توند سے چھٹکارہ پانے کے لیے 9 آسان تدابیر

پیٹ کی چربی جمع ہو جانے کا نتیجہ “توند” کے نمودار ہونے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ یہ مرکزی اعضا مثلا جگر، پتّے اور گردے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ تاہم انگریزی ویب سائٹ WebMDکے مطابق بعض سادہ اور آسان طریقوں کو اپنا کر توند سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

توند سے نجات حاصل کرنے کا ایک مشہور طریقہ پتوں والی سبزیوں ، اناج ، میوہ جات اور پھلیوں کا بکثرت استعمال ہے۔

توند یا بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کے لیے مذکورہ ویب سائٹ نے درج ذیل ہدایات دی ہیں :

1 – وزن کم کرنا

جو شخص بھی جسم پر چربی جمع ہونے کے مسئلے سے دوچار ہو گا اس کا وزن یقینا زیادہ ہو گا جس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہیے۔ جب یہ انسان اضافی وزن کو کم کرتا ہے تو یہ چیز پورے جسم پر سے چربی کو ختم کرتی ہے جس میں پیٹ پر جمع ہو جانے والی چربی شامل ہے۔

2 – سیر شدہ چربی کو کم کرنا

توند سے نجات حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی غذا میں Saturated fat (سیر شدہ چربی) کی مقدار کو کم کرنا چاہیے۔ یہ چربی سرخ گوشت، ناریل کے تیل اور کھجور کے تیل کے علاوہ مکمل چکنائی والی دودھ دہی کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے۔ بہتر ہے کہ اس چربی کو پھلوں اور سبزیوں میں پائی جانے والی چکنائی یا مچھلی سے تبدیل کر دیا جائے۔

3 – ورزش کی باقاعدگی

بے قاعدگی کے ساتھ ایک انسان جتنے گھںٹے بھی پیدل چلے یا ورزش کرے ،،، اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ البتہ باقاعدگی کے ساتھ روزانہ چند منٹ کی ورزش توند سے چھٹکارہ پانے میں مؤثر اور مثبت نتائج سامنے لا سکتی ہے۔

4 – نیند کا مناسب دورانیہ

روزانہ 5 گھنٹے سے کم یا 8 گھنٹے سے زیادہ نیند لینے کا نتیجہ وزن کی زیادتی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پیٹ پر بھی اضافی چربی آ سکتی ہے۔ سونے کا مناسب ترین دورانیہ 6 سے 8 گھنٹے کے درمیان ہے۔

5 – سرجری سے دُور رہنا

کاسمیٹک سرجری توند کا کوئی حل پیش نہیں کرتی اس لیے کہ Liposuction کی سرجری پیٹ کی دیوار کے اندر نہیں پہنچ پاتی۔ لہذا حقیقی حل طویل عرصے کے لیے طرز زندگی تبدیل کرنے میں پوشیدہ ہے۔

6 – تناؤ اور ٹینشن سے دُور رہنا

تناؤ اور ٹینشن انسان کے مزید چکنائی اور میٹھی اشیا کھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے کارٹیزول ہارمون بھی متحرک ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹ پر چربی جمع ہو سکتی ہے۔ ذہنی یا اعصابی تناؤ کے سبب نیند کا اور ورزش کا دورانیہ معمول سے کم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ہلکی پھلکی سرگرمیوں کے ذریعے تناؤ اور پیٹ پر چربی جمع ہونے سے چھٹکارہ پایا جا سکتا ہے۔

7 – پانی کی مناسب مقدار

سوفٹ اور سوڈا ڈرنکس لیتے ہوئے حراروں کی اُس کثیر تعداد کو یاد کر لینا چاہیے جو ان کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ لہذا بہتر ہے کہ ان مشروبات کو سادے پانی سے بدل دیا جائے۔

8 – سگریٹ نوشی سے پرہیز

پیٹ پر جمع ہونے والی چربی یا توند سے نجات کے لیے سگریٹ نوشی چھوڑ دینا چاہیے۔

9 – کمر کی پیمائش اور وزن

انسان کو اپنے وزن اور توند کو بڑھنے سے بچانے کے لیے اپنی کمر کی پیمائش کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ لہذا خواتین میں کمر کی اوسط پیمائش 35 انچ اور مردوں میں 40 انچ سے زیادہ نہیں بڑھنا چاہیے۔ مزید برآں کمر کی مثالی پیمائش والوں کو مناسب وزن برقرار رکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ محض کمر کی پیمائش یہ جاننے کے لیے کافی نہیں ہے کہ پیٹ پر چربی جمع ہو رہی ہے یا نہیں۔