرانی جنم لیتی ہے۔

صنعتی دور آیا تو ذرائع پیداوار کی نوعیت بدل گئی۔ انسان کی جگہ مشین نے لے لی۔ یوں ذرائع پیداوار کا تصور بھی تفہیمِ نو سے گزرا۔ اب انسان کی جسمانی قوت کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی جو پتھر یا زراعت کے دور میں تھی۔ اب دماغ نے جسم کی جگہ لے لی۔ اس میدان میں عورت نے مرد کی برتری کو چیلنج کر دیا۔ اس نے زبانِ حال سے بتا دیا کہ وہ ذہنی اعتبار سے مرد سے کم نہیں۔ اب مرد کی برتری کا تصور دھندلانے لگا۔ مرد کے لیے آسان نہیں رہا کہ وہ اس میدان میں عورت کو پچھاڑ سکے۔ یہی دور ہے جس میں مرد اور عورت کی مساوات کا نعرہ بلند ہوا۔
جب ذرائع پیداوار پر مرد کی حکمرانی تھی تو عورت کا سماجی کردار ذیلی یا ضمنی تھا۔ اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ مرد کی زندگی کو آسان اور پُر آسائش بنائے۔ یوں اس کے سماجی کردار کا تعین مرد کے زیر اثر ایک الگ مخلوق کے طور پر کیا گیا۔ اس کے جسم پر مرد کی حکمرانی تھی کیونکہ انسان اصلاً جسم ہی تھا۔ اس کی مرضی مرد کی مرضی کے تابع تھی اور اس کا جسم مرد کے جسمانی مطالبات کا جواب۔ اس کا سماجی مقام اگر کچھ تھا تو اس بنیاد پر کہ وہ کتنے بیٹے جن سکتی ہے اور مرد کے لیے کس حد تک آسودگی و راحت کا سامان کر سکتی ہے۔ یہ تعبیر اس کے انفرادی وجود کی مکمل نفی پر منتج ہوئی۔

صنعتی دور میں عورت کے سماجی کردار کی تفہیم نو ہوئی تو عورت کے بارے میں نئے تصورات نے جنم لیا۔ چونکہ مقابلہ جسم کا نہیں، دماغ کا تھا تو عورت کی ذہنی صلاحیتوں نے خود کو منوانا شروع کیا۔ بارہا اس نے مرد پر اپنی برتری کو بھی ثابت کیا۔ اب اس سماجی نظام کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا‘ جو مرد کی برتری پر مبنی تھا۔ یہ کسی مطالبے یا تحریک کے نتیجے میں نہیں ہوا۔ وقت کا دریا جب صنعتی دور سے گزرا تو یہ وہ فطری لے تھی جو اس کی لہروں سے پیدا ہوئی۔ عورت کو جب اپنی قوت کا احساس ہوا تو خواتین کے ایک گروہ نے مرد کی برتری کو چیلنج کر دیا۔ اس نے کہا: ”عورت کی شناخت اب مرد سے نہیں ہو گی، عورت کا وجود اس کا اپنا ہے۔‘‘

خواتین کے حقوق کے لیے متحرک تحریکوں نے عورت کو یہ سمجھایا کہ عورت کی انفرادی حیثیت کا اعتراف ایک تحریک یا جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ مزید حقوق چاہتی ہے تو اسے میدان میں نکلنا اور اس تحریک کا حصہ بننا ہو گا۔ یہ غلط فہمی جب ایک نظامِ فکر میں ڈھلی تو اس نے عورت کو مرد کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اب ایک طرف مرد تھا جو غاصب تھا۔ دوسری طرف عورت تھی جو مظلوم تھی۔ ایک کو حق دینا تھا، دوسرے کو چھیننا تھا۔ یوں عورت نے اپنے وجود اور شخصیت پر مرد کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو زرعی عہد کی دَین تھا۔ مرد کو جب فریق بنا دیا گیا تو وہ ردِ عمل میں اپنے سماجی کردار کے دفاع کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ یوں ایک غلط فہمی نے ایک سادہ سماجی عمل کو مرد و زن کی کشمکش میں بدل دیا۔ اس کی قیمت معاشرے نے ادا کی، جس کی فطری اساس خاندان تھا۔ گھر رزم گاہ میں بدل گیا۔ وہ بچہ متاثر ہونے لگا جسے ماں اور باپ دونوں کی ضرورت تھی۔

