تفصیلات کےمطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورنے میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعظم کے انٹرویو کے دوران پاک فوج سے متعلق ان کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب وزیراعظم کا انٹرویو نشر ہوا تو میں نے وہ انٹرویو دیکھا اور جب اس پر میڈیا میں سوالات اٹھے تو میں انٹرویو پھر دیکھا اور اب میڈیا بریفنگ میں آنے سے قبل دوبارہ دیکھ کر آرہا ہوں ۔ وزیراعظم کے انٹرویو کے دوران ان کا پاک فوج سے متعلق بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ وزیراعظم نے جب پاک فوج کے حوالے سے بات کی تو پہلے کیا بات چل رہی تھی۔جب وزیراعظم کا انٹرویو نشر ہوا تو میں نے وہ انٹرویو دیکھا اور جب اس پر میڈیا میں سوالات اٹھے تو میں انٹرویو پھر دیکھا اور اب میڈیا بریفنگ میں آنے سے قبل دوبارہ دیکھ کر آرہا ہوں ۔ وزیراعظم کے انٹرویو کے دوران ان کا پاک فوج سے متعلق بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ وزیراعظم نے جب پاک فوج کے حوالے سے بات کی تو پہلے کیا بات چل رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کسی بھی بات کی منفی اور اپنی مرضی کے مطابق تشریح کی جائے۔ وزیراعظم کے کہے کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا گیا جبکہ ان کا کچھ اور کہنا تھا۔ واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال پوچھا گیا تھا کہ وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں پاک فوج کے پی ٹی آئی اور اس کے منشور کیساتھ کھڑا ہونے کی بات کی ہے جبکہ پاک فوج ریاست کا ادارہ ہے وہ کیسے کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرسکتا ہے۔