آئے روز دل کے امراض کا شکار ہونے اور کم عمری میں اموات کی خبریں مل رہی ہوتی ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ جب کمر 36 انچ ہوجائے تو فکر اور احتیاط شروع کردو۔

امراض قلب سے بچنے کےلیے تین بہت آسان نسخے ہیں۔

میرے ایک شناسا کو دفتر کے کام کاج کےلیے چوتھی منزل چڑھنی اترنی پڑتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چوتھی منزل تک پہنچنے کے بعد وہ ہانپ جاتے ہیں اور سانس پھول جاتی ہے لیکن جب وہ روزہ رکھتے ہیں تو بہت ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے اور سانس بھی نہیں پھولتی۔

ہر مہینے 3 روزے رکھنا معمول بنالیں۔ ہم جو غذائیں کھاتے ہیں ان میں موجود چکنائی ہماری رگوں اور شریانوں میں جم جاتی ہے، جو دل تک خون کی روانی میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جسے بلاکیج کہتے ہیں۔ یہ رکاوٹ امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور یہاں تک کہ فالج کا بھی باعث بنتی ہے۔

ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ روزہ رکھنے سے یہ چکنائی ختم ہوجاتی ہے اور انسان کو دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ جب کوئی شخص روزہ رکھتا ہے تو اس کا معدہ جسم میں موجود فاضل چکنائی کو گھلا کر استعمال کرنا شروع کردیتا ہے جس میں خون کی رگوں میں موجود چکنائی بھی شامل ہے۔ اس طرح قدرتی طور پر ہماری رگوں میں موجود چکنائی بغیر علاج کے ختم ہونے لگتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جتنی عبادات رکھی ہیں، جن کی ادائیگی بعض لوگ مشکل سمجھتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ عبادات خود ان کےلیے کتنی فائدہ مند اور صحت بخش ہوتی ہیں۔ کسی موبائل کو ری سیٹ کرنے سے جس طرح اس میں ہلکا پن اور تیزی آجاتی ہے، اسی طرح سال میں ایک ماہ رمضان کے روزے رکھنے سے جگر سمیت جسم کا پورا نظام ری فریش اور نئے جیسا ہوجاتا ہے۔ جس سے بیماریوں کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان عبادات کی ادائیگی میں نیت، ثواب اور رضائے الٰہی کے حصول کی ہی رکھنی چاہیے۔ اس سے ثواب بھی ملے گا اور صحت بھی ٹھیک رہے گی۔

موجودہ دور میں ہمارا طرز زندگی بہت نامناسب اور غذائیں غیر محفوظ ہیں۔ اس لیے بیماریوں سے محفوظ رہنے کےلیے صرف ایک ماہ کے ہی نہیں بلکہ ہر ماہ تین روزے رکھنا سودمند ہوگا۔ ہر ماہ روزے رکھنا آپؐ کا بھی معمول تھا۔ جامع ترمذی میں صحیح احادیث ہیں کہ آپؐ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔

آج جدید تحقیق بھی روزے کی افادیت ثابت کررہی ہے۔ امریکی ماہرین نے تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ دل کی کسی بیماری میں مبتلا مریض اگر وقفے وقفے سے ’فاقہ‘ کرنے کی عادت ڈال لیں تو ان کے دل کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور ان میں حرکتِ قلب بند ہونے کے امکانات بھی خاصے کم ہوجاتے ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں پیش کی گئی اس تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص پوری زندگی میں ہر مہینے صرف ایک یا دو مرتبہ فاقہ کرنے کا معمول بناتا ہے، تب بھی اس کے دل کی صحت کو بہت فائدہ پہنچتا ہے اور دورے کا امکان نہایت کم کردیتا ہے۔

ایک اور تحقیق جریدے ’’سیل میٹابولزم‘‘میں شائع ہوئی ہے، جس میں آسٹریا کے طبی ماہرین نے بتایا کہ اگر آپ اچھی صحت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ایک دن چھوڑ کر اگلے دن مکمل فاقہ کیجیے۔

اسی طرح ورلڈ ہارٹ ڈے پر امراض قلب کے کئی پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دل کے امراض انسانی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی خوراک، عادات اور طرز زندگی غیر صحت مند ہوچکے ہیں۔

بیماریوں سے محفوظ رہنے کےلیے دوسری چیز جاگنگ ہے۔ ہمارے ایک بزرگ نے بتایا کہ جب جاگنگ کرتے کرتے پسینہ آجائے تو اس سے اصل فائدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ پسینہ ہمارے جسم کی چربی گھلنے کی علامت ہوتا ہے۔

جاگنگ سے ہماری ٹانگوں کی تو ورزش ہوجاتی ہے لیکن ہاتھوں کا کیا کیا جائے؟ جو لوگ دفاتر میں کام کرتے ہیں اور وزن اٹھانے کا کام نہیں کرتے اور انہیں جم جانے کا وقت بھی نہیں ملتا۔ انہیں چاہیے کہ 2 چھوٹے ڈمبل خرید کر گھر میں رکھ لیں اور جب بھی وقت ملے ہلکی پھلکی ورزش کرلیا کریں۔ ان شاءاللہ ان تجاویز پر عمل سے یقیناً بیماریوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

Express News