جب تک مرد کی برتری قائم تھی، یہ سماجی علوم ہوں یا مذہبی تعبیرات، سب مرد کے ساتھ کھڑے تھے۔ ارسطو جیسا سماجی علوم کا باوا آدم، عورت کے بارے میں جو خیالات رکھتا تھا، آج کے دور میں بیان ہوں تو اس کی علمی حیثیت مشتبہ ہو جائے۔ مرد کی برتری کو ثابت کرنے کے لیے، مذہب اور اس کی نصوص و کتب کو جس طرح تختۂ مشقِ بنایا گیا، اس نے مذہب پر لوگوں کا اعتماد ہی کو متزلزل کر دیا۔
عورت کے حقوق کے لیے اٹھنے والی تحریکوں نے جب اس معاملے کو مرد اور عورت کے مابین ایک جنگ میں بدلا تو انہوں نے بھی سماجی علم اور مذہب کو اسی بے دردی سے استعمال کیا، جس بے دردی کے ساتھ فوقیتِ مرد کے علم برداروں نے استعمال کی تھا۔ اسریٰ نعمانی جیسی مفسرہ نے قرآن مجید کی ایسی ایسی تاویلات کیں کہ جبریل بھی سنیں تو پکار اٹھیں کہ یہ اس قرآن کی تفسیر تو نہیں جو میں لے کر آیا تھا۔ میں امینہ وددو کو، اختلاف کے باوجود، اس فہرست میں نہیں رکھتا کہ وہ قرآن مجیدکی سنجیدہ طالب علم دکھائی دیتی ہیں۔

اس باب میں اگر کوئی اسلام کے اصل ماخذ کی طرف رجوع کر تا تو شاید یہ کشمکش برپا نہ ہوتی۔ وہ اسے بتاتا کہ مرد کا وجود اپنا ہے نہ عورت کا۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے عبد اور بندے ہیں۔ سر تا پا، اس کے احکام کے پابند؛ تاہم مرد کو اس کی انفرادی حیثیت میں اور عورت کو اس کی انفرادی حیثیت میں یہ آزادیٔ عمل دے دی گئی ہے۔ وہ چاہیں تو اللہ کے احکام کی پیروی کریں اور چاہیں تو انکار کر دیں۔ دونوں میں سے کوئی جرم کرے گا تو دونوں کو ایک جیسی سزا ملے گا۔ کوئی نیکی کرے گا تو دونوں کو ایک جیسا اجر ملے گا۔
مرد کو عورت پر کوئی اختیار ہے اور نہ عورت کو مرد پر۔ عورت اپنے جسم کی مالک ہے؛ تاہم دونوں جب کسی رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو اس کی نسبت سے ان کے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔ یہ رشتہ میاں بیوی کا ہو سکتا ہے اور ماں بیٹے کا بھی۔ جو رشتے دونوں کی مرضی سے وجود میں آتے ہیں، انہیں وہ اپنی مرضی سے ختم بھی سکتے ہیں۔

دنیا کے ہر عمرانی معاہدے میں یہی ہوتا ہے۔
یہ زرعی دور ہو یا صنعتی، یہ حل انسانی فطرت کے تمام مطالبات کو پورا کرتا ہے۔ یہ مرد عورت کے مابین کسی کشمکش کو جنم نہیں دیتا، انہیں ایک دوسرے کا رفیق اور مددگار بناتا ہے۔ وہ سماجی تال پیدا کرتا ہے جو زندگی کو ایک خوش آواز نغمہ بنا دیتی ہے۔
خواتین کے کردار کا تعین، ہمیشہ انسانی سماج کا بڑا مسئلہ رہا ہے۔ سماجی علوم کی دنیا میں خیالات کا ایک جنگل آباد ہے، جہاں راہ سجھائی نہیں دیتی۔ مذہبی متون کی تفسیر میں بھی یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے۔ بیسویں صدی میں جب خواتین کے حقوق کے لیے ایک منظم تحریک برپا ہوئی تو یہ ایک عالم گیر مسئلہ بن گیا۔