کوالالمپور(92نیوز رپورٹ ،نیٹ نیوز ) ملائیشیا میں ہونے والی کوالالمپور سمٹ 2019 اختتام پذیر ہو گئی، امت مسلمہ کی مشترکہ گولڈ کرنسی، بارٹر سسٹم کے تحت تجارت ، اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے انگریزی زبان میں اسلامک ٹی وی چینل، تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، علم اور دیگر شعبہ جات میں باہمی تعاون جیسے اہم شعبوں میں تعاون پر اتفاق رائے ہوگیا،سمٹ میں مسلمانوں کے خلاف بھارتی شہریت کے نئے قانون کی مذمت بھی کی گئی ،اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سمٹ کے چیئرمین اور ملائیشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر بن محمد نے اوآئی سی کا نام لیے بغیرکہا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ وہ کسی دوسری اسلامی تنظیم کے مقابلے میں نیا اسلامی اتحاد بنا رہے ہیں،عمران خان کے سمٹ میں موجود نہ ہونے پر افسوس ہے امیدہے آئندہ آئیں گے ،مقبوضہ کشمیر پر اپنے موقف پرقائم ہیں، ایران، ملائیشیا، ترکی اور قطر مستقبل میں اقتصادی پابندیوں کا راستہ روکنے کے لیے باہمی تجارت سونے اور چیزوں کی لین دین (بارٹر سسٹم) کی صورت میں کرنے پر غور کر رہے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق مہاتیر محمد نے اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے پر ایران اور قطر کی تعریف کی اور کہا کہ مسلم دنیا کے لیے اہم ہے کہ وہ مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خود انحصاری پر توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں جب دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ کچھ ممالک یکطرفہ فیصلے کرکے دیگر ممالک کے خلاف ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں جن کا مقصد انہیں سزا دینا ہو، ملائیشیا اور دیگر ممالک کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے اقدامات ہم میں سے کسی کے خلاف بھی اٹھائے جاسکتے ہیں۔کانفرنس میں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے اور اسے ایک دوسرے کی کرنسی میں کرنے پر اتفاق کیا۔ مہاتیر محمد نے مزید کہا کہ ہمیں خوشی ہوتی اگر عمران خان ہمارے ساتھ موجود ہوتے ،عمران خان کے سمٹ میں موجود نہ ہونے پر افسوس ہے ،جنیوا میں طیب اردوان ،عمران خان اور میں نے امت مسلمہ کی فلاح کیلئے کام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا،ہمیں امیدہے کہ آئندہ ہم مل کرکام کرینگے ،کشمیرکے حوالے سے نمائندہ 92نیوزکے سوال کے جواب میں ملائیشیاکے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہامقبوضہ کشمیر پر اپنے موقف پرقائم ہیں،مقبوضہ کشمیر سمیت تمام مسلمانوں کو انسانی حقوق کے مطابق زندہ رہنے کیلئے حق ملناچاہئے ،نمائندہ 92نیوزکے کے ایل سمٹ کے اعلامیہ میں کشمیرکاذکرنہ ہونے کے سوال کے جواب میں مہاتیر محمد نے کہا کشمیرکانام نہ لینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم پروانہیں کرتے ،میں نے ذکرنہیں کیا تاہم کنگ سلطان نے ان لوگوں کا ذکرضرورکیاجومحصورہیں اورجنہیں اپنے ملک سے نکالاجارہاہے ،ہمیں تشویش ضرورہے ،میں نے دیگرفورمزپربات کی کہ قبضہ اورجارحیت سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع حل نہیں ہوسکتا،تمام تنازعات مذاکرات،ثالثی اورقانون کے مطابق حل ہونے چاہئیں،مہاتیرمحمد نے نئے بھارتی شہریت قانون کی شدیدمذمت بھی کی۔ملائیشین ریاست پیرک کے سلطان اور تقریب کے مہمان خصوصی سلطان نظرین شاہ سلطان اذلان شاہ نے کہا کہ آج اسلامی ممالک میں معاشی زبوں حالی ، دہشتگردی اور دیگر وجوہات کی بنا پرمسلمان غیر اسلامی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ، ان بے گھر اور مجبور مسلمانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا،سمٹ کے اختتامی تقریب میں ملائیشیا، ترکی، ایران، فلسطین ،قطر ، شام ، انڈونیشیا ،برونائی اور افریقہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے سکالرز ،سائنٹسٹ ، ماہرین تعلیم ،ماہرین معاشیات سمیت سفارتکاروں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔ہفتہ کو چار روزہ اجلاس کا آخری دن تھا تاہم اس کا کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

https://roznama92news.com/%DA%A9%D9%88%D9%BE%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%B3%DA%A9%D8%B1-%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%B1-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%DA%A9%D8%A7%D9%85%D8%AA-%D9%85%D8%B3%D9%84