بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر حکمران کو آنے والے کل کے خوف میں زندہ رکھتی ہے۔ یوں وہ حکمران حال پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے بدلنے کا ارادہ ترک کر دیتا ہے۔ مستقبل کے سارے سہانے خواب اس کی تقریب حلف برداری کے سٹیج تلے دفن ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس ملک کی بوسیدہ عمارت کو رنگ و روغن کرکے، اس کی چھوٹی موٹی خرابیاں دور کرکے اسے عوام کے لیے قابل قبول بنا دوں تو میری بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ دنیا بھر میں بیوروکریسی ”مروجہ صورت حال” (Status Quo) پر کاربند رہنے کی قائل ہوتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اگر اس میں چھوٹا سا تبدیلی کا کنکر بھی پھینکا گیا تو اس سے اٹھنے والی لہریں جھیل کے سکوت کو توڑ دیں گی۔ اسی لیے ہر حکمران جو نئے خواب لے کر اقتدار میں آتا ہے ان کے مشوروں کے بعد وہ انہیں ناقابل عمل اور افسانوی سمجھ کر مصلحت کی چادر اوڑھ کر سو جاتا ہے۔ عمران خان کے ساتھ بھی اب تک ایسا ہی ہوا ہے اور یہ المیہ بہت بڑا ہے۔ کیوں کہ اگر عمران خان ” مروجہ صورت حال” کے سامنے ہتھیار ڈال کر اسی گھسی پٹی روش پر چل نکلا تو شاید اگلے کئی سال کوئی دوسرا خواب دیکھنے والا میدان سیاست میں کودنے کی جرات نہ کرسکے۔

پاکستان کو انگریز سے ورثے میں ملی ہوئی سول اور ملٹری بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ مل کر ایک ایسا گروپ تشکیل دیتے ہیں جنہیں آج کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ تینوں گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں سے ایک مسلمہ مروجہ سسٹم کی پیداوار ہیں اور اسی کے تحفظ کے علمبردار۔ اس مروجہ سسٹم میں اگر کوئی ذرا سی بھی تبدیلی لانے کی کوشش کرے تو انہیں لگتا ہے کہ یہ کانچ کا گھر دھڑام سے نیچے آ گرے گا اور پھر نیا گھر تعمیر کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1972ء میں بحیثیت صدر و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر وسیع اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے چھیڑنے کی کوشش کی۔ بیوروکریسی کی ہیت ترکیبی تبدیل کی، سول سروس کی اجارہ داری توڑنے کے لئے اسے گروپوں میں تقسیم کیا، آرمی کی بالادستی ختم کرنے کے لیے کمانڈر انچیف کا عہدہ ختم کر کے چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف بنایا، بڑے زمینداروں کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کیلئے پورے ملک کی بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے لیا، تقریبا ڈیڑھ صدی سے قائم خالصتاً عوامی فلاح کا جذبہ رکھنے والے تعلیمی اداروں کو سرکار کے قبضے میں لے لیا۔ دوائیوں کی کمپنیوں کی منافع خوری ختم کرنے کے لیے پیٹینٹ کو ختم کرکے جنیرک سسٹم نافذ کیا۔ لیکن جیسے ہی یہ ذوالفقار علی بھٹو، صدر و چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے فولادی خول سے باہر نکل کر جمہوری وزیر اعظم کے پیکر میں آیا تو بیوروکریسی نے اس شخص کی وہ درگت بنائی کہ 1977ء میں الیکشن کے لیے اس نے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے ٹکٹ ڈپٹی کمشنروں اور ایس پی حضرات کی سفارشوں پر دیئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ان تمام تبدیلیوں سے اتفاق تو نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر وہ بیوروکریسی کو سمجھ لیتا تو ان میں سے اکثر تبدیلیوں کے فوائد بھی حاصل ہو سکتے تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج ان میں سے ایک بھی تبدیلی ایسی نہیں جو بھٹو حکومت نے کی ہو اور اسے واپس نہ لوٹا دیا گیا ہو۔ اس سے بڑھ کر حیرت کی بات اور کیا ہوگی کہ بھٹو کی ان تمام اصلاحات کو واپس لوٹانے میں سب سے اہم کردار اسکی اپنی لاڈلی بیٹی بینظیر بھٹو اور اسکے جانثاروں پر مشتمل پاکستان پیپلزپارٹی نے ادا کیا۔ آج تمام صنعتیں واپس لوٹائی جا چکی ہیں، سول سروس پورے طمطراق سے واپس آ چکی ہے، بینک جن کے پیسوں پر حکومت نے اللے تللے کیے تھے اب دوبارہ نجی شعبے میں چلے گئے ہیں، عالمی دوا ساز کمپنیاں پھر سے برانڈ نام کے ساتھ منافع خوریاں کر رہی ہیں، چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کے باوجود فوج کے دو سربراہان ضیاء الحق اور پرویز مشرف تختہ الٹ کر بیس سال حکمرانی بھی کر چکے ہیں اور زرعی اصلاحات کا کیا کہنا، ان کو ایسے قوانین کی بھول بھلیوں میں الجھایا گیا کہ اصل زمیندار اور مضبوط ہو کر سامنے آگیا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ بھٹو کی یہ تمام اصلاحات غیر فطری تھیں تو غلط ہے۔ ان میں سے بے شمار ایسی تھی جنہیں اگر بیوروکریسی نیک نیتی سے نافذ کرنے میں ممد و معاون ہوتی تو آج معاشرہ تبدیل ہو چکا ہوتا۔ لیکن بحیثیت مجموعی بیوروکریسی نے بھٹو کو اس کی اختراعی اور نئی سوچ کا مزہ چکھانے کا ارادہ کرلیا تھا، اسی اس لئے ان کے ہاتھ میں جو ادارہ بھی آیا انہوں نے اس کو اپنے بدترین انجام تک پہنچا کر چھوڑا۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو سرکاری تحفظ مل چکا تھا، ان میں لیکچراروں کے گریڈ دیگر سرکاری افسران کے برابر ہو چکے تھے۔ سکولوں کو سرکاری بجٹ میسر ہونے لگا تھا، لیکن صرف دس سال کے اندر اندر محکمہ تعلیم کی بیوروکریسی نے اس پورے نظام تعلیم کا وہ حشر کیا کہ ان کی جگہ متبادل کے طور پر پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھلنا شروع ہوگئے۔ 1973ء تک پشاور سے کراچی تک نجی تعلیمی شعبہ منافع خوری سے نابلد تھا۔ کسی نفع و نقصان کے بغیر یہ ادارے چلائے جاتے تھے۔ لیکن جب ان عظیم تعلیمی اداروں کو قومیا کر تباہ و برباد کیا گیا تو 80ء کی دہائی میں ایک منافع خور تعلیمی شعبہ پیدا ہوگیا جس نے تعلیم عام آدمی کی دسترس سے دور کر دی۔ یہی حال ان صنعتی اداروں کا ہوا۔ گھی کارپوریشن آف پاکستان سے لے کر ٹیکسٹائل ملوں تک، جب سب کے سب بیوروکریسی کے زیرانتظام آگئے تو وہاں اقرباپروری، سیاسی بھرتیوں، رشوت اور بددیانتی نے مل کر ایسی دھماچوکڑی مچا ئی کے ایک دن تمام ادارے واپس نیلام کر دیے گئے۔ بینکوں کو سرکاری تحویل میں لینا ایک اچھا اقدام تھا۔ اس طرح آپ ایک دن میں ہی سود کے نظام کا خاتمہ کرسکتے تھے۔ ان قومیائے گئے بینکوں میں سے کوئی بنک نقصان کا سودا نہیں تھا۔ لیکن اسے ”سٹیٹس کو” کی علمبردار بیوروکریسی نے نجی شعبے کو دے کرہی دم لیا۔ ان بینکوں نے عام آدمی کے سرمائے کے ساتھ جو کھلواڑ کیا اور آج تک کر رہے ہیں اسے نجی شعبے کے استحصال کی بدترین مثال کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ دوائیوں کی کمپنیوں نے جس طرح برانڈ کے نام پر منافع خوری کا ازسر نو آغاز کروایا اس سے حالات یہاں تک آ چکے ہیں کہ دوائی اب غریب آدمی کی دسترس سے بہت دور ہو چکی ہے۔ بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر حکمران کو آنے والے کل کے خوف میں زندہ رکھتی ہے۔ یوں وہ حکمران حال پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے بدلنے کا ارادہ ترک کر دیتا ہے۔ مستقبل کے سارے سہانے خواب اس کی تقریب حلف برداری کے سٹیج تلے دفن ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس ملک کی بوسیدہ عمارت کو رنگ و روغن کرکے، اس کی چھوٹی موٹی خرابیاں دور کرکے اسے عوام کے لیے قابل قبول بنا دوں تو میری بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ دنیا بھر میں بیوروکریسی ”مروجہ صورت حال” (Status Quo) پر کاربند رہنے کی قائل ہوتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اگر اس میں چھوٹا سا تبدیلی کا کنکر بھی پھینکا گیا تو اس سے اٹھنے والی لہریں جھیل کے سکوت کو توڑ دیں گی۔ اسی لیے ہر حکمران جو نئے خواب لے کر اقتدار میں آتا ہے ان کے مشوروں کے بعد وہ انہیں ناقابل عمل اور افسانوی سمجھ کر مصلحت کی چادر اوڑھ کر سو جاتا ہے۔ عمران خان کے ساتھ بھی اب تک ایسا ہی ہوا ہے اور یہ المیہ بہت بڑا ہے۔ کیوں کہ اگر عمران خان ” مروجہ صورت حال” کے سامنے ہتھیار ڈال کر اسی گھسی پٹی روش پر چل نکلا تو شاید اگلے کئی سال کوئی دوسرا خواب دیکھنے والا میدان سیاست میں کودنے کی جرات نہ کرسکے۔ پاکستان کو انگریز سے ورثے میں ملی ہوئی سول اور ملٹری بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ مل کر ایک ایسا گروپ تشکیل دیتے ہیں جنہیں آج کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ تینوں گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں سے ایک مسلمہ مروجہ سسٹم کی پیداوار ہیں اور اسی کے تحفظ کے علمبردار۔ اس مروجہ سسٹم میں اگر کوئی ذرا سی بھی تبدیلی لانے کی کوشش کرے تو انہیں لگتا ہے کہ یہ کانچ کا گھر دھڑام سے نیچے آ گرے گا اور پھر نیا گھر تعمیر کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1972ء میں بحیثیت صدر و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر وسیع اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے چھیڑنے کی کوشش کی۔ بیوروکریسی کی ہیت ترکیبی تبدیل کی، سول سروس کی اجارہ داری توڑنے کے لئے اسے گروپوں میں تقسیم کیا، آرمی کی بالادستی ختم کرنے کے لیے کمانڈر انچیف کا عہدہ ختم کر کے چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف بنایا، بڑے زمینداروں کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کیلئے پورے ملک کی بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے لیا، تقریبا ڈیڑھ صدی سے قائم خالصتاً عوامی فلاح کا جذبہ رکھنے والے تعلیمی اداروں کو سرکار کے قبضے میں لے لیا۔ دوائیوں کی کمپنیوں کی منافع خوری ختم کرنے کے لیے پیٹینٹ کو ختم کرکے جنیرک سسٹم نافذ کیا۔ لیکن جیسے ہی یہ ذوالفقار علی بھٹو، صدر و چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے فولادی خول سے باہر نکل کر جمہوری وزیر اعظم کے پیکر میں آیا تو بیوروکریسی نے اس شخص کی وہ درگت بنائی کہ 1977ء میں الیکشن کے لیے اس نے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے ٹکٹ ڈپٹی کمشنروں اور ایس پی حضرات کی سفارشوں پر دیئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ان تمام تبدیلیوں سے اتفاق تو نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر وہ بیوروکریسی کو سمجھ لیتا تو ان میں سے اکثر تبدیلیوں کے فوائد بھی حاصل ہو سکتے تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج ان میں سے ایک بھی تبدیلی ایسی نہیں جو بھٹو حکومت نے کی ہو اور اسے واپس نہ لوٹا دیا گیا ہو۔ اس سے بڑھ کر حیرت کی بات اور کیا ہوگی کہ بھٹو کی ان تمام اصلاحات کو واپس لوٹانے میں سب سے اہم کردار اسکی اپنی لاڈلی بیٹی بینظیر بھٹو اور اسکے جانثاروں پر مشتمل پاکستان پیپلزپارٹی نے ادا کیا۔ آج تمام صنعتیں واپس لوٹائی جا چکی ہیں، سول سروس پورے طمطراق سے واپس آ چکی ہے، بینک جن کے پیسوں پر حکومت نے اللے تللے کیے تھے اب دوبارہ نجی شعبے میں چلے گئے ہیں، عالمی دوا ساز کمپنیاں پھر سے برانڈ نام کے ساتھ منافع خوریاں کر رہی ہیں، چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کے باوجود فوج کے دو سربراہان ضیاء الحق اور پرویز مشرف تختہ الٹ کر بیس سال حکمرانی بھی کر چکے ہیں اور زرعی اصلاحات کا کیا کہنا، ان کو ایسے قوانین کی بھول بھلیوں میں الجھایا گیا کہ اصل زمیندار اور مضبوط ہو کر سامنے آگیا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ بھٹو کی یہ تمام اصلاحات غیر فطری تھیں تو غلط ہے۔ ان میں سے بے شمار ایسی تھی جنہیں اگر بیوروکریسی نیک نیتی سے نافذ کرنے میں ممد و معاون ہوتی تو آج معاشرہ تبدیل ہو چکا ہوتا۔ لیکن بحیثیت مجموعی بیوروکریسی نے بھٹو کو اس کی اختراعی اور نئی سوچ کا مزہ چکھانے کا ارادہ کرلیا تھا، اسی اس لئے ان کے ہاتھ میں جو ادارہ بھی آیا انہوں نے اس کو اپنے بدترین انجام تک پہنچا کر چھوڑا۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو سرکاری تحفظ مل چکا تھا، ان میں لیکچراروں کے گریڈ دیگر سرکاری افسران کے برابر ہو چکے تھے۔ سکولوں کو سرکاری بجٹ میسر ہونے لگا تھا، لیکن صرف دس سال کے اندر اندر محکمہ تعلیم کی بیوروکریسی نے اس پورے نظام تعلیم کا وہ حشر کیا کہ ان کی جگہ متبادل کے طور پر پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھلنا شروع ہوگئے۔ 1973ء تک پشاور سے کراچی تک نجی تعلیمی شعبہ منافع خوری سے نابلد تھا۔ کسی نفع و نقصان کے بغیر یہ ادارے چلائے جاتے تھے۔ لیکن جب ان عظیم تعلیمی اداروں کو قومیا کر تباہ و برباد کیا گیا تو 80ء کی دہائی میں ایک منافع خور تعلیمی شعبہ پیدا ہوگیا جس نے تعلیم عام آدمی کی دسترس سے دور کر دی۔ یہی حال ان صنعتی اداروں کا ہوا۔ گھی کارپوریشن آف پاکستان سے لے کر ٹیکسٹائل ملوں تک، جب سب کے سب بیوروکریسی کے زیرانتظام آگئے تو وہاں اقرباپروری، سیاسی بھرتیوں، رشوت اور بددیانتی نے مل کر ایسی دھماچوکڑی مچا ئی کے ایک دن تمام ادارے واپس نیلام کر دیے گئے۔ بینکوں کو سرکاری تحویل میں لینا ایک اچھا اقدام تھا۔ اس طرح آپ ایک دن میں ہی سود کے نظام کا خاتمہ کرسکتے تھے۔ ان قومیائے گئے بینکوں میں سے کوئی بنک نقصان کا سودا نہیں تھا۔ لیکن اسے ”سٹیٹس کو” کی علمبردار بیوروکریسی نے نجی شعبے کو دے کرہی دم لیا۔ ان بینکوں نے عام آدمی کے سرمائے کے ساتھ جو کھلواڑ کیا اور آج تک کر رہے ہیں اسے نجی شعبے کے استحصال کی بدترین مثال کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ دوائیوں کی کمپنیوں نے جس طرح برانڈ کے نام پر منافع خوری کا ازسر نو آغاز کروایا اس سے حالات یہاں تک آ چکے ہیں کہ دوائی اب غریب آدمی کی دسترس سے بہت دور ہو چکی ہے۔

بھٹو کی انقلابی اصلاحات کامیاب ہوسکتی تھیں، لیکن اس کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی اس نے بیوروکریسی کے مضبوط ڈھانچے کو انہی کے اپنے ہاتھوں کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اپنا گھر اوراپنی پناہ گاہ تو کوئی چڑیا بھی اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کرتی۔ بھٹو کی زمیندارانہ یعنی فیوڈل سوچ نے جو رویہ اختیار کیا، اس نے بیوروکریسی کو اس کے مد مقابل لا کر کھڑا کر دیا۔ اس اکھاڑے میں جب بیوروکریسی کسی کے سامنے مقابلے کے لئے اترتی ہے تو جیت اسی کا مقدر ہوتی ہے۔ سارے داؤپیچ اس کے پاس ہوتے ہیں۔ تمام اصول و قوائد وہ خود ہی طے کرتی ہے۔ اس کا وار واضح نہیں ہوتا بلکہ وہ خاموشی سے اپنے مدمقابل کے بنائے گئے نئے سسٹم کی جڑوں میں خود دیمک کی طرح گھس کراسے کھوکھلا کر دیتی ہے اور ایک دن وہ دھڑام سے گر جاتا ہے۔ بھٹو کا یہ نیا نظام اسی طرح دیمک زدہ ہو کر مر گیا۔ بھٹو کے بعد ایک دفعہ پھر اسی سٹیبلشمنٹ میں سے ایک حصے کو ملٹری بیوروکریسی نے اس ”سٹیٹس کو” کو پرویز مشرف کی قیادت میں معمولی سا بدلنے کی کوشش کی مگر آج جنرل تنویر نقوی کہیں نظر نہیں آتا ہے اور نہ ہی اس کا این آر بی اور ناظمین کا نظام حکومت۔ سب ناکامی کی ذلت میں ڈوب چکے ہیں۔ عمران خان ان دو تجربوں کے بعد بیس سال سے تبدیلی کے نعرے لگاتا اس میدان میں آیاہے، اکھاڑے میں کودا ہے لیکن بیوروکریسی کی ایک ہی چال میں چاروں شانے چت ہو چکا ہے۔

گذشتہ بیس سالوں میں عمران خان کی گفتگو اس کے خوابوں کی آئینہ دار تھی اور اس کے خواب بھی ایسے تھے جو عام آدمی کے دل میں دھڑکتے مستقبل کے امین تھے۔ وہ تبدیلی کی گفتگو کرتا، اور اس ملک پر قابض طبقات کے خلاف بولتا، تو یوں لگتا جیسے اسے اس قوم کے دکھوں اور مصیبتوں کا مکمل ادراک ہے۔ عام آدمی جو سپریم کورٹ، نیب یا ایف آئی اے نہیں ہوتا جسے کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر تو ہر روز یہ سب کچھ بیت رہا ہوتا ہے۔ کوئی ٹریفک کے سپاہی کو رشوت دیتا ہے تو کسی سے پٹواری عوضانہ طلب کرتا ہے۔ ڈومیسائل بنوانے سے لے کر گاڑی کی نمبر پلیٹ حاصل کرنے تک، کسٹم حکام کی مٹھی گرم کرنے سے لے کر تھانے میں قائم جعلی مقدمے سے چھٹکارا حاصل کرنے تک اسے روز رشوت دے کر کام نکالنا پڑتا ہے۔ اس کا کوئی مقدمہ کسی عدالت میں چل رہا ہو تو وکیل کا منشی عدالت کا اہل مد، ریڈر یہاں تک آواز دے کر بلانے والا ہرکارہ بھی اس کی جیب خالی کردیتا ہے۔ یہ عام آدمی ان تمام خرابیوں کا براہ راست چشم دید گواہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ فلاں پٹواری جس نے اس سے رشوت لی وہ کس ممبر اسمبلی کا بندہ ہے اور وہ کن کن وزیروں کی ناز برداریاں اٹھاتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ٹریفک انسپکٹر اپنی رشوت کی رقم سے کتنا حصہ خود رکھتا ہے اور کتنا اوپر پہنچاتا ہے۔ عام آدمی سے زیادہ تھانے کا کس کو علم ہوگا۔ اس کی گلی میں پولیس کی آشیر باد سے چلنے والے جواء خانے، شراب کے اڈے یا عورتوں کا دھندہ کرنے والے اسی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ وہ اسے تمام کہانیاں سناتے ہیں، کس کو کتنا ماہانہ دیا جاتا ہے، کس کے گھر بوتل اور کس کے ہاں لڑکی مفت میں پہنچائی جاتی ہے۔ وہ صرف کہانیاں سنتا ہی نہیں آنکھوں سے مشاہدہ بھی کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جیسے ہی الیکشن کا موسم آئے گا یہ سب بدمعاش پیشہ لوگ ہر پارٹی کے لئے ووٹ اکٹھا کر رہے ہوں گے۔ یہ ووٹ مانگتے نہیں، اکٹھا کرتے ہیں۔ خوف سے، دھونس اور لالچ سے۔ اس عام آدمی کو بخوبی علم ہے کہ کون سا تھانے دار کس سیاسی لیڈر کا ”اپنا بندہ” ہے اور وہ اگر اپوزیشن میں بھی ہو تو تعلقات کی بنیاد پر اس تھانیدار کا تحفظ ضرور کرتا رہتا ہے۔ یہ عام آدمی صرف غصہ کرسکتا ہے، جل، کڑھ سکتا ہے، طعنے دے سکتا ہے۔ لیکن اسکے بس میں ایک بات ہے کہ وہ اس پورے سسٹم اور اس کی علامتوں سے شدید نفرت کر سکتا ہے۔

عمران خان جب تک اقتدار سے دور تھا وہ یہی سب کچھ کرتا تھا۔ پورے سسٹم سے شدید نفرت۔ وہ دوسرے رہنماؤں سے اسی لیے مختلف نظر آتا تھا۔ لیکن لوگوں کو اندازہ تک نہ تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ویسا ہی بے بس ہو جائے گا جیسے ایک عام آدمی ایس ایچ او اور پٹواری، ٹریفک انسپکٹر یا کسٹم کے اہلکار کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے، کچھ نہیں کر سکتا، بس غصے سے آنکھیں لال کرکے رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ عام آدمی کے دل میں اس بات کا خوف بٹھا دیا گیا ہے کہ وہ اس مافیا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس مافیا کا کمال دیکھیں کہ عدالت میں بیٹھے نسبتا ایماندار جج کو بھی سب کچھ معلوم ہوتا ہے، نسبتاً کم بددیانت بیوروکریٹ اور پولیس آفیسر کو بھی تمام حالات کا علم ہوتا ہے مگر اس پورے نظام نے ان کے ہاتھ پاؤں ایسے باندھ رکھے ہیں کہ وہ صاحب حیثیت ہو کر بھی عام آدمی کی طرح خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ یہ ہے بیوروکریسی کی اصل فتح۔ ہر تبدیلی کی خواہش رکھنے والے کو خوف میں زندہ رکھو۔

اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیٹس کو کا یہ محل سب سے پہلے اپنی علامتوں (Symbols) سے مسمار کیا جاتا ہے۔ علامتیں ڈھا دی جائیں تو لوگوں کے دلوں سے ان کا خوف کم ہو جاتا ہے۔ اس انقلاب کی پہلی سیڑھی وہی تھی جس کے بارے میں عمران خان اکثر گفتگو کیا کرتا تھا کہ وہ گورنر ہائوس اور وزیراعظم ہاؤس ختم کر دے گا۔ لیکن اسے اپنے اقتدار میں آتے ہی پہلی شکست بھی اپنے اسی خواب کے چکنا چور ہونے سے ہوئی۔ مجھے معلوم ہے کہ ان بیوروکریٹس نے عمران خان کو کیسے کیسے خوف دلائے ہوں گے۔ اسے کہا ہوگا، یہ عمارتیں نہیں ہیں، یہ تو ریاست کی طاقت کی علامت ہیں، انہیں ختم کیا تو عام آدمی کے دل سے ریاست کا رعب ہی جاتا رہے گا۔ بیرون ملک سے سربراہان یہاں آتے ہیں، وہ متاثر ہوتے ہیں، یہاں قیام کرتے ہیں۔ اتنا بڑا عملہ ہے، تو کہاں کھپائیں گے، پہلے ہی بے روزگاری بہت ہے۔ اگر ایک دفعہ یہ عمارتیں کسی اور ادارے کو دیدیں گئیں، یونیورسٹیاں بن گئیں تو پھرانہیں واپس لینا کتنا مشکل ہوجائے گا۔ ان تمام دلیلوں سے بڑھ کر گذشتہ پندرہ سالوں سے سیکورٹی کا خوف سب سے بڑا ہتھیار ہے جس سے حکمرانوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ عمران خان صاحب کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ دنیا کے کسی بھی مہذب پارلیمانی جمہوری ملک میں وزیراعظم، وزرائے اعلی وغیرہ کے الگ سیکرٹریٹ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے صرف مختصر دفاتر ہوتے ہیں۔ صوبائی سیکریٹریٹ دراصل وزیراعلی کا ہی سیکریٹریٹ ہوتا ہے اور اس کا چیف سیکرٹری کوئی اپنا الگ وجود نہیں رکھتا۔ پنجاب میں میاں نواز شریف کی شاہانہ سوچ اور اس کے منظور نظر بیوروکریٹس اپنے ایک شاہانہ سیکریٹریٹ کی بنیاد رکھی اور پھر یہ فیشن چل نکلا۔ اب چاروں وزرائے اعلیٰ کے سیکریٹریٹوں میں کئی سو ملازمین صرف احکامات آگے بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے۔ انہیں صرف محکموں کو خوفزدہ اور بلیک میل کرنے کے لئے رکھا گیا ہے۔ یہی حال وزیراعظم سیکریٹریٹ کا بھی ہے۔ دنیا میں وزیراعظم کی کابینہ ہوتی ہے، اپنا سیکریٹیریٹ نہیں ہوتا۔ لیکن یار لوگوں نے پاکستان کی وزارت عظمی کے سیکرٹیریٹ کو اس قدر وسیع کر دیا ہے کہ اس وقت کسی اور وزارت کا سٹاف بھی اتنا نہیں ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یہاں تک کہ بھارت جیسی پارلیمانی جمہوریتوں میں بھی وزیراعظم سیکرٹیریٹ برائے نام ہوتا ہے۔ اس لیے کہ تمام فیڈرل سیکرٹری دراصل وزیراعظم کے ہی سیکرٹری ہوتے ہیں، ان پر ایک بالا تر سیکرٹریٹ کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن شروع میں وزیراعظم کا سیکرٹری اور اب خود کو بالاتر کرنے کے لئے پرسنل سیکرٹری کے لقب والا بیوروکریٹ دراصل وزیر اعظم کو اسی خوف میں مبتلا کرتا ہے کہ یہ تمام محکمے دراصل آپ سے غلط بیانی کر سکتے ہیں، دھوکہ دے سکتے ہیں، اس لیے ہمارے پاس اپنا اسٹاف موجود ہونا چاہیے جو ان پر نظر رکھے، کاونٹر چیک کرے۔ ایسے لاتعداد بہانے ہیں جو وزیراعظم کے اسٹاف کوکبھی کم نہیں ہونے دیتے اور یوں مغلیہ طرز کی تعمیر کی عالی شان عمارت آباد رہتی ہے، قائم و دائم رہتی ہے۔

وزیراعظم سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس، وزیراعلی سیکرٹریٹ اور ان کے گھر، بیوروکریٹ کے جی او آر، عدلیہ کے ججوں کی پرشکوہ رہائش گاہیں، کورکمانڈر ہاؤس سے لے کر کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر ز کی ایکڑوں پر پھیلی سلطنتیں، دراصل وہ علامتیں ہیں جن کا خاتمہ عوام کے دلوں سے خوف کو ختم کرنے کی پہلی منزل ہوتا ہے۔ عام آدمی روزانہ جس مارپیٹ سے گزرتا ہے، رشوت دیتا ہے، ہسپتالوں سے پیاروں کی لاش اٹھاتا ہے اس کی نفرت کی علامت یہ اونچی اونچی دیواریں ہوتی ہیں۔ گورنر جس کے پاس ہفتے میں چند فائلیں آتی ہیں، وزیراعلی جس کا تمام کام چیف سیکرٹری اور دیگر سیکرٹری کرتے ہوں، کیا ان دونوں کو اتنی بڑی وسیع و عریض عمارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ جس دور میں اس ملک میں امن عامہ کی حالت بہترین اور صنعتی ترقی عروج پر تھی اس دور میں یہ تمام دفاتر انتہائی مختصراور سادہ تھے۔ اب عالم یہ ہے کہ اگر کہیں نیا سب ڈویژن بن جائے تو اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر کے ساتھ ایک ایئرکنڈیشنڈ میٹنگ ہال ضرور بنواتا ہے جس نے سال میں صرف چند بار اس وقت کھلنا ہوتا ہے جب محرم، ربیع الاول، عید کا چاند یا کوئی اور غیر ضروری قسم کی میٹنگ کرنامقصود ہو۔ (جاری ہے)

گورنر ہاؤس، وزرائے اعلیٰ ہاوس، وزیراعظم ہاؤس اور ان سے ملحقہ بڑے بڑے سیکریٹریٹ مختصر کرنے جس قدر آسان تھے، لیکن عمران خان کے لیے ان پر عملدرآمدایک پہاڑ بنا دیا گیا۔ یہ ایسا اقدام تھا جس نے اس کی ساکھ پر پہلی کاری ضرب لگائی۔ یہ تمام سیکرٹریٹ اگر محدود کردیے جاتے تو آج پاکستان کی بیوروکریسی کی کارکردگی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ ہر محکمے کے سیکرٹری کو یقین ہوتا کہ اس پرمکمل اعتماد کیا جا رہا ہے اور اس سے ہی کارکردگی کے بارے میں سوال بھی کیا جائے گا۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کوایک بالاتر (Supra) ادارہ بنانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہاں کوئی ایک فرد ایک طاقتور بیوروکریٹ کی صورت ڈپٹی پرائم منسٹر یا ڈپٹی چیف منسٹر کی صورت پیدا ہو جاتا ہے۔ انور زاہد سے فواد حسن فواد، امتیازشیخ اور توقیر شاہ، سلیمان فاروقی اور سعید مہدی جیسی شخصیات کا طاقتور ہونا دراصل انہی بڑے سیکرٹریٹ کی مرہون منت ہے۔ تمام وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ ان لوگوں کے ہاتھوں میں بیوروکریسی کی لگامیں پکڑا دیتے ہیں اور یہ کایاں بیوروکریٹ وہ تمام اختیارات استعمال کرتے ہیں جو وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کا ہوتا ہے۔ انکا خوف پوری بیوروکریسی پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ان لیڈروں کے کان، زبان اور ہاتھ بن جاتے ہیں۔ بڑے بڑے ممبران اسمبلی ان کے دروازوں کی چوکھٹ پر کھڑے ہونے کو بھی اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ یہ جس بیوروکریٹ کی حسن کارکردگی کی تعریف کر دیں وہ وزیراعظم کا منظور نظر ہوجاتا ہے اور جس کے کام میں نقص نکالیں وہ نظروں سے گرنے لگتا ہے۔

گذشتہ چالیس سال سے پاکستان کی ساری سیاست اور انتظامی مشینری دراصل بیوروکریسی کے انہی ”افراد واحد” کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا وجود ہی ان بالاتر (Supra) وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے بڑے بڑے سیکرٹریٹ کے دم قدم سے قائم ہوتا ہے۔ ان ہی کی وجہ سے بیوروکریسی میں گروپ بندی بنتی ہے، کیونکہ ان کی پسند و ناپسند کے معیارات پر فیصلے ہوتے ہیں۔ گذشتہ چالیس برسوں سے پاکستانی بیوروکریسی کے یہ ”گھنٹہ گھر” ہی ہیں جو سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداریوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور انہی وفاداریوں کی بناء پریہ تمام بیوروکریسی کو نچاتے رہتے ہیں۔ ایک واضح اور پراعتماد بیوروکریسی اسی وقت قائم ہوسکتی تھی اگر یہ بڑے بڑے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سیکرٹیریٹ ختم کرکے انتظامیہ کو اس کی اصل پر واپس لے جایا جاتا جہاں ہر سیکرٹری براہ راست وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کو جواب دہ ہوتا۔ لیکن ان ”بونوں” نے اپنے بڑے سیکرٹریٹ قائم کرکے ان میں مزید چند بونے رکھے ہوئے ہیں جو محکمہ کی ہر فائل پر ناقد بن بیٹھتے ہیں، کیڑے نکالتے ہیں یا تعریفیں کرتے ہیں۔ محکمے کا سربراہ اپنے ہی ایک جونئیر کے ہاتھوں عزت پاتا ہے یا رسوا ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ اس جونیئر کو اس بڑے سیکرٹیریٹ میں وہ اختیار حاصل ہوتا ہے جو دراصل وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کا اختیارہوتا ہے۔ یہی بنیادی وجہ تھی کہ عمران خان کو گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس ختم کرنے دیا گیا اور نہ وہ وزیر اعظم سکریٹریٹ کو مختصر کر سکا۔

عمران خان کا اگلا خواب یکساں نظام تعلیم تھا۔ اسکی ایچی سن کالج میں گھومتے ہوئے وہ ویڈیو بہت عام ہوئی تھی جس میں وہ ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ انگریزی نظام تعلیم کو قرار دیتا تھا۔ لیکن اس بیچارے کو اس بات کا اندازہ شاید نہیں تھا کہ وہ اس یکساں نظام تعلیم کا خواب اس وقت تک پورا نہیں کر سکتا جب تک وہ بیک جنبش قلم یہ فیصلہ نہ کرے کہ آج سے پاکستان کے دفاتر میں اسی زبان میں سرکاری کام ہوں گے جو زبان دفتروں میں بولی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوگی کہ پٹواری، تھانے دار اور کسٹم آفیسر سے لے کر وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے دفاتر میں عمومی طور پر اردو زبان میں گفتگو ہوتی ہے۔ گوادر سے لے کر گلگت تک چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی میٹنگ کی کارروائی اردو میں ہوتی ہے لیکن شرم کا مقام یہ ہے کہ یہ تمام محکمے اپنی ساری کارروائی انگریزی میں درج کرتے ہیں۔ بینکوں کے ننانوے فیصد گاہک اردو بولتے ہیں، چیک انگریزی میں لکھتے ہیں۔ عدالتوں میں ساری بحث اور گواہیاں اردو میں ہوتی ہیں فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں۔ سزا کا حکم، رہائی کا پروانہ سب انگریزی میں، لیکن ہتھکڑی لگانے اور کھولنے والا گفتگو اردو میں کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ساری منافقت ان چند ہزار افراد کی وجہ سے ہے جو پاکستانی بیوروکریسی پر چھائے ہوئے ہیں۔ جن کے والدین نے انہیں ایچیسن سے ہاورڈ اور آکسفورڈ میں تعلیم دلوائی ہوتی ہے۔ یہ لوگ عمران خان جیسے شخص کو خوفزدہ کرتے ہیں کہ اگر ہم نے ایک دفعہ اردو میڈیم افراد کو اپنے دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی تو نالائقی راج کرنے لگے گی۔ پہلے ہی یہاں نا اہلی پر قابو نہیں پایا جا رہا، اس فیصلے کے بعد تو اہل شخص ملنا ہی مشکل ہوجائے گا۔ ان تمام لوگوں نے اہلیت کا معیار یہ بنا رکھا ہے کہ کون اچھی سمری تحریر کرتا ہے اور کون اچھا نوٹ پورشن لکھ سکتا ہے۔

اس سارے انگریزی دفتری نظام کا کمال یہ ہے کہ سیکشن آفیسر سے فائل چلتی ہوئی سیکرٹری تک پہنچتی ہے اور پھر وہ اس پر لکھتا ہے ”Pl discuss” اور کسی اہلکار کو بلا کر کہتا ہے کہ یار مجھے اردو میں سمجھاؤ، کیا کہنا چاہتے ہو۔ اردو میں دفتری کاروبار کا فیصلہ صرف ایک دن میں نافذ ہوسکتا تھا۔ سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود تھا۔ پاکستان کا ہر ملازم اردو لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ وہ یہ سب آسانی سے کر سکتا تھا۔ سول سروس کے امتحانات میں لازمی مضامین اردو میں لینے کا فیصلہ بھی ایک گھنٹے میں کیا جاسکتا تھا۔ اگر وہ یہ فیصلہ کر لیتا تو ملک بھر میں تمام گائیڈز وغیرہ ایک ہفتے میں اردو میں مارکیٹ میں آجاتیں۔ تمام اکیڈمیاں اپنا قبلہ بدل لیتیں اور والدین بچوں کے لئے اردو ٹیوٹر ڈھونڈنے میں لگ جاتے۔ لیکن بیوروکریسی نے انگلش کاونٹی کھیلنے والے اور مغرب میں پروان چڑھنے والے عمران خان کو ایسا شیشے میں اتارا کہ وہ گھبرا گیا اور فیصلہ نہ کرسکا، لیکن وہ یاد رکھے کہ اگر اس نے یہ فیصلہ نہ کیا تو پھروہ بھول جائے کہ اس ملک میں کبھی یکساں نظام تعلیم رائج کر سکے گا۔ جو بیوروکریسی خود طبقاتی نظام کی پیداوار ہو وہ یکساں نظام تعلیم کیسے رائج ہونے دے گی۔

یہ دونوں فیصلے عمران خان کی ساکھ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار تو ادا کرتے ہی مگر اسکے ساتھ ساتھ یہ بیوروکریسی کے سامنے اس کے قد کو بہت بلند کر دیتے۔ بیوروکریٹ جان لیتے کہ یہ شخص ان کی لچھے دار گفتگو میں نہیں آئے گا۔ لیکن ان دونوں فیصلوں پر پسپائی کے بعد انہوں نے اب عمران خان کو اب اس پرندے کی طرح اپنے دام میں گرفتار کر لیا ہے جسے وہ جس طرح چاہیں اور جیسی چاہیں پرواز کروائیں گے۔ بالکل ویسے ہی جیسے عرب عقاب کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کی ساری پھرتی، تیزی اور آزاد زندگی کو اپنے اشاروں پر لے آتے ہیں۔ ان دونوں بنیادی فیصلوں پر یو ٹرن کے بعد سے عمران خان نے جتنے بھی فیصلے کیے وہ سب کے سب عالمی مالیاتی نظام اور عالمی سیاسی بالادست قوتوں کے عین مطابق کیے کیونکہ اب وہ ان عالی دماغ مغرب زدہ بیوروکریسی کے شکنجے میں تھا۔ لیکن بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ عمران خان انکی باتوں میں آکر یہ سوچتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس کے سب فیصلے دراصل پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ حالانکہ یہ تمام فیصلے دراصل اس عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے اور مفاد میں ہوتے ہیں اور جب انکا مفاد پورا ہو رہا ہوتا ہے تو وہ تھوڑا بہت فائدہ آپ کو بھی پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان کا اور ہمارا معاملہ اب ایک ساہوکار جیسا ہے۔

اگرساہوکار کے کسی مقروض کا کاروبار تباہ ہوجائے تو پھر ساہوکار کو اپنی رقم ڈوبنے کی فکر لگ جاتی ہے۔ وہ فورا اس مقروض کی دکان میں اپنی جیب سے نیا مال ڈالواتا ہے، تاکہ یہ شخص کمائے اور میرا قرضہ واپس کرتا رہے۔ البتہ تھوڑا بہت اپنے بیوی بچوں کے لئے ضرور لے جائے۔ یہ ان ذمہ داریوں سے بے فکر ہو گا تو میرا قرضہ چکاتا رہے گا۔ (ختم شد)