بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی۔معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کشمیر کے مسئلے پر بھارتی موقف کی تائید کرنے سے انکار کردیا۔\

معروف اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر پر اٹھائے اپنے غیر آئینی اور غیر انسانی قدم پر ان کی حمایت کے بدلے ان کے خلاف بنائے گئے تمام جعلی مقدمات ختم کرنے اور بھارت واپس آ کر تبلیغ کا کام شروع کرنے کی پیش کش کی جس کو انہوں نے ٹھکرا دیا۔

ڈاکٹر ذاکر نائک نےمزید بتایا کہ بھارت کی جانب سے جو عہدیدار ان کے پاس آئے وہ نا صرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کر کے آئے بلکہ نریندر مودی اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شا کے براہ راست حکم پر ان سے ملنے آئے تھے ۔ بھارتی عہدیداران کا کہنا تھا کہ مودی سرکارمسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے ڈاکٹڑذاکر کے روابط کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات کئی گھنٹوں تک جاری رہی ۔ اس میں ان سے 05 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے فیصلے کی حمایت کرنے کو کہا گیا۔

جس پر انہوں نے جواب دیا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا نا صرف غیر آئینی ہے بلکہ یہ قدم کشمیریوں کے حقوق بھی پامال کرتا ہے، جس کی وہ کسی صورت حمایت نہیں کر سکتا،

ڈاکٹر ذاکر نائک کا کہنا تھا کو جب مودی سرکار کے نمایندوں نے جان لیا کہ وہ کسی صورت کشمیر پر ان کی حمایت حاصل نہیں کر سکتے تو انہوں نے کہا کہ آپ نے جس ایجنسی یا ادارے کے خلاف بولنا ہے بولیں بس بی جے پی سرکار اور خاس طور پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کچھ نہ بولیں.