کویت میں گذشتہ جمعہ کو تقسیم کیے گئے خطبے میں یوگا کو الحاد کی علامت اور خواتین کو دی جانے والی آزادیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس پر اس خلیجی ریاست میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

نمازِ جمعہ کا یہ خطبہ وزارت اوقاف کی جانب سے ائمہ اور خطباء میں تقسیم کیا گیا تھا ۔اس میں یہ کہا گیا تھا کہ ’’ملحدین نے انسانی ذہن کو مقدس بنا دیا ہے اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یوگا کے عمل کے ذریعے وہ خدا کی طرح کی توانائی حاصل کرسکتے ہیں ‘‘۔

’’ وہ اس کو عظیم توانائی یا جذبی قانون یا یوگا یا جسمانی سرگرمی یا دوسری اصطلاحوں سے پکارتے ہیں لیکن اس سے وہ اہلِ عقیدہ کو بے وقوف نہیں بنا سکتے اور صرف ان ہی کو گم راہ کرسکتے ہیں جو اپنے دین سے ناآشنا ہیں ‘‘۔ خطبے میں مزید کہا گیا۔

اس میں ملحدوں کی جانب سے یوگا کو فروغ دینے کی بھی مذمت کی گئی تھی۔کویتی اخبار الجریدہ کی رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگوں نے اس خطبے کے مندرجات پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوگا کے خلاف ان کلمات سے معاشرے میں انتہا پسندوں کو شہ مل سکتی ہے اور وہ یوگا کی تعلیم دینے والے لائسنس یافتہ اداروں کو حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں ۔

اس خطبے میں خواتین کو آزادی دینے کے مطالبات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ اس طرح کے مطالبات کا مقصد خواتین کو شرم وحیا کو ترک کرکے ملحدانہ عادات اور طرز زندگی اختیار کرنے کی جانب راغب کیا جارہا ہے۔اس کے نتیجے میں معاشرے میں اخلاقی بے راہ روی پھیلے گی۔

وزارت اوقاف کے انڈر سیکریٹری نے اپنے طور پر اس تاثر کو ذائل کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہےکہ خواتین کے امور کا اس طرح ذکر نہیں کیا گیا تھا۔تاہم یہ خطبہ آن لائن دستیاب ہے اور اس میں واضح طور پر خواتین کی آزادی کا ملحدانہ عادات سے ناتا جوڑا گیا ہے۔

کویتی پارلیمان کے رکن احمد الفضل نے بھی اس خطبے کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہناہے کہ ’’ اس طرح کے خطبات ہمیں دس سال پیچھے لے جائیں گے۔وزیر اوقاف کو اس معاملے کی تحقیقات کرانی چاہیے اور انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خطبہ مساجد میں بھیجنے کا ذمے دار کون ہے؟‘‘ان کا کہنا تھا کہ’’ لوگوں کو الگ تھلگ کرنا اور سوچ کو محدود کرنا دانشورانہ دہشت گردی ہے‘‘۔