کچھ ” منظور پسکین ” کے مطالبات کے بارے میں ۔۔۔۔۔

مطالبات کا آغاز راؤ انوار کی گرفتاری سےہوا۔

مطالبہ پورا ہوا تو ردعمل آیا کہ ” اسکو اپنی جیب میں رکھو ہمارے مطالبات تو کچھ اور ہیں ”

پھر فرمایا کہ چیک پوسٹوں پر بدسلوکی بند کی جائے۔

وہاں شربت پلانا شروع ہوا تو ردعمل آیا کہ ” پنجابی فوج دب گئی ہے پشتونوں اب رکنا نہیں۔ اب تو ہم 70 سال کا حساب لینگے ”

اب تازہ ترین مطالبات یہ آرہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔ 32000 لوگ غائب ہیں وہ واپس کرو۔

2 ۔۔۔۔ فوج پشتونوں کی 1400 عورتیں اٹھا کر لے گئی ہے وہ واپس کرو۔

3 ۔۔۔ ساری بارودی سرنگیں صاف کرو۔

4 ۔۔۔ ٹوٹے ہوئے گھر دوبارہ بنوا کر دو یا ان کا معاؤضہ ادا کرو۔

اب کچھ سوالات ۔۔۔۔۔۔۔۔

32000 لوگوں کی فہرست کس کے پاس ہے؟
اس بات کا ثبوت کس کے پاس ہےکہ غائب ہونے والوں کو فوج نے ہی اٹھایا ہے؟
یہ کیسے پتہ چلے گا کہ غائب ہونے والے ٹی ٹی پی کے ان ہزاروں جنگجوؤں میں شامل نہیں ہیں جو آپریشن کے بعد افغانستان اور دبئی بھاگ گئے تھے؟
یا غائب ہونے والے وہ نہیں ہیں جن کو دہشت گردوں نے قتل کر کے ویرانوں میں پھینک دیا تھا اور ان کو لاشوں تک کا پتہ نہیں چل سکا؟؟

کچھ ایسے ہی سوالات اس الزام پر بھی پیدا ہوتے ہیں کہ فوج نے پشتونوں کی 1400 عورتیں اٹھائیں۔
اور وہ کیسے بے غیرت پشتون تھے جو آج تک اس پر خاموش رہے؟
خیال رہے کہ کسی خاندان کا دعوی کہ ” جی ہم گواہی دیتے ہیں کہ فوج نے ہمارا بندہ اٹھایا ہے بھی الزام ہی ہوتا ہے ثبوت نہیں ” اور جب امریکہ اور انڈیا فنڈنگ کرنے پر آمادہ ہوں تو ایسی گواہیاں دینے والے بہت سے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

دہشت گردوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں پاک فوج صاف کر رہی ہے۔
یہ عظیم الشان احسان فراموشی ہے کہ باردوی سرنگیں بچھانے والوں کے بجائے ان کو صاف کرنے والوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
نیز یہ سرنگیں کس نے گنی ہیں؟ اور کون یہ طے کرے گا کہ ہاں اب ساری بارودی سرنگیں صاف ہو چکی ہیں اور مطالبہ پورا ہوگیا؟؟؟
ظاہر ہے پاک فوج کے پاس غیب کا علم تو نہیں ہے وہ بھی ڈھونڈ رہی ہے جہاں جہاں مل رہی ہیں ان کی صفائی کا عمل جاری ہے۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ ” پسکین” تحریک کے شریر پشت پناہ دوبارہ کسی علاقے میں باردوی سرنگ لگا کر عام لوگوں کو مروا دیں اور دوبارہ اس مطالبے کی مدد سے پاک فوج کو نشانے پر لے لیں؟؟

تلخ سچائی یہی ہے کہ 90 فیصد دہشت گرد مقامی اور پشتون تھے جو ان گھروں میں چھپ کر پاک فوج سے جنگ کر رہے تھے۔ کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا اور کسی کا باپ۔ تب گھر ٹوٹنے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔
وہ ٹوٹے ہوئے گھر اس جنگ کی قیمت ہے جو پشتونوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے لڑی گئی۔
اس کے باؤجود اگر اس کے لیے کسی قسم کا معاؤضہ طلب کرنا ہے تو ان سے کرو جن کو ووٹ دیتے ہو یا اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی سے کرو جن کی حکومت ہے۔ کیونکہ یہ کام سول حکومت کا ہی ہوتا ہے۔
پاک فوج اگر اپنے طور پر کچھ تعمیر نو کر بھی رہی ہے تو بلاشبہ یہ اسکا احسان ہے۔

جب تک ان سوالات کے جوابات نہیں ملتے ان میں سے کس مطالبے کو جائز اور درست قرار دیا جا سکتا ہے؟؟؟

جو الو کے پھٹے یہ راگ الاپتے ہیں کہ منظور کا کون سا مطالبہ غیر آئینی ہے؟؟

تو ان سے عرض ہے کہ آئین کی رو سے آپ پاکستان کے خلاف بغاوت کا اعلان نہیں کر سکتے نہ ہی قومی سلامتی کے اداروں اور پاک فوج پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کوئی الزام لگا سکتے ہیں۔ ” ٹھوس ثبوت” سے مراد وہ ثبوت جسے آپ عدالت میں ثابت کر سکیں۔

” دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے”
” پاکستان سے نفرت ہے”
” پاک فوج نے ہمارے لوگوں کو اٹھایا”
” پاک فوج نے بارودی سرنگیں بچھائیں ”

وغیرہ وغیرہ

یہ سارے نعرے، الزامات اور اعلانات بغاوت اور بدترین آئین شکنی ہی ہے اس لیے یہ راگ الاپنا بند کرو کہ کون سا مطالبہ غیر آئینی ہے۔

سنا ہے کے پی کے اور بلوچستان میں ” منظور پسکین” کے بندوں نے اکا دکا پنجایوں پر حملے بھی شروع کر دیئے ہیں۔ جواباً پنجاب میں بھی را کی ہدایات پر چلنے والے ن لیگی پشتونوں کے خلاف کاروائیوں کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔

یہ بدبخت لوگ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ پاکستان میں خانہ جنگی شروع نہ کروا دیں۔ آپ جو مرضی کر لیں آپ ان کو خوش اور راضی نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ ان کا مقصد پشتونوں کا تحفظ نہیں بلکہ پاکستان کی تباہی ہے!

تحریر شاہدخان

یہ بھی پڑھیں

پشتون مومنٹ کے اعتراضات اور ان کے جواب۔۔۔۔!!!

1-: ہمیں ستر برسوں کا حساب چاہیے ، فاٹا کے ساتھ ریاست نے ہمیشہ ناانصافی کی ہے، “منظور پشتون ”
جواب۔
ہاں فاٹا کے ساتھ کے ناانصافی ہوئی ہے ، اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو گزشتہ ستر سال سے پختونوں کا خون چوس رہے۔ آپ حساب مانگے نہ اسفندیار ولی ، محمود اچکزئی ، فضل الرحمٰن سے یہ سب پختونوں کی تباہی میں برابر کے شریکِ ہیں، بدقسمتی سے یہ پختونوں کا خون چوسنے والے آپ کے دائیں بائیں موجود ہیں۔

2-: فوج نے فاٹا، وزیرستان برباد کیا ھے ، پورے ملک میں دہشتگردی کروانے والی خود فوج ہے۔ ” منظور پشتین”
جواب۔
ارے واہ یعنی کے ان دس پندرہ ہزار فوجیوں کی قاتل فوج خود ہے جو دہشتگردی کی بھینٹ چڑے، فوج نے خود اپنے ہزاروں افسران ذبیحہ کروائے، فوجیوں نے خود اے پی ایس پر حملہ کر کے اپنوں بچوں کہ گلے کاٹے، منظور پشتین صاحب آپ کے خیال میں کراچی میں بیس بیس بوری بند لاشیں گروانے والی فوج خود تھی۔

ویسے کتنی پاگل فوج ہے ، جو دہشتگردوں سے گولیاں کھاتی ہے اور عوام سے گالیاں ، آپ کی نظر میں یہ سب کچھ پیسے کے لیے کیا جاتا ہے، حضور دس بیس ہزار مجھ سے لے کر اپنے کسی گھر والے کا سر کاٹ دو؟؟؟ کیا خیال ہے منظور صاحب ؟؟؟

3:- اب پشتونوں کو جاگنا ہوگا ، پنجابیوں کو سبق سکھانا ہوگا، پنجابیوں نے ہمیں تعلیم اور ترقی سے دور رکھا
“علی وزیر منظور پشتون کا قریبی ساتھی ”
جواب:-

مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ پنجابیوں نے آپ کو ترقی سے کیسے دور رکھا، گزشتہ ستر سالوں میں کسی ایک پنجابی کا نام بتا دو جسے تم نے ووٹ دیا ،

باچا خان ، ولی خان ، محمود اچکزئی ،اسفند یار ولی، فضلِ الرحمن ، وہ گدھ ہیں جنہیں تم ستر سال سے اپنے اوپر مسلط کیے ہوئے ہو، ہمت ہے تو ان کا گریبان پکڑو جو پشتونوں کو گدھ کی طرح نوچ کر کھا گئے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تم انہیں کے اشاروں پر ناچ پر پاکستان کو گالیاں دے رہے ہو۔

4:- چیک پوسٹیں ختم کی جائیں ، پنجابی افسران چیک پوسٹیں پر پشتونوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ منظور

جواب :-
فوج میں کوئی پنجابی سندھی نہیں ہوتا ، دوسری بات چیک پوسٹیں تمھاری ہی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیںِ ،
چیک پوسٹوں کے خاتمے کے بعد افغانستان میں موجود دہشتگرد دوبارہ پاکستان آگئے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ۔
جس دور میں لوگوں کی لاشیں بازاروں میں لٹکا دی جاتی تھیں ، اس دور سے چیک پوسٹیں ہزار درجے بہتر ہیں۔

5:- ہم لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں ، ہمیں امن چاہیے ، فوج ہمیں غدار کیوں کہتی ہے، منظور پشتون

جواب-
محترم حقوق مانگنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے ، یہ کونسے حقوق ہیں جن کے لیے آپ کے پاکستان اور قائداعظم کو گالیاں دے رہے ہیں ، ہمیں بھی بتا دیں لڑ او بر افغان کا نعرہ مار کر ہندوستان کے پرچم اٹھا کر آپ کن حقوق کی بات کر رہے ہیں

منظور پشتون صاحب کوئی کسی کو غدار نہیں کہتا یہ فتوے حقوق مانگنے پر کبھی نہیں لگتے ، ایک سال پہلے آپ کہ ہی صوبے کی حکمران جماعت نے ملک کے وزیراعظم کو نااہل کروا کر گھر بھیجا ، پرویز خٹک، عمران خان نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کتنے دھرنے دیئے ، کسی نے ان کو غدار کہا؟؟؟

اگر یہی عمران خان آپ کے عمر داؤد کی طرح بھارت کا جھنڈا اٹھاتا ، اگر عمران کے سپورٹر آپ کے حمایتیوں کی طرح پاکستان اور قائداعظم کو گالیاں دیتے تو یقیناً انہیں بھی گالیاں ہی پڑنی تھیں،

6:- سوچ رہے ہیں کہ آٹھ اکتوبر کے جلسے میں پاکستان کا جھنڈا بطور احتجاج نا لہرائیں ۔۔ علی وزیر۔

جواب :-
سیدھی طرح کہیں نہ کہ آپ آہستہ آہستہ محمود اچکزئی کا پیسہ حلال کرنا چاہتے ہیں ، بے شرمی اور منافقت کی بھی اک حد ہوتی ہے ، خدا کا خوف کرو یہ حقوق کے نام پر کیوں معصوم لوگوں کا خوں بہانا چاہتے ہو، اگر تمہیں پاکستان کے جھنڈے سے اتنی ہی نفرت ہے تو اپنی نوکریاں ، تعلیمی اسناد ، جائدادیں ، گاڑیاں گھر پیسہ بھی بطور احتجاج چھوڑ دو ۔ تم لوگوں کا مقصد اگر پختونوں کو حقوق دلوانا ہوتا تو کبھی بھی تم محمود اچکزئی کی چوکھٹ پر نا بیٹھتے

دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں کی نسبت پاکستان زیادھ پر امن ، بس تم لوگوں سے یہ امن برداشت نہیں ہوتا