‘او آئی سی’ کے متوازی تنظیم کے قیام کی کوشش عالم اسلام کو کمزور کرے گی

اسلامی تعاون تنظیم’او آئی سی’ نے ملائیشیا کی میزبانی میں ہونےوالی اسلامی سربراہ کانفرنس کو اجماع امت سے باہر نکلنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف العثیمین نے کہا ہے کہ تنظیم کے فورم سے باہر اس کے متوازی کوئی بھی تنظیم یا فورم قائم کرنے سے مسلم مہ اور عالم اسلم کم زور ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں یوسف العثیمین نے کہا کہ کوالالمپور میں اسلامک فورم کا قیام اس میں شرکت عالم اسلام کے قافلے سے باہر نکل کرشور مچانے کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ ملائیشیا کی میزبانی میں اسلامی کانفرنس جاری ہے جس میں ترکی، ایران، انڈونیشیا، الجزائر اور قطر شرکت کررہے ہیں۔ یوسف العثیمین کا کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم پوری دنیا کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے اور اس کا میکینزم اس کے اندر کسی بھی اجتماع اور اجلاس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عالم اسلام کی سطح پرکوئی بھی ایکشن او آئی سی کے فورم سے کیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف ملائیشیا کےوزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ان کا ملک ماجلاس کے ذریعے او آئی سی کے متبادل کسی نئے فورم کے قیام پرکام نہیں کررہا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعریز سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ او آئی سی کے کردار اور اس کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوالالمپور اجلاس میں عالم اسلام کو درپیش مسائل اور ان کےحل پر بات چیت کی جائے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا نے اس اجلاس میں شرکت سے آخری وقت میں معذرت کرلی ہے جب کہ ترکی، قطر اور ایران اس میں شرکت کر رہے ہیں۔

العربیہ