کورونا وائرس کی وبا عالمی سیاحت پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کورونا وائرس کی وبا عالمی سیاحت پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگل میں بلڈوزر کام کررہا ہوتا ہے۔ اسی وقت اس کا آپریٹر دیکھتا ہے کہ ایک چمگادڑ کیلا کھا رہی ہے۔ جوں ہی بلڈوزر قریب پہنچتا ہے تو یہ چمگادڑ اڑ جاتی ہے اور اس کا کھایا ہوا آدھا کیلا نیچے گرتا ہے۔ یہ کیلا ایک سور کھا لیتا ہے۔ شکاری شکار کرتے ہیں اور اس سور کا گوشت مکاؤ کے ایک ریسٹورنٹ میں پہنچ جاتا ہے۔ ریسٹورنٹ کا شیف اس کا گوشت تیار کررہا ہوتا ہے، اسی وقت ایک عورت اس سے ملنے آتی ہے۔ شیف بغیر ہاتھ دھوئے اس عورت سے مصافحہ کرتا ہے۔ اس ملاقات کے بعد وہ عورت بیمار ہوجاتی ہے، اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگ سڑکوں پر گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ سڑکیں، بازار، گلیاں سب ویران ہوجاتے ہیں۔ ہفتوں کے اندر اندر ڈھائی کروڑ انسان جان دے دیتے ہیں۔

یہ 2011 میں بنائی جانے والی امریکی فلم ’’کانٹیجن‘‘ کی کہانی ہے۔ جو اس وقت حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ اس وقت دنیا ایک وائرس کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہے۔ اس وائرس کو کورونا کا نام دیا گیا ہے۔

چینی شہر ووہان میں دسمبر 2019 میں نمودار ہونے والا یہ وائرس چند ہی ہفتوں میں ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ چین میں اس وائرس سے تین ہزار کے لگ بھگ افراد مارے جاچکے ہیں اور دنیا بھر میں 80 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے متاثرہ شہر ووہان کا ملک کے دوسرے علاقوں سے زمینی اور فضائی رابطہ منقطع ہے۔ اس کے مکین محصور ہوکررہ گئے ہیں، جبکہ دنیا کے بہت سارے ملکوں کی فضائی ٹرانسپورٹ کی کمپنیوں نے چین کےلیے اپنی پروازیں بھی بند کردی ہیں۔

یہ وائرس چین سے نکل کر 33 ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ جہاں جہاں چین سے نکلنے والے لوگ پہنچ رہے ہیں، وائرس بھی ان کے ساتھ جارہا ہے۔ ایران میں بھی وبائی شکل اختیار کررہا ہے اور تادم تحریر ایران میں اس سے ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ ہوچکی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان نے متاثرہ افراد کے آنے کے خطرے کے پیش نظر ایران کے ساتھ سرحد بند کردی ہے۔ ملحقہ اضلاع میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی ہے۔ اٹلی میں 10 ساحلی شہروں کو بند کردیا گیا ہے۔ بحری جہاز کو سمندر میں روک دیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر بڑی تعداد میں کورونا وائرس سے متاثرہ لوگ موجود ہیں۔ بھارت، افغانستان میں بھی کرونا سے متاثرہ افراد ہونے کا خدشہ ہے۔ جنوبی کوریا میں بھی سیکڑوں لوگ اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے دنیا کو خبردار کیا ہے اس وائرس سے بچاؤ کے اقدامات نہ کیے گئے تو بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اس ادارے کے سربراہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کو تاحال عالمی وبا نہیں قرار دیا، لیکن دنیا کے ممالک کو ہر وہ اقدام کرنا چاہیے جو ایک ممکنہ عالمی وبا کو روکنے کےلیے کیا جاتا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا عالمی سیاحت پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ اس سے چین کی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کی رپورٹ کے مطابق سیاحت نے 2018 میں عالمی معیشت میں 8.88 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کیا تھا۔ کچھ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ اس وبا سے مالی بحران کے بعد عالمی معاشی نمو میں سب سے بڑی کمی آسکتی ہے۔ صرف ایئر لائنز کو ہی اس سال 29 بلین ڈالر کی آمدنی کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

چین معیشت کے لحاظ سے بڑی عالمی طاقت ہے۔ اس کی معیشت کو بریک لگ گئی ہے۔ چین کے ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں۔ چین نے خطے میں ون بیلٹ، ون روڈ منصوبے کا آغاز کر رکھا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے چینی لوگ کسی ملک میں نہیں جا پارہے۔ چینی لوگوں کی نقل و حمل رکنے سے ون بیلٹ، ون روڈ اور پاکستان میں سی پیک کی رفتار میں کمی آچکی ہے۔ ہمسایہ ممالک کی سیاحت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک نے چینی سیاحوں کو روک دیا ہے۔ اب ایئر لائنز، ہوٹلوں اور ٹور آپریٹرز بھی معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ تیزی سے بیروزگاری پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ویتنام، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ملائیشیا اور سنگاپور وہ ممالک ہیں جنہوں نے چینی سیاحت پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔ ان ممالک کی سیاحت سے متعلق آمدنی میں کم از کم تین بلین ڈالر نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب چین کورونا وائرس کی کہانیاں سنسر کررہا ہے۔ اس سنسرشپ کی وجہ سے انسانوں کے بنیادی حقوق سلب ہورہے اور لوگوں تک صحیح معلومات بھی نہیں پہنچ پارہی ہیں۔ چین میں پھنسے لوگوں کی صحیح معلومات ان کے پیاروں تک نہیں پہنچ پارہیں۔ چین میں یوٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو محدود کردیا گیا۔ ان نیٹ ورکس پر پابندیاں لگادی گئی ہیں۔ ایسی صورتحال دوسرے ممالک میں دیکھی جارہی ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے لگائی جانے والی ویڈیوز، پوسٹوں کو ہٹایا جارہا ہے۔

پاکستانی حکومت نے ابھی تک بھرپور کوشش کرکے مختصر مدت میں اِس وائرس کو پاکستان آنے سے روک رکھا ہے اور تاحال پاکستان میں کوئی کنفرم کیس نہیں ہے۔ لیکن طویل مدت کےلیے اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے ہم اپنے نظامِ صحت کو مضبوط کرنے کو ایک قومی ضرورت بنائیں اور اپنے لوگوں اور ملک کےلیے ہیلتھ سیکیورٹی یقینی بنائیں۔

یہاں ایک سوال موجود ہے کہ یہ وائرس خودبخود پھیلا یا کہ کسی دشمن کی طرف سے پھیلایا گیا؟ روسیوں کا خیال ہے کہ اس وبا کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے، جبکہ امریکی اسے سختی سے مسترد کررہے ہیں۔ روسی الزامات کو ایک لحاظ سے تقویت بھی ملتی ہے کہ امریکا اس سے پہلے اس حوالے پروپیگنڈا کرچکا ہے۔ اس وقت یہ وبا ان ممالک میں پھیل رہی ہے جن سے امریکا کو مسئلہ ہے۔ جلد یا دیر سے اس کا پتہ بھی چل جائے گا کہ اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ لیکن اس وقت اس وائرس کی روک تھام کےلیے کچھ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ عالمی جنگو ں سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز