کوئی بیٹی ایسا بھی کر سکتی ہےکسی نے سوچا تک نہ ہو گا،

29

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن میں موجود ہیں۔نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ اپنی اہلیہ کی طبیعت کے حوالے سے تشویشناک اطلاع پر فوری طور پر پاکستان سے لندن چلے گئے تھے۔ لندن پہنچ کر مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر

اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ ہم 5ماہ کے طویل عرصے کے بعد امی سے ملاقات کر رہے ہیں ان کی رنگ پیلی اور وہ کمزور ہو چکی ہیں۔ تاہم بیگم کلثوم نواز کی صحت سے متعلق ایک خاتون ملیحہ ہاشمی جو کہ سماجی کارکن ہونے کے ساتھ موٹیویشنل اسپیکر بھی ہیں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کو برطانیہ میں موجود ان کے ایک صحافی دوست نے بتایا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کا علاج مکمل ہو چکا ہےاور وہ پاکستان آنا چاہتی ہیںلیکن مریم نواز نے اپنی والدہ کی خواہش کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اور انہیں تلقین کی ہے کہ وہ لندن میں ہی رہیں نہیں تو مریم نواز کو ہمدردی کی بنا پر ووٹ نہیںملیں گے۔ملیحہ ہاشمی نے اس بات کا انکشاف اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر اپنے پیغام میں کیا ہے۔دو روز قبل لندن روانگی سے پہلے جہاز میں سوار ہونے سے چند لمحے پہلے مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں لندن سے واپسی کی تاریخ کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئےکہا کہ ہے کہ والدہ کی عیادت کیلئے لندن جا رہے ہیں،اگراستثنیٰ نہ ملا تو اگلی پیشی سے پہلے واپس آجائیں گے۔ اپنے پیغام میں مریم نواز نے اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کیلئے قوم سے دعا کی بھی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بیگم کلثوم نواز کو طبیعت ناساز ہونے پر گھر سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ، بیگم کلثوم نواز کی بگڑتی ہوئی
صحت کی خبر آتے ہی نواز شریف ، مریم نواز اور خاندان کے دیگر افرادلندن کیلئے روانہ ہو گئے ہیں۔۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی کیلئے22 اپریل کی بکنگ کرائی گئی ہے۔

A journalist friend in UK just shared the news abt Kulsum Nawaz wanting to come back to Pakistan as her treatment is over after recovery but Maryam Nawaz DISMISSING her mother’s request & telling her to stay there in London otherwise Maryam’s sympathy vote will be lost. How mean!

— Maleeha Hashmey (@MaleehaHashmey) April 12, 2